باکمال لوگ، لا جواب سروس!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام علیکم خواتین و حضرات، پاکستان انٹرنیشنل کی جانب سے کپتان سلطان معظم اور ان کا عملہ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

ہم دس ہزار چار سو میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے انشا اللہ ایک گھنٹے اور پچاس منٹ میں کراچی پہنچیں گے۔

ہم تاخیر سے روانگی کے لئے معذرت خواہ ہیں۔ اب ہم اتنے بھی بد لحاظ نہیں کہ کوئی وزیر یا ایم این اے صاحب راستے میں ہوں اور ہم جہازلے اڑیں۔ ویسے بھی رحمان ملک صاحب ہمارے پرانے جاننے والوں میں سے ہیں اور میں تو ذاتی طور پر بھی ان کے گہرے جامنی رنگ کے ہیئر کلر کی بہت بڑی مداح ہوں۔

اور پھر یہ PSO والے، موئے ضد کر رہے تھے کہ پہلے پچھلے پیسے دیں تو آگے تیل دیں گے، پہلےہی اربوں کا ادھار ہو گیا ہے۔ وہ تو بھلا ہو ہماری نسرین کا، اس نے ان کے طاہر کو قائل کر لیا کہ کمیٹی نکلے گی تو سب سے پہلے آپ کے پیسے دیں گے۔ اس نے تو جہاز کی تصویر بھی انہیں دکھائی کہ کیسے بیچاری خالی ٹینکی جہاز کی کمر سے آ لگی ہے، پھر جا کر کہیں ان تیل والوں کا دل پسیجا۔

تیل سے یاد آیا یہ ذرا کھڑکی والے بھائی صاحب جہاز کے پر میں موجود تیل کی ٹینکی پر نظر رکھیں، اس کا ڈھکن کبھی کبھار دوران پرواز کھل جاتا ہے۔ کئی دفعہ مستری سے ٹھیک کروایا ہے، بات بن نہیں رہی۔ ایسا نہ ہو ڈھکن کھل جائے اورہمارےعزیز ہموطن کہیں گھروں سے برتن لے کر بھرنے ہی نہ پہنچ جائیں!

ان میڈیا والوں کوتو خدا پوچھے، جیسے پہلے ہی ہمارے پاس کوئی بہت زیادہ طیارے تھے جو انہوں نے برائیاں بیان کر کر کے ATR بھی گراؤنڈ کروا دیے ہیں۔ اب طیارے کم ہیں، روٹ زیادہ۔ کوئی ایک روٹ سے فارغ ہوتا ہے تو دوسرے پر اڑاتے ہیں، دوسرے سے فارغ ہوتا ہے تو تیسرے کی طرف کرتے ہیں۔ سارا دن تو اسی حساب کتاب میں گزر جاتا ہے۔ ایک بھی طیارہ اپنا وقت آگے پیچھے کر بیٹھے تو سب گڑ بڑ ہو جاتا ہے۔ اب تو ہم منشی بھرتی کرنے کا سوچ رہے ہیں جو ہر وقت بغل میں بستہ، اور بستے میں رجسٹر دابےرکھے گا کہ کون سا جہاز کہاں سے آرہا ہے اور کہاں بھیجنا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں، ہم مسافروں کا نہیں سوچتے!

شروع کی کچھ نشستیں خالی رکھئے گا، کپتان صاحب چادر اوڑھ کراستراحت فرمانے آئیں گے۔ بڑی خوبیوں والے آدمی ہیں، سارے مہینے کے چکر ایک ہفتے میں ہی لگا لیتے ہیں۔ ابھی صبح ہی ولایت سے جہاز لائے ہیں، تھوڑی بہت نیند تو آ ہی جاتی ہے۔

اب کوئی ان سے منہ ماری نہ کرے، یاد رکھیں پائلٹوں کی یونین، پالپا، ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ پہلے ہی اتنے روز ہو گئے ہیں پائلٹوں کو ہڑتال کیے ہوئے۔

اور پھر ہمارا چھوٹا بھی تو جہاز اڑا لیتا ہے۔
آپ ڈر کیوں گئے، اسی طرح سے تو کام سیکھے گا ہمارا چھوٹا!

آپ خدا پر بھروسہ رکھیں، ہم تو اپنے طیارے چلاتے ہی خدا کے بھروسے پر ہیں۔ اب اتنے انجینئیر کون رکھے، ہم چلتے ہوئے کسی نہ کسی چیز کا صدقہ دے دیتے ہیں۔ بتی شتی خراب ہو تو مرغی شرغی کا صدقہ دیتے ہیں۔ کوئی اور چھوٹی موٹی خرابی ہو تو بکرے کا صدقہ، خرابی بڑی ہو تو کالے بکرے کا صدقہ۔ جس دن دوران پرواز انجن فیل ہو جانے کا ڈر ہوا، اس کے لئے اونٹ ایئر پورٹ پر الگ باندھ رکھے ہیں۔

آپ کی اطلاع کے لئے عرض کرتی چلوں، ضرورت کے لحاظ سے ہم آج بچھڑے کا صدقہ دے کر چلے ہیں۔ آگے آپ سمجھدار ہیں، خود ہی اندازہ لگا لیں۔
آپ گھبرا کیوں گئے؟
اگر ہم پر اعتبار نہیں توکم ازکم بچھڑے پر ہی کر لیں!

پہلے سے ہی بتاتے چلیں، کسی چینی جاپانی گُڈی نے کاک پٹ دیکھنے کی معصوم سی خواہش کا اظہار کیا تو انتہائی نرم دل والے ہمارے کپتان سے نہ رہا جائے گا۔
وہ کیا، جہاز میں بیٹھے سارے مرد حضرات اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اگر گُڈی ان سے ایسی فرمائش کرتی تو کیا وہ انکار کرتے؟
اب کپتان صاحب کیا کریں اگر آپ کو خدا نے پائلٹ نہیں بنایا۔

ہم سے اپنی پسند کا اخبار نہ مانگئے گا۔ جو ہم دیں گے اسی پر اکتفا کر لینا۔ ہمیں پہلے ہی پتا ہے جو اخبار آپ میں سے زیادہ لوگ مانگیں گے وہ ہماری ائیر لائین لیتی ہی نہیں۔ ہا، ہا، ہا۔

جن لوگوں کا خیال ہے ہماری ائیر ہوسٹسیں عمر اور وزن میں کچھ زیادہ محسوس ہوتی ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کچھ عرصہ قبل ہمارے بڑوں نے بھی ایسا سوچنا شروع کر دیا تھا اور ہم میں سے بہت سوں کو گراؤنڈ کر دیا تھا۔ وہ تو بھلا ہو ہماری عدالتوں کا، ہر معاملے میں اور ہر وقت سٹے دے دیتی ہیں سو ہم پھر جہاز پر چڑھ آئیں۔ میرے تو نواسے بھی ان کو دعائیں دیتے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں، میں گراؤنڈ ہوئی کتنی بری لگتی ہوں گی؟

ہم کوشش کریں گی کہ آپ کے ساتھ مسکرا کر پیش آئیں لیکن اگر آپ نے بیل بجا کر ہمیں بلایا تو مسکراہٹ کی کوئی گارنٹی نہیں، دوسری دفعہ بلایا تو آپ کی بھی کوئی گارنٹی نہیں، اور اگر تیسری دفعہ بلایا تو ہم نسرین کو بھیج دیں گے!

جن مسافروں کا کہناہے کہ ان کو ملنے والے ہمارے سینڈوچ اورکیک پیس باسی اور اداس اور نہ جانے کس بیکری کے بنے ہوئے لگتے ہیں، اور یہ کہ ایک بس سروس کا مینو ہم سے بہتر ہے تو پھر وہ بس میں ہی جا بیٹھتے، جب اٹھارہ گھنٹوں میں ہماری سڑکوں پر ڈھچکوں ڈھچکوں کرتے کراچی پہنچتے تو بس کا مینو تو بھول جاتا، چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا۔
عجب لوگ ہیں، بیٹھتے جہازوں میں ہے اور روٹی بسوں کی مانگتے ہیں!

اور جو یہ کہتے ہیں ہماری چائے بے رنگ اور بے کیف ہوتی ہے، اور پتی، دودھ، اور پانی میں صاف تفریق کی جا سکتی ہے، انہیں یاد دلاتی چلوں آپ ڈرائیور ہوٹل یا ڈھابے پر نہیں بیٹھے ہوئے، نہ ہی ہمارے پاس کوئی ایسا چھوٹا ہے جو ”گرما گرم دودھ پتی، ملائی مار کے“ آپ کو پیش کرے۔

یہ جو صاحبان بیچ کے راستے میں کھڑے ہیں، کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے نشستیں نہ ہونے کے باوجود جہاز میں سوار کر لیا ہے جو یہ اب پیپسی بھی مانگتے پھر رہے ہیں؟
کہتے ہیں ہم اپنے جہازوں کا خیال نہیں رکھتے اور یہاں عالم یہ ہے کہ جہاں دوسری ایئرلائینیں ایک جہاز کے مقابل محض چند درجن ملازم رکھتی ہیں، نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرتی چلوں ہم کئی سو رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے ہیں، اور ابھی بھی آپ کہتے ہیں ہم خیال نہیں رکھتے!

ہاں ذرا ٹائلٹ کا دروازہ باہر سے پوری طرح بند نہیں ہوتا۔ سارے سفر میں لہراتا رہا تو بھی کوئی بڑِی بات نہیں، کھلا ملے گا تو آپ ہی کو اندر جانے میں آسانی ہو گی۔ ہاں اندر بہت وقت نہ لگائیے گا ہمارے کچھ کرمفرماؤں نے وہاں ہیروئین بھی چھپانی ہوتی ہے۔

جن صاحب کا خیال ہے انہوں نے جہاز پر ایک چوہا دیکھا ہے ان سے کوئی پوچھے گھر بیٹھے بچوں کے ساتھ چوبیس گھنٹےٹی وی پر جیری نام کا چو ہا دیکھتے تو آواز نہیں نکالتے، ہمارے ہاں لمحے بھر کو نظر آ گیا تو چلے آئے اعتراض کرنے۔

