سندھو ندی کے اسرار: سادھو بیلہ اور راجہ داہر کا قلعہ


اداسین ایک پنتھ ہے جسے گرونانک جی کے بڑے بیٹے شری چندر مہاراج نے شروع کیا۔ اور اس پنتھ پر عمل کرتے ہوئے 1823 میں بابا بنکھنڈی مہاراج نے دنیا تیاگ دی اور سکھر کے مقام پر دریائے سندھ کے بیچوں بیچ ایک جنگل نما چھوٹے سے جزیرے میں جاکر بیٹھ گئے۔ اور یہیں سے ابتدا ہوئی سادھو بیلہ کی۔

سادھو کا بیلہ وہی جنگل ہے کہ جہاں 60 سال کی عمر میں بابا بنکھنڈی مہاراج آئے تھے، انہوں نے 40 برسوں تک تپیسا کی اور پرماتما کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچ گئے۔ سادھو بیلہ مندر کے پجاری اشوک کمار ہیں، انہوں نے بتایا کہ بابا بنکھنڈی مہاراج نے سوسال کی عمر میں خود دنیا چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے مطابق شریر نے کبھی نہ کبھی ڈھل جانا ہے۔

اشوک کمار کے مطابق گو بابا بنکھنڈی مہاراج کی عمر سوسال تھی مگر ان کا جسم جوانوں جیسا تھا۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں تھا، کیا بابا نے اس کی وجہ بتائی۔ اشوک کمار نے مجھے بابا کا ایک شعر سنایا اور کہا یوگا کہ ساتھ یہ وہ راز ہے جو بابا اپنے بھگتوں کو دے گئے۔

کان میں لکڑی، ناک میں انگلی مت کر مت کر
آنکھ میں انجن، دانت میں منجن نت کر نت کر

ہندو عقائد کے مطابق انسان اُتم جون یعنی اشرف المخلوقات ہے، دنیا کے 84 لاکھ جسموں میں انسان کی آتما اپنے کرموں کے حساب سے منتقل ہوجاتی ہے، پجاری نے بتایا کہ بابا بنکھنڈی مہاراج نے اپنی روح کے لیے اپنے نائب کے شریر کا انتخاب کیا۔

بابا بنکھنڈی مہاراج نے ہری نارائن کو اپنا نائب بنایا مگر وہ اس ذمہ داری کو اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے بابا کے ایک اور بھگت ہری پرشاد جی کو کاشی سے بلا کر سادھو بیلے کی گدی دے دی۔ پھر ان کے بعد بالترتیب سوامی موہن داس جی، سنتھ داس جی، ہری پرساد، سوامی اچل پرساد، سوامی جے رام داس، ہری نام داس جی، گھنیش داس جی، ہری بھجن داس جی اور موجودہ سوامی گوری شنکر داس جی نے سادھو بیلہ کی گدی سنبھالی۔

ان میں ہری نام داس وہ سادھو تھے کہ جن کے دور میں پاکستان اور بھارت کی تقسیم عمل میں آئی اور وہ ہندوستان چلے گئے اور اب ہندوستان میں سادھو بیلے کے معتقدین کی بڑی تعداد آباد ہے، درجنوں مندر سادھو بیلہ ٹرسٹ کے تحت چلتے ہیں، تعلیمی ادارے اور فلاحی کاموں کے حوالے سے بھی بھارت میں سادھو بیلہ ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے، موجودہ سادھو بھی اب مستقل طور پر بھارت میں رہتے ہیں اور صرف میلے کے موقع پر سادھو بیلہ آتے ہیں، میلے میں سالانہ آنے والے زائرین کی تعداد 40 ہزار ہے۔

اگر بھارت سے کوئی پاکستان آئے تو عموماً وہ سب سے پہلے سادھو بیلہ جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، غیرسرکاری دوروں پر بھی آنے والے بھارتی وفود اکثر سادھو بیلہ آتے ہیں جبکہ غیرملکی وفود کا بھی سادھو بیلہ آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہ جزیرہ اب کوئی جنگل نہیں رہا بلکہ دریا کے بیچوں بیچ جدید عمارتوں کا ایک مسکن ہے، تمام انتظامات حکومت پاکستان کے پاس ہیں۔

سادھو بیلہ میں قدیم پیپل کا درخت جس کی جڑیں دریا کے اندر ہیں اور وہ مقام جہاں بابا بنکھنڈی مہاراج نے تپیسیا کی تھی، زائرین کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں، گو دریا کا پانی مضر صحت قرار دیا جاچکا ہے تاہم یہاں آنے والے زائرین دریائے سندھ کے پانی کو پی کر شفایابی کا دعویٰ کرتے ہیں

سادھو بیلہ کے دائیں جانب سکھر کا لینس ڈاؤن برج یا قینچی والا پل ہے، اس سے پہلے دریا کے اس پار روہڑی میں سات سہلیوں کا مزار ہے جبکہ بائیں جانب سکھر بیراج ہے۔

پاکستان میں بزرگوں کے مزارات یا ہندوؤں کے مندروں پر آنے والے زائرین کی ایک ٹریل ہوتی ہے۔ جیسے مسلمان زائرین درگاہ قلندر، سچل سرمست اور شاہ بھٹائی سے ہوتے ہوئے بھٹو کے مزار جاتے ہیں۔ اسی طرح ہندوزائرین کی ٹریل بھی تمام مندروں سے ہوتی ہوئی بھٹو کے مزار جاتی ہے۔

مجھے ٹھٹہ کے ماتا شنگھ بھوانی مندر کمیٹی کے نائب صدر جے رام داس ملے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ بھٹو کے مزار کیوں جاتے ہیں۔ کہنے لگے کچھ کہنے۔ میں نے پوچھا کہ رام داس جی، کیا کہنے! انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہم کہنے جاتے ہیں کہ تمہیں کیا انصاف ملا، ہمیں کیا انصاف ملا، ہماری جان چھڑاؤ، بھٹو آکر ہمیں پھر بچاؤ۔

ٹھٹہ سے سادھو بیلہ آنے والے زائرین کی تعداد دو سو کے لگ بھگ تھی، میں نے جب منتظمین سے دریافت کیا کہ کیسے ان کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام ہوتا ہے تو منتظمین نے مجھے بھنڈار خانے کا سسٹم بتایا۔

جس طرح مسلمانوں میں لنگرخانے کا سسٹم ہوتا ہے، مندروں میں بھنڈار کا سسٹم ہوتا ہے، یہاں آنے سے پہلے زائرین اپنی تعداد بتا دیتے ہیں، ان کی تعداد کے مطابق بھنڈار انتظامیہ کھانا تیار کرا دیتی ہے اور ایسا نظام تقریباً ہر مندر میں ہوتا ہے۔

سادھو بیلہ کے قریب نارا کینال کے ساتھ قدیم اروڑ شہر بھی ہے، جس کا موجودہ نام روہڑی ہے جبکہ اروڑ اس کی ایک تحصیل ہے، یہاں راجہ داہر کے مبینہ قلعے کے آثار اور کالی ماتا کا مندر ہے، اروڑ کی کہانی آئندہ تحریر کا حصہ ہوگی

اروڑ میں مجھے سب سے زیادہ تلاش راجہ داہر کے قلعے کی تھی، وہ ماضی کے اسی عظیم شہر میں تھا مگر اسے زمین کھاگئی کہ آسمان نگل گیا، کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے مگر کبھی نہیں سنا کہ کسی سیاح نے اس قلعے کا ذکر کیا ہو۔

کالکا ماتا کے مندر جاتے ہوئے راستے میں ایک پہاڑی پر ایسے آثار ہیں کہ یہاں کبھی کوئی قلعہ ہوا کرتا تھا اور مقامی افراد کے مطابق یہی راجہ داہر کا قلعہ تھا۔ یہ بات قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قلعے کے دوسری جانب نارا کینال بہتی ہے جو کبھی کینال کے بجائے دریا تھی، دریا نے 962 عیسوی میں آنے والے زلزلے سے اپنا رخ بدل لیا تھا۔

میں نے مقامی افراد سے پوچھا کہ اگر یہاں راجہ داہر کے قلعے کے آثار ہیں تو یہاں کوئی تختی کیوں نہیں لگائی جاتی۔ ایک مقامی نے کہا کہ مولوی ناراض ہوتے ہیں۔ راجہ داہر کا مبینہ قلعہ تو کب کا بے نام ونشان ہوا اور جو تھوڑے بہت آثار بچے ہیں، وہ ریتی بجری اٹھانے والے مٹارہے ہیں۔

میرے ساتھ سما کے نمائندے امداد پھلپھوٹو بھی تھے، وہ بتانے لگے کہ غیرقانونی طور پر یہاں سے مٹی اٹھائی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس قلعے سے ذرا پہلے محمد بن قاسم کی مسجد ہے، راجہ داہر کے بیٹے کو شکست دینے کے بعد محمد بن قاسم نے اس مسجد کو بنوایا، مسجد کی تعمیرات گو قرون اولیٰ والی ہیں تاہم نصب لاؤڈاسپیکر اور چسپاں پوسٹرز بتارہے تھے کہ یہ کافی فعال مسجد ہے۔

اروڑ میں کالی ماتا کا مندر ہندوؤں کی ایک اہم عبادت گاہ ہے، شنکر بھگوان کی گردن پر پیر رکھ کر اپنا جلال دکھانے والی بارعب کالی ماتا کا مندر بھی دلوں پر لرزہ طاری کردیتا ہے۔ کالکا ماتا دیوی کے مندر کے برابر میں ایک مدرسہ بھی ہے، مقامی افراد نے بتایا کہ اروڑ کی پہاڑیوں میں جہاں عام آدمیوں کی بمشکل آمدورفت ہوتی ہے، ایسے کئی مدارس ہیں جہاں سینکڑوں طلبہ ملک بھر سے دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔

ہندوروایتوں کے مطابق کالی ماتا نے اروڈ کے مقام پر پہاڑوں کے درمیان سرنگ کی صورت میں راستہ بنایا اور ہنگلاج یعنی بلوچستان تک پہنچ گئیں۔ مندر میں ایک غار نما سرنگ بھی موجود ہے، جس کے پتھر کالے ہیں اور جھک کر اس سرنگ میں جانا پڑتا ہے، یہاں کالی ماتا کا بت بھی رکھا ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔

دیومالائی کہانیوں کے جواب میں بھی دیومالائی کہانیاں ہوتی ہیں، کالکا دیوی کے مندر کے قریب ہی چٹان شاہ جی ٹکڑی ہے جہاں ایک دس فٹ کی قبر ہے۔ مقامی روایتوں کے مطابق یہ بزرگ حضرت علی کی قبر ہے جنہوں نے کالکا دیوی کے خلاف ایک جنگ لڑی اور اس جنگ کے دوران بزرگ کی تلوار سے ایک چٹان دوٹکڑے ہوگئی، یہ چٹان بھی قریب ہی موجود ہے۔

اروڑ شہر کبھی ایک عظیم الشان سلطنت کا دارالحکومت تھا، دریا سے آنے والے قافلے یہاں تجارت کیا کرتے تھے، یہاں مال ودولت کے ڈھیر تھے، خوش حالی عروج پر تھی اور آج یہ تنگ گلیوں کا ایک ایسا شہر ہے کہ اس کو پرانے نام تک سے کوئی نہیں جانتا۔

یہاں پہنچ کر بس ایک ہی احساس ہوتا ہے۔
ہر عروج کو زوال ہے۔

 

Facebook Comments HS