کیا شیعہ عقیدہ ہزارہ کمیونٹی کا جان لیوا جرم ٹھہرا ہے؟


19 جولائی کو مستونگ کے پاس ایک کار پر حملہ کیا گیا۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد اس دہشت گردانہ حملے میں مار ڈالے گئے۔ ان میں ایک خاتون بھی تھی۔ گئے زمانوں میں پشتون اور بلوچ معاشرے میں اس طرح کسی خاتون یا لڑکی کو مارنا بے غیرتی کی گھٹیا ترین مثال سمجھی جاتی تھی۔ اب دہشت گرد اسے ایک قابلِ فخر عمل سمجھتے ہیں۔

ان چار افراد میں سے ایک نوجوان مرتضی کو اس کے باپ نے اپنا مال متاع بیچ کر پڑھنے بھیجا تھا۔ خود بے گھر ہو کر اسے اعلی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر مرتضی کی بدقسمتی، بلکہ اس کے مظلوم باپ کی بدقسمتی، کہ وہ دور سے ہی اپنے نین نقش کی وجہ سے بطور ہزارہ پہچانا جاتا تھا۔ ہزارہ عموماً شیعہ ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کی نگاہ میں یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ انتہا پسندی جہادی فکر کے علمبردار تو یہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ سے لڑنے سے پہلے ایران پر حملہ کرنا چاہیے کیونکہ اس کا عقیدہ غلط ہے۔ ایران پر تو وہ حملہ کر نہیں پاتے، مگر ہزارہ نسل کے لوگوں، محرم کے جلوسوں اور پارا چنار کے بازاروں کو مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

پچھلے پندرہ برس میں ہزارہ اور شیعہ کمیونٹی پر صرف بلوچستان کے صوبے میں ہی 1400 سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چند بڑے حملوں کا ذکر کیا جائے تو جولائی 2003 میں کوئٹہ کی ایک ہزارہ مسجد میں نماز جمعہ کے وقت حملہ کر کے 47 افراد کو شہید کیا گیا۔ مارچ 2004 میں عاشورہ کے جلوس پر حملے میں 42 افراد شہید ہوئے۔ ستمبر 2010 میں ایک ریلی پر خودکش حملے میں 50 افراد جان سے گئے۔ ستمبر 2011 میں کوئٹہ سے جانے والی زائرین کی بس روک کر 26 افراد کے پاس جا جا کر ان کو گولی ماری گئی۔ جون 2012 میں زائرین کی ایک بس پر خودکش حملے میں 14 افراد کو مار ڈالا گیا۔ جنوری 2013 میں علمدار روڈ پر ایک بم حملے میں 81 افراد شہید اور 121 زخمی ہوئے۔ فروری 2013 میں ہی کیرانی روڈ پر ایک مارکیٹ پر بم حملے میں 84 افراد جان سے گئے اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

یہ تو بڑے حملے تھے۔ ایک دو افراد کو شکل دیکھ کر ہی مار دینے والے واقعات بہت ہیں۔ کوئی مزدور، طالب علم، سبزی فروش، ڈاکٹر، وکیل، انجینئیر، عام خاتون اپنی روزمرہ زندگی میں کسی جگہ آ جا رہے ہوتے تھے تو ان کو رکشا، بس یا کار میں ہی گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ چائے خانے میں بیٹھے افراد کا مقدر گولی بنتی ہے، پنکچر شاپ پر کام کرنا جان دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ ہزارہ امیر ہوں یا غریب، افسر ہوں یا مزدور، کاروباری ہوں یا طالب علم، ان کا شیعہ ہونا ان کا سب سے بڑا جرم قرار پایا ہے۔ بدقسمتی سے ان کے خدوخال ایسے ہیں کہ وہ بہ آسانی پہچانے جاتے ہیں اور ٹارگیٹ کلنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

باقی ملک میں بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ کیا لاہور کے اس سپیشلسٹ ڈاکٹر علی حیدر شاہ کے قتل کو بھولنا آسان ہے جو اپنے پانچویں چھٹی کلاس میں پڑھنے والے بارہ سالہ بچے کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا اور دونوں کو مار ڈالا گیا؟ بالخصوص کراچی میں تو کسی شیعہ کا ڈاکٹر ہونا ایسا جرم قرار پایا ہے جس کی سزا موت ہے۔ کیا پارا چنار میں پے در پے ہونے والے حملوں سے ہم ناواقف ہیں؟

حقیقت جھٹلانے کا فائدہ نہیں ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہزارہ نسل کو بالخصوص اور اہل تشیع کو بالعموم ان کے عقیدے کی وجہ سے قتل کیا جا رہا ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے۔ ورنہ پھر تسلیم کر لے کہ وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ بسا اوقات خیال آتا ہے کہ پاکستان میں وہی کچھ ہو رہا ہے جو قرون وسطی کے سپین میں ہوا تھا۔ یعنی یا تو اکثریت کا عقیدہ اختیار کر لو ورنہ ظلم و تشدد اور موت کے سزاوار بنو۔

ہم خواہ کسی کو بدعقیدہ سمجھیں، غیر مسلم سمجھیں، منافق سمجھیں لیکن اسے انسان سمجھ کر زندہ رہنے کا حق تو دے دیں۔ ان کی جنت دوزخ کا فیصلہ کرنے والا خدا ہے، ہم انسان نہیں۔

سنی مذہبی قیادت سے ملاقاتوں میں ایک چیز واضح ہوئی۔ اب مذہبی لیڈر اپنے مذہبی کارکن کا رہنما نہیں ہے، وہ اس کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ اپنے انتہا پسند کارکن سے ڈرتا ہے کہ اس کے مزاج کے خلاف بات کی تو وہ سب سے پہلے اپنے لیڈر کو ہی مارے گا۔ مولانا شیرانی اور مولانا فضل الرحمان پر ہونے والے بم حملے بلاوجہ تو نہیں تھے۔ عوام میں بہت جری ہونے کا تاثر دینے والے بھی اس خوف کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو ایک خوف یہ بھی ہے کہ اپنے انتہاپسند کارکن کے مزاج کے خلاف بات کی تو وہ داعش وغیرہ جیسی تنظیم کا رخ کرے گا اور وہ اس پر اپنا رہا سہا اثر بھی کھو دیں گے۔ نجی ملاقاتوں میں وہ کسی بھی انسان کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر مارنے کے خلاف بات کرتے ہیں مگر ان میں عوامی پلیٹ فارم پر ببانگ دہل یہ بات کہنے کی ہمت دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ان سے ہمیں کوئی زیادہ امید نہیں ہے۔ امید صرف ریاست سے ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور اپنے شہریوں کو جان کا تحفظ دے۔ لیکن ریاست کی ترجیحات مختلف ہیں۔ وہ اس جنگ کو محض ہتھیار کی جنگ سمجھ رہی ہے۔ یہ بنیادی طور پر نظریات کی جنگ ہے۔ ہتھیار محض ایک درد کش گولی کی طرح ہے جو وقتی آرام تو دے سکتا ہے مگر مرض اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور بگڑتا جاتا ہے۔

عوام کے درمیان چھپے دہشت گردوں سے نمٹنے کی فوج اہل نہیں۔ اس کے لئے پولیس کے محکمے کو فعال کرنا پڑے گا۔ اس کی نفری بڑھائی جائے، اسے اختیار دیا جائے اور اس کے بعد ہی اس سے بدامنی ہونے پر جواب طلب کیا جائے۔ اس بے سروسامانی کے عالم میں چمن کے ایس ایس پی واجد خان مہمند اور کوئٹہ کے ایس پی مبارک شاہ جیسے بہادر پولیس افسران جو لڑنے کی جرات دکھاتے ہیں، وہ دہشت گردوں کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ تھانے کو نفری دی جائے، محلوں میں مخبروں کا جال بچھا ہو، تبھی ان چھپے ہوئے دشمنوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ فوج صرف دہشت گردوں کے بڑے جتھے کا خاتمہ کر سکتی ہے، ان پوشیدہ دشمنوں کا علاج صرف پولیس کے پاس ہی ہے۔

حکومت کو ایک دوسری جرات نصاب کے محاذ پر دکھانی ہو گی۔ مخصوص مفادات رکھنے والے جو بھی کہیں، مگر ہمیں امن چاہیے تو مدرسے اور سکول دونوں جگہ کے نصاب اور استاد کی اصلاح لازم ہے۔ ترکی میں ایک بہت اچھا نظام ہے۔ خطیب اور مذہبی استاد کو حکومت لائسنس دیتی ہے۔ اس لائسنس کے بغیر کام کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی نظام لانا ہو گا۔ یہ طے کرنا ہو گا کہ قانون ریاست کا چلے گا یا مخصوص گروہوں کے آگے ریاست ہتھیار ڈالتی رہے گی۔ مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت آپریشن کر کے ناسور کا خاتمہ کرنے کی بجائے ڈسپرین دے کر درد کی شدت کم کرنے کی پالیسی پر ہی گامزن ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1488 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar