دستاویزات کہاں سے لائیں


سپریم کورٹ نے عمران خان نا اہلی کیس میں پیش کیے گئے دستاویزات کی تصدیق کے لئے مہلت دیدی، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جن بنکوں میں اکاؤنٹس تھے وہ کب کے بند ہوچکے، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر یہ بھی سوال اٹھے گا کہ یہ دستاویزات کہاں سے لاکر پیش کی گئیں؟ عدالت نے کل سے جہانگیر ترین کے خلاف حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کی نا اہلی کے لئے دائر حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کی۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ تمام دستاویزات پیش کردی ہیں، انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ سے کمائی کا ریکارڈ نہیں مل سکا تاہم آسٹریلیا کی کیری پیکر سیریز سے حاصل دولت انگلینڈ منتقل کرنے کا بنک ریکارڈ موجود ہے۔ لندن فلیٹ کی خریداری کی تمام منی ٹریل دیدی ہے، رقم آنے جانے کی دستاویزات بھی عدالت کو فراہم کی جائیں گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا پر اور باہر لوگ اس معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں عدالت کا مسئلہ نہیں، درخواست گزار یہاں منی لانڈرنگ کا مقدمہ لے کرنہیں آیا بلکہ اس کا کیس یہ ہے کہ لندن فلیٹ خریدنے کے لئے ایک لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ کہاں سے آئے۔

عدالت نے اپنے اطمینان کے لئے عمران خان سے دستاویزات طلب کیں۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ انیس سو چوراسی میں لندن فلیٹ کے لئے دس فیصد رقم ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر دی گئی، باقی رقم کے لئے پچپن ہزار پاؤنڈ رائل ٹرسٹ بنک سے تیرہ فیصد سود پر لیے گئے، یہ رقم قسطوں میں انیس سو نواسی تک ادا کردی گئی۔ عدالت کے سامنے مقدمہ ہے کہ عمران خان کے پاس فلیٹ خریدنے کے لئے رقم نہ تھی، عدالت کے سامنے کہا گیا کہ عمران خان نے تیکس چوری کیا، نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ لایا گیا کہ فراڈ کرکے ٹیکس استثنی سکیم سے فائدہ اٹھایا گیا، عدالت کو بتا دیا ہے کہ عمران خان کھلاڑی تھے اور کمائی کرتے تھے، عدالت میں یہ ثابت کر دیا کہ عمران خان نے کمائی سے خریدا، عمران خان نے لندن فلیٹ پاکستان میں ظاہر نہیں کیا کیون کہ ٹیکس قانون کے تحت ضروری نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار ٹیکس قانون کا نہیں بلکہ یہ کہتا ہے کہ اثاثے چھپانے پرعمران خان صادق اور امین نہیں رہے، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قوانین کے مطابق باہر بنائے گئے اثاثے یہاں ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں کیس یہ لایا گیا عمران خان 1981 میں ٹیکس فائلر بنے لیکن اس کے بعدبھی لندن فلیٹ ظاہر نہ کیا گیا، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ اس کے لئے رہائشی یا غیر رہائش کا معاملہ دیکھنا ہوگا، نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت اگر چاہے تو خودعمران خان کے ٹیکس ریکارڈ کا جائزہ لے، ٹیکس حکام نے کبھی نوٹس نہیں دیا، عمران خان کو ان کے مشورہ دیا گیاتھا کہ غیر رہائشی کے لئے بیرون ملک اثاثہ ظاہر کرناضروری نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی شخص انجان بن سکتا ہے کہ اسے اثاثے ظاہرکرنے کا مشورہ نہیں دیا گیاتھا۔ نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل انور منصور کی عدم حاضری پر پارٹی کی فارن فنڈنگ معاملے پر دلائل کے لئے سماعت اکتیس جولائی تک ملتوی کردی جب کہ کل سے جہانگیر ترین کی نا اہلی کے لئے دائر حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہو گا۔

Facebook Comments HS