نواز شریف کو کیوں فی الفورمستعفٰی ہونا چاہیے؟
کیا نواز شریف بڑے سیاسی رہنما ہیں؟ نہیں بالکل نہیں ، انہوں نے چند دن جیل دیکھی اور پھر آٹھ سال کے لیے وطن بدر ہو گئے ۔ وہاں شاہی مہمان رہے ۔ انہوں نے کوئی بڑی قربانی نہیں دی۔۔
تو پھر بڑا سیاسی رہنما کون ہے؟ بھٹو ان سے بڑے لیڈر تھے۔ پھانسی ہو گئی ۔ بی بی ان سے بڑی لیڈر تھیں۔ شہید ہو گئیں۔ سیاست میں بڑا رہنما کون ہوتا ہے؟
پاکستانی سیاست میں بڑا رہنما وہ ہوتا ہے جو جان کی قربانی دے دے۔ جیلوں میں جائے۔ تشدد سہے ۔ ظلم کے پہاڑ اس پر توڑے جائیں۔ کوڑے مارے جائیں۔ پھر جا کر ایک بڑا سیاسی رہنما بنتا ہے۔
لیکن جب ایک رہنما کو شہید ہی کر دیا جائے تو وہ بڑا سیاسی رہنما کیسے بن سکتا ہے؟ وہ تو مر گیا؟
نہیں وہ مر نہیں گیا وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ اس کے نام سے عمارتیں اور سڑکیں منسوب ہو جاتی ہیں۔ عوام اس کے لیے بین کرتے ہیں۔ اس کے نام سے چوکوں کے نام رکھے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ بڑا سیاسی رہنمابن جاتا ہے۔
لیکن اس سے قوم کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ وہ تو مر گیا!
قوم اس کے نام پر اس کی پارٹی کے جلسوں میں جاتی ہے۔ اس کے اقوال پر جھومتی ہے۔ اس کے نعروں پر گلے پھاڑتی ہے ۔ تاریخ میں اس کا نام آ جاتا ہے۔ دوسرے ممالک میں وہ قوم کا تعارف بن جاتے ہیں۔
اچھا یہ بتائیے کہ جیل سے باہر اور۔۔ زندہ سانس لیتا ۔۔سیاسی رہنما ۔۔بڑا ہو سکتا ہے؟
نہیں زندہ اور سانس لیتا سیاسی رہنما ایک جونک کی مانند قوم کے وسائل چوس جاتا ہے۔ زندہ سیاسی رہنما سے غلیظ مخلوق دنیا میں کہیں نہیں بستی۔ زندہ سیاسی رہنما کے دشمن ملک کے ساتھ اندر ہی اندر روابط ہوتے ہیں۔ زندہ سیاسی رہنما کے بس میں نہیں ہوتا کہ کس طرح ملک کو بیچ دے اور دشمن ملک کے حوالے کر دے۔ زندہ سیاسی رہنما، روزانہ اربوں روپے کرپشن کی مد میں کما کر جہاز بھر بھر کر باہر بھیجتا رہتا ہے۔ زندہ سیاسی رہنما، ملک کے اداروں کا دشمن ہوتا ہے وہ وطن عزیز (میری جان اس پر قربان) کے مضبوط اداروں کو کھوکھلا کر کے دشمن کے عزائم کو کامیاب بنانے کی دن رات جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ان اداروں کی وجہ سے ہی وطن عزیز (میری جان اس پر قربان) کی عمر کا تخمینہ کہیں روز قیامت کے آس پاس لگایا جاتا ہے (چند دن اوپر نیچے ہو سکتے ہیں)
کیا یہ خصوصیات ہر زندہ سیاسی رہنما کے ساتھ منسوب کی جا سکتی ہیں ٗ چاہے قوم کی بھاری اکثریت اس کو منتخب کرے؟
بالکل ہر زندہ سیاسی رہنما ملک دشمن ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے ہر وہ زندہ سیاسی رہنما گھٹیا اور ملک دشمن ہوتا ہے جو بر سر اقتدار ہو۔ نفرت کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے بنیادی شرط ۔۔۔ برسراقتدار ہونا ہے۔
حل کیا ہے؟
ہر زندہ سیاسی رہنما جب بھی اقتدار میں آئے اس سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے پوری قوم کو سڑکوں پر آجانا چاہیے۔ قوم کو بتایا جانا چاہئے کہ ملک اس وقت تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے صرف زندہ سیاسی رہنما کے استعفٰی میں ہی ۔۔۔۔
ملک کے بقا کی ضمانت چھپی ہے!
بھٹو اور بی بی شہید بڑے لیڈر تھے؟
جی
اچھا! تو پھر ان کے ادوار حکومت میں اس سے استعفیٰ کا مطالبہ کیو ں کیا جاتا رہا۔۔؟
کیونکہ اس وقت وہ زندہ تھے!


