کیا پنجاب کا ووٹر اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کرے گا؟

آج جو بھی ہوا ہے وہ پہلے بھی ہوتا ہی آیا ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو آئینی مدت سے پہلے غیر جمہوری ذریعے سے گھر کا راستہ دکھایا گیا ہو۔ نوے کی دہائی میں یہ راستہ 58 ٹو بی کی گلی سے ہو کر گزرتا تھا تو آج یہ راستہ 184 تھری کی غلام گردش سے ہوتا ہوا باسٹھ تریسٹھ کے دار تک پہنچتا ہے۔ طریقے بدلے ہیں، فریق وہی ہیں۔ ہمارے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ منتخب قیادت کو راستے سے ہٹانا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔ آج اگر نظر بظاہر جمہور پسندوں کی ہار ہوئی ہے تو یہ کوئی نئی ہار نہیں ہے۔ تازہ دم ہوجائیے، نئے سرے سے شروع کیجئے۔

اس فیصلے سے نئے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ آئین میں ضیاء الحق کے چھوڑے آمریت کے چور راستوں کو ختم کئے بغیر جمہوریت کا صحت مند سفر ممکن نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آئین میں وقتی مفاد کی خاطر سقم چھوڑ دئے جائیں اور ان کا نقصان مستقبل میں نہ ہو۔ شاہراہ دستور ہی درست جمہوری سفر کی ضامن ہے، دستور میں کانٹے چھوڑ دیے گئے ہوں تو جمہوریت کا سفر پاؤں چھلنی کئے بغیر جاری نہیں رہ سکتا۔ اٹھارویں ترمیم ایک طرح سے دوبارہ آئین کو لکھنے کے مترادف تھی۔ منتخب قیادت کا فرض تھا کہ جہاں آئین میں نناوے ترامیم کی جارہی تھیں تو وہیں باسٹھ تریسٹھ کی تلوار کو بھی ختم کیا جائے نیز اداروں کے مابین تصادم کو روکنے کے لئے مناسب ترامیم کی جائیں۔ آئندہ کسی بھی قسم کے آئینی سمجھوتے میں اس بات کی یقین دہانی کی جانی چاہئے کہ تمام اداروں کی آزادی برقرار رہے مگر پارلیمنٹ کی خودمختاری اور بالادستی پر کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس بات کو ہر صورت ممکن بنایا جائے کہ پچھلے نو برس کے جمہوری سفر سے حاصل ہوئے تجربات ضائع  نہ ہوں اور ان تلخ تجربات کی روشنی میں مناسب قانون سازی کو یقینی بنایا جائے۔ جب عاصمہ جہانگیر یہ کہتی ہیں کہ کیا فیصلے دینے والے بھی صادق اور امین ