احمد نورانی کو سزا ملنی چاہیے

میرے خیال میں احمد نوارنی نے معافی تو مانگ لی لیکن یہ کافی نہیں ہے، ان کو سزا بھی ملنی چاہیے اوریہ سزا غلط خبر دینے پر نہیں بنتی یہ سزا معافی مانگنے پر دینی چاہیے۔ ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں جھوٹ بولنا کوئی جرم نہیں ہے۔ تسلسل اور دھڑلے سے جھوٹ بولنے والے کو ہم بے باک اور بہادر کہتے ہیں۔ اپنی غلطی پر معافیاں مانگنے والے ہمارے ہاں مجرم، ڈرپوک اوربزدل کہلاتے ہیں۔ ہمیں نہ معافی مانگنے کی عادت ہے نہ سننے کا کوئی تجربہ ہے۔ ہم جانتے بوجھتے جھوٹ سنتے ہیں، اس سے لطف اٹھاتے ہیں اور اس کے غلط ثابت ہونے پر آزردہ ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں اچھے صحافی اپنی خبرکی تصدیق کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اپنے ذرائع کی برسوں پرداخت کرتے ہیں۔ ایک خبر کی تصدیق پر کام کرتے مہینوں بیت جاتے ہیں۔ تب کہیں جا کر سچ کا سرا ہاتھ میں آتا ہے۔ پھر ایڈیٹوریل بورڈ سے پنجہ آزمائی شروع ہوتی ہے۔ خبر کی صداقت کے لئے انہیں مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر ایک خبر اخبار یا ٹی وی کی زینت بنتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود خبر میں غلطی کا امکان رہ جاتا ہے۔ کبھی ذرائع دھوکہ دے جاتے ہیں۔ کبھی لفظ مطمع نظر کا ساتھ نہیں دیتے۔ کبھی حالات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ کبھی خبر کی تصدیق نہیں ہو پاتی اور غلط خبر چھپ جاتی ہے۔ ایسے میں صحافیانہ روایات کے مطابق یہ لازمی ہوتا ہے کی صحافی سرعام اپنی غلطی کا عتراف کرے۔ اپنے کیئے پر نادم ہو اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا اعادہ کرے۔ ایسا کرنا صحافی اور ادارے کی صحافیانہ ساکھ کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں جو ادارے اور صحافی ایسا نہیں کرتے وہ اپنی صحافیانہ قدر کھو دیتے ہیں اور جلد ہی پروپیگنڈا مشین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ دنیا بھر کا ذکر ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا اس سے بہت مختلف ہے۔
اس دیس میں جھوٹ کے پودے چند چینلز اور اخباروں میں لگائے گئے۔ انکی مکمل نگہداشت کی گئی تاکہ انکے زہریلے پھل کو ناظرین یا قارئین کے ذہنوں میں منتقل کیا جاسکے۔۔ یہاں جھوٹ سچ کا سوال کوئی نہیں کرتا۔ وٹس ایپ کی بیساکھیوں پر چلنے والے یہ صحافی خود رو پودوں کی طرح اگتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا جنگل اجاڑنے میں لگ جاتے ہیں۔۔ نفرت کے ان کاروباریوں میں معافی کا کوئی رواج نہیں ہے۔ غلطی کے اعتراف کا کوئی چلن نہیں ہے۔ یہ چند چینل روز یہ دکان سجاتے ہیں۔ اپنا اپنا سودا بیچتے ہیں۔ قیمت نقد میں وصول کرتے ہیں اور اگلے دن پھر بہتان کا نیا ٹوکر ا سر پر اٹھا کر جھوٹ کی منڈی میں آواز لگاتے ہیں۔
گزشتہ چار سالوں میں ہونے والی درجنوں بریکنگ نیوز ایسی ہیں جو غلط ثابت ہوئی ہیں۔ نمونے کے طور پر چند ایک درج ذیل ہیں۔ دھرنے کے دنوں میں یہ خبر چند چینلوں کی طرف سے یہ خبر بڑے وثوق سے دی گئی کہ چیف نے وزیر اعظم سے استعفی مانگ لیا ہے۔ چند مہینوں پہلے ایک اخبار کے فرنٹ پیج پر یہ خبر چھپی کہ نواز شریف اب صدر بننے لگے ہیں اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ خبر بھی چینلوں پر چلی وزیر اعظم کے دل کا آپریشن نہیں ہوا وہ لندن فرار ہو گئے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ایک اینکر نے خبر دی کہ چیف اور وزیر اعظم کی ون ٹو ون میٹنگ میں چیف صاحب نے وزیر اعظم کو شٹ اپ کہہ دیا۔ ایک صاحب نے پاناما کے دور میں قطر کے وزیر خزانہ سے اسحاق ڈار کی خفیہ ملاقات کی بریکنگ چلا دی۔ پانامہ کی ہنگامہ آرائی میں روز کاکڑ فارمولے کی خبر چند چینلوں سے سنائی جاتی رہی۔ یہ خبر بھی ہمارے چند چینلوں پر بریکنگ بن کر چلی کہ نواز لیگ نے سپریم کورٹ کے کمپوٹر ہیک کر کے پانامہ کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ دھرنے کے دنوں میں پارلیمنٹ پر حملہ کی رات تو شہباز شریف اور نواز شریف کے استعفی دینے کی بریکنگ گھنٹوں چلتی رہی۔ ایک صاحب روز اندر کی خبر لاتے ہیں کہ فوجی دستوں کو حکم دے دیا گیا۔ جمہوریت کی نیا ڈوب گئی ہے۔ وزیر اعظم صبح گرفتار ہو رہے ہیں۔ پھانسی کی سزا کا بھی امکان ہے۔ انہیں لوگوں کے حوالے سے معززچیف جسٹس پر طرف داری کا الزام لگا۔ قابل احترام آرمی چیف کی شخصیت پر بھی حرف اٹھایا گیا۔ پچھلے دنوں ایک اینکر نے بڑے تیقن سے خبر دی کہ امریکی سفارت خانے نے اپنے ملک کو پیغام دے دیا ہے کہ جون میں اعلی قیادت تبدیل ہوجائے گی۔ خبریں تو بہت سی ہیں لیکن مندرجہ بالا ان سب خبروں کے غلط ہونے کے باوجود ان میں سے کسی ایک کی بھی تردید کی گئی نہ معافی مانگی گئی نہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا گیا۔ اس لئے کہ یہ ہمارے ہاں چند اداروں میں یہ صحافتی رواج نہیں ہے۔ اس کاروبار دروغ کی وجہ صرف ابن الوقتی، ریٹنگ اور سستی شہرت نہیں ہے۔ یہ قصہ طویل ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک ڈکٹیٹر ایک جھوٹے کیس میں جمہوری حکمران کو پھانسی پر چڑھا دیتا ہے۔ نوے روز میں الیکشن کا جھوٹ بولتا ہے۔ گیارہ سال آئین اور عوام پر سواری کرتا ہے۔ جب وہ اپنے کیئے پر نادم نہیں ہوتا، اپنے جھوٹ پر شرمندہ نہیں ہوتا تھا، اپنے بھیانک جرم پر معافی نہیں مانگتا تو صحافیوں کو کیوں الزام دیں۔ ایک ڈکٹیٹر کروڑوں لوگوں کے ووٹ سے منتخب جمہوری وزیر اعظم کو کنپٹی پر پستول رکھ کر ایوان وزیر اعظم سے نکال دیتا ہے۔ جھوٹے طیارہ سازش کیس میں، جیل میں ڈال دیتا ہے۔ پورے خاندان کو ملک بدر کر دیتا ہے۔ آئین کو برسوں اپنے پاوں تلے روندنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ پھر جب پکڑے جانے کی باری آتی ہے تو کمر درد کا بہانہ بنا کر جھوٹ بولتا ہے۔ جس سرزمین کے تحفظ کی قسم کھائی تھی اسی ملک سے نقاہت کے مارے فرار ہوتا ہے، پھر رقص کی محفلوں میں پایا جاتا ہے۔ جب اس سے کوئی سوال نہیں کرتا۔ جب وہ اپنے جھوٹ پر نادم نہیں ہوتا، جب وہ ان بہیمانہ جرائم کی معافی نہیں مانگتا تو صحافیوں کی کیا بساط ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جھوٹ کا یہ سبق ہماری تاریخ کے خون میں شامل ہے۔ ایسے میں احمد نورانی اگر اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے،معافی مانگتا ہے تو اس کو سزا معافی مانگنے پر ملنی چاہیے کیونکہ اس معاشرے میں اپنی غلطی پر معافی مانگنا سب سے بڑا قصور ہے۔ جھوٹوں کے شہر میں سچ بولنا، سب سے عظیم حماقت ہے۔