اور اگر کسی کو لال بیگوں کے آزادانہ گھومنے پھرنے پر کوئی اعتراض ہو یا ان کی ویڈیو بنانے کی کو شش کی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
کیا کہا، پہلے بھی ہم سے برا کوئی نہیں؟

میں ابھی بھیجتی ہوں نسرین کو آپ کی خبر لینے کے لئے۔ وہ پہلے ہی بہت غصے میں ہے، کسٹم والے کبھی اس کے سامان سے موبائل نکال لیتے ہیں، کبھی سونا، کہ جی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ شرم لحاظ تو ویسے ہی زمانے سے اٹھ گیا ہے، پچھلے دنوں میں فرانس کے ایک سٹور میں پیسے دینا کیا بھول گئی، ظالموں نے چھوٹتے ہی چوری کا الزام لگا دیا۔ ثریا بتا رہی تھی اس کے ساتھ ٹورنٹو میں یہی کچھ ہوا، لاکھ کہا اس نے چوری نہیں کی لیکن وہ سٹور والے جیتی جاگتی عورت کے مقابل نگوڑے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ مانتے رہے۔ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں!

پرواز ناہموار ہونے کی صورت میں حفاظتی بند باندھے رکھئے گا۔ احتیاطاً کلمہ بھی پڑھ لیجیے گا۔ ویسے سچ پو چھیں تو جتنے لوگوں کو پی آئی اے کلمہ پڑھواتی ہے، رائے ونڈ والے تو اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمیں یقین ہے، قیامت کے روز اگر پی آئی اے مجسم صورت میں پیش ہوئی تو سب سے زیادہ حوریں اسی کے حصہ میں آئیں گی۔

اور پھر رہی سہی کسر یہ پرندے پوری کر دیتے ہیں۔ کوئی اور جگہ نہیں ملتی جو ہمارے جہازوں سے آ ٹکراتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں اس عمر میں ہمارے جہاز چِڑے کی ٹکر سہہ سکتے ہیں؟
اور ہاں پہلے بتائے دیتے ہیں، دھند میں نہ ہو گی لینڈنگ ہم سے!
اب منہ پھاڑ کے یہ نہ کہہ دیجئے گا اتنے سال تو ہوئے اس مسئلہ کو پیش آتے ہوئے تو اب تک ایئر پورٹوں پر دھند والی بتیاں کیوں نہیں لگوائیں۔
اب کیا بتائیں صاحب، ہر چیز میں اتنی ملاوٹ آتی ہے، جو لاہور میں لگوائیں ان کو بھی چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ وہ تو خود اس روز نظر آتی ہیں جس روز دھند نہیں ہوتی۔

اگر منزل پر پہنچ کرکسی کو سامان پورا نہ ملا تو آسمان سر پر اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ ایک ٹریکٹر کے پیچھے لگا کر تو لاتے ہیں ہم ٹرالیوں پر آپ کا سامان۔ کبھی کبھار کوئی ایک آدھ ٹرالی لگنے سے رہ جائے تو کون سی قیامت آجاتی ہے۔

اور پھرٹریکٹروالا شفیق بتا رہا تھا یہ امارات، قطر اور اتحاد والے اپنے بڑے بڑے بوئنگ ہمارے ننھے منوں کے ساتھ اتنا جوڑ جوڑ کر کھڑا کرتے ہیں، ایسے میں ایک کی پوٹلی دوسرے میں رکھا جانا کوئی اتنے بھی اچنبھے کی بات نہیں!

کیا کہا میری آواز سریلی نہیں اور مائک میں بھی سرسراہٹ ہے!
میں یہاں سُر بکھیرنے نہیں آئی، نہ ہی گھر پر ریاض کرتی ہوں۔ زندگی میں ایک ہی ریاض کیا تھا، اب اس سے میرے دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔

میری سمجھ میں نہی آتا پی آئی اے میں خرابی کیا ہے جو ہر کوئی اس کو سدھارنے کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ بڑا ڈھونڈ کر لائے تھے حکو مت والے جرمن چیف ایگزیکٹو، پی آئی اے کو اس نے کیا ٹھیک کرنا تھا، ہم نے اسے ایسا خراب کیا کہ آج کل اس کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ہے۔

جرمن حملے کی ناکامی کے بعد اب ہم امریکی یلغارکی زد میں ہیں اسلام آباد والے۔
امریکہ سے ایک پاکستانی بابو ڈھونڈ کر لائے ہیں، دیکھنا ہے کتنے دن نکالے گا۔ ہم نے بھی مشکیں کس لی ہیں۔ وہ تیر آزمائے گا تو ہم جگر آزمائیں گے!
اور ہاں، یہ کہنا تو میں بھول ہی گئی، امید ہے ہمارے ساتھ آپ کا سفر انتہائی خوش گوار گزرے گا!“

(سچے واقعات سے ماخوذ۔ کاش یہ سب محض مذاق ہوتا!)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •