خوارج کا سچ اور سوفسطائی جھوٹ


ایک طالب علم ہونے کے ناتے میں فرنود عالم کے علم کا معترف ہوں اور اس سے بھی زیادہ ان کی حریت فکر کا مداح ہوں۔ اساتذہ نے بتایا تھا کہ کسی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے یہ یقین کر لیں کہ آپ کے پاس پڑھنے والے کو دینے کے لئے کچھ حقائق، کوئی دلائل اور کوئی مرتب موقف ہے یا نہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق آج کل لکھنے والے اس ضمن میں کم ہی تردد کرتے ہیں۔ بہت سی تحریروں پر اسکول کالج کے تقریری مقابلوں کا گمان ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کی تحقیق کا تردد ہم نہیں کرتے۔ املا، صرف و نحو، تذکیر و تانیث، محاورے اور روزمرے کا مردہ خراب کرنے کے لئے بنی بنائی دلیل موجود ہے کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ فرنود عالم کی تحریر ان عیوب سے پاک ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں پڑھنا بذات خود ایک ضیافت کا سامان ہوتا ہے۔

آج فرنود عالم نے 2002 کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ایم ایم اے کے ملاؤں کی اسناد کے بارے میں کچھ حقائق بیان کئے ہیں۔ میرا ایک سوال ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی اہلیت کے مختلف درجے ہوتے ہیں اور ان میں مساوات (équivalence) کے ضابطے بھی موجود ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ کے فضل سے ہم ایک آزاد ملک ہیں اور اپنے ملک میں جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ کیا وفاق المدارس اور اس نوع کے دیگر اداروں کی جاری کردہ اسناد کو دنیا کے کسی بھی ملک میں یونیورسٹی گریجویشن کے مساوی تسلیم کیا گیا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر کیا 60 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کو محض سیاسی اسباب کی بنا پر ایسی تعلیمی اہلیت عطا کر دی گئی جس کا کوئی معنی ہی نہیں تھا۔

بیرونی دنیا تو خیر ہم سے دشمنی پر کمر باندھے ہوئے ہے۔ کیا پاکستان میں کسی نجی صنعتی یا تجارتی ادارے نے ملازمت کے لئے ان اسناد کو باقاعدہ تعلیمی اہلیت کے طور پر قبول کیا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ایسا اقدام پرویز مشرف کی تئیں بدعنوانی کے ذیل میں نہیں آتا تھا۔ تاہم جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف ایک آمر تھے اور ان کی آمریت کو عدالت عظمیٰ نے تین برس کی مدت کے لئے جائز قرار دیا تھا اس لئے پرویز مشرف کی ذات گرامی کے بارےمیں حساس سوالات اٹھانا مناسب نہیں۔

ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے مطابق جو شخص ووٹ دینے کی اہلیت رکھتا ہے وہ متعلقہ عہدے کے لئے امیدوار بھی ہو سکتا ہے۔ درحقیقت انتخاب میں امیدوار ہونا یا ووٹ دینا دراصل ایک ہی جمہوری عمل کے باہم متصل حصے ہیں۔ پرویز مشرف کی طرف سے گریجویشن کی شرط واضح طور پر شہریوں کے جمہوری حقوق میں مداخلت تھی۔  تاہم ان موشگافیوں سے ہٹ کر میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن علما نے 2002ء کے انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد اسناد حاصل کیں یا جاری کیں، کیا وہ آئین کی شقات 62-63 پر پورے اترتے ہیں۔ کیا انہین صادق اور امیں کہا جا سکتا ہے؟

ایک مبتذل سی بات ہے جسے معروف جمہوری اقدار کے مطابق سیہاسی مکالمے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لیکن چونکہ اس کا تعلق بھی دستور پاکستان سے ہے اس لئے پوچھنا چاہیے کہ کیا پرویز مشرف کا الکوحل استعمال کرنا پاکستان کے علما بالخصوص پارلیمنٹ کے دینی تشخص رکھنے والے ارکان کے علم میں نہیں تھا؟ اگر ان کے اشغال شبینہ کی وڈیو فلمیں سرعام دستیاب تھیں تو ان علما میں کسی نے بھی صدر پاکستان کے صادق اور امیں نہ ہونے کا سوال کیوں نہیں اٹھایا؟ کسی قانونی فورم پر دستک نہیں دی۔ عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ کیا یہ افراد اس غفلت (یا اغماض) کے باوجود صادق اور امین کہلائیں گے؟

مولوی سراج الحق 2002 کی صوبائی حکومت میں وزیر رہے۔ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ پاکستان کا صدر کہلانے والا شخص سرمجلس شعائر اسلامی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جب عدالت عظمٰی نے پوری پارلیمنٹ کو صادق اور امیں کے رتبے سے فروتر قرار دیتے ہوئے سراج الحق ساحب کو استثنیٰ دیا تو مولانا سراج الحق کو کیسے شرح صدر حاصل ہوا کہ وہ واقعی صادق اور امین کہلا سکتے ہیں؟

اسی نوعیت کا معاملہ ٹائرین وائٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ 1992 میں لاس انجلس کی عدالت نے عمران کو سیتا وایٹ کی بیٹی ٹائرین وائٹ کا حیاتیاتی باپ قرار دیا تھا۔ یہ معاملہ عمران خان کی ذاتی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اسے ایک خاص زاویے سے ان کے اعلیٰ کردار کا نمونہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ٹائرین وائٹ نے عمران خان کے جمائما خان صاحبہ سے پیدا ہونے والے دونوں بچوں کے ہمراہ پرورش اور تعلیم پائی۔ تاہم خالص قانونی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اگر عمران خان پاکستان کے دستور کی شقات 62 اور 63 کی بنیاد پر دوسرے ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت پر دسوال اٹھاتے ہپیں تو خود انہین کس بنیاد پر ٹائرین وائٹ والے معاملے میں شعائر اسلامی کی پابندی کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے۔

یہ ایسا معاملہ ہے کہ عمران خان کے علاوہ ان کی جماعت نے وہ تمام ارکان بھی 62 63 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں جنہوں نے اس معاملے پر چشم پوشی اختیار کی۔ جماعت اسلامی کے پی کے میں تحریک انساف کی اتحادی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی جماعت کس طرح ایک ایسی جماعت کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے جس کے سربراہ کی شعائر اسلامی کی خلاف ورزی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہو۔

حالیہ برسوں میں عراق اور شانم میں داعش کی طرف سے قیدی خواتین کو جنسی غلام بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان کے علما جو مختلف امور کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے پر حساس ردعمل دینے کی شہرت رکھتے ہیں، ان کی طرف سے ایک بھی بیان داعش یا نام نہاد مملکت اسلامیہ کے ان مظالم اور جرائم کے بارے میں سامنے نہیں آیا۔ داعش ہی کے ضمن میں ایک ضمنی نکتہ یہ  ہے کہ ابوبکر البغدادی نے خود کو خلیفہ قرار دیا۔ اس اعلان کے بعد ابوبکر بغدادی یا تو دنیا بھر کے مسلمانوں کا خلیفہ ہو سکتا ہے یا اس کا یہ اعلان باطل ہے۔ درمیان کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے علمائے کرانم نے اس اہم موضوع پر کوئی موقف اختیار کرنے کی بجائے مکمل خاموشی اختیار کی؟

Facebook Comments HS