نیب کو بھیجیں یا پھر نا اہلی کا فیصلہ کریں؟ سپریم کورٹ


سپریم کورٹ نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اثاثوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد اگر تفتیش کاروں کو مطمئن نہیں کیا جاتا تو کیا اثرات ہوں گے؟ بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قانونی معاونت اس بات پر فراہم کی جائے کہ وزیراعظم آمدن سے زیادہ اثاثوں پر سپریم کورٹ میں جواب دیں گے یا پھر احتساب عدالت میں ٹرائل ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھاکہ رپورٹ میں پیش کیے گئے مواد کو دیکھیں گے کہ کیس نیب کو بھیجیں یا پھر نا اہلی کا فیصلہ کریں۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ کے سامنے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں جے آئی ٹی کو ختم کیے گئے مقدمات کا جائزہ لینے یا دوبارہ کھولنے کی سفارش کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا تھا، تحقیقاتی ٹیم عدالت کے مرتب کیے تیرہ سوالوں کے جواب تلاش کرنے تک محدود تھی مگر تجاوز کیا گیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ بند مقدمات بھی اگر لندن فلیٹوں کی ملکیت سے جڑے ہوں تو پھر کیا کیا جائے۔ تمام معاملات کو دیکھے بغیر تفتیش مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔ اصل چیز منی ٹریل کا سراغ لگانا تھا۔

وکیل نے کہا کہ تفتیش کار بند مقدمات کھولنے کی سفارش نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تیرہ اور فوجداری قانون کی شقوں کے تحت تفتیش پر فیصلے ٹرائل عدالت نے کرنا ہوتے ہیں، سپریم کورٹ صرف اس وقت فیصلے کرتی ہے جب تسلیم شدہ حقائق اور دستاویزات موجود ہوں، اس مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کا کون سا حصہ درست اور کس حصے میں اپنے اختیار سے تجاوز کیا گیا ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میرا مقدمہ یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ سے پہلے یہ عدالت تفتیشی کے کام کے معیار کو دیکھ لے، یہ تفتیش کاروں کی حدود میں ہی نہ تھا کہ ازسرنو مقدمات کھولنے کے لئے کہتے۔ جے آئی ٹی نے چیئرمین نیب کو مقدمات کے ریکارڈ سمیت بلایا جس کا سپریم کورٹ نے اسے اختیار نہیں دیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید بولے کہ محتاط ہوکر الفاظ استعمال کر رہے ہیں کہ مقدمے پر اثر نہ پڑے، نیب کے پاس سترہ سال سے کیس موجود تھے کسی کو پروا نہیں، اس پر کیا کہوں، کیا چیئرمین نیب کو نہیں معلوم تھا کہ پانامہ پیپرز میں کیا سامنے آیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کو معاملات دیکھنا چاہئیں تھے، ہم نے پانامہ پیپرز کے عدالتی فیصلے اور قانون کے دائرے میں رہنا ہے، سپریم کورٹ چاہے تو پرانے مقدمات دوبارہ کھول سکتی ہے مگر جے آئی ٹی کو یہ اختیار نہیں تھا کہ ایسے نتائج اخذ کرتی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی آمدن اور اثاثوں کی مطابقت تلاش کرنے کے لئے ہی بنائی تھی، اس نے اپنی رپورٹ میں یہ فرق معلوم کرلیا ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آنے کے باوجود عدالت کو ہمارا موقف سننا ہو گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جب ہر چیز دستیاب ہے تو پیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ اسی چیز کو دیکھنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ تفتیش کوئی خفیہ کام نہیں ہوتا، ہمارے خلاف لائی گئی کسی ایک دستاویزپر بھی ہم سے سوال نہیں کیے گئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ رپورٹ نہیں بلکہ جے آئی ٹی کی جانب سے اکٹھے کیے گئے مواد کو دیکھا جائے گا، عدالت تفتیشی کے لائے گئے مواد کو پرکھتی ہے، رپورٹ پر دلائل دے کر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نواز کو چھ مرتبہ بلایا گیا، آپ کہہ رہے ہیں کہ پوچھا نہیں گیا، آپ وزیراعظم کے وکیل ہیں جنہوں نے جے آئی ٹی کے سامنے کہا کہ ان کو کچھ معلوم نہیں، وزیراعظم نے تقاریر میں کہا تھا کہ ریکارڈ موجود ہے مگر جے آئی ٹی کو کہا کہ یاد نہیں، ہوسکتاہے اسپیکر کو دیا ہو، ایسی صورتحال میں تفتیش کار کیا کرتے؟

وکیل نے کہا کہ تفتیشی ٹیم اپنے پاس موجود دستاویزات وزیراعظم کو دکھاتی جن کو رپورٹ میں شواہد یا ثبوت کہا گیا ہے، جے آئی ٹی نے وزیراعظم سے کسی دستاویز پر کوئی سوال نہیں کیا جس پر وہ جواب دیتے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وہ کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کے سامنے شریف خاندان کی اپروچ یہ تھی کہ کچھ نہ بتایا جائے، وزیراعظم نے کہا کہ وہ محمد حسین کو نہیں جانتے حالانکہ وہ ان کے خالو تھے، شریف خاندان کی کوشش تھی کہ جے آئی ٹی سب کچھ خود تلاش کرے۔ وکیل بولے کہ مائی لارڈ، ایسے نہیں، ایسے نہیں، محمد حسین چالیس سال قبل وفات پا گئے تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ محمد حسین گلف اسٹیل مل میں شراکت دار تھے کیسے یاد نہ آیا۔ وکیل نے کہا کہ چالیس سال پرانی بات صرف نام لینے سے یاد نہیں آتی، جب جے آئی ٹی نے حوالہ دیا تو وزیراعظم نے جواب میں رشتہ داری بتائی۔

Facebook Comments HS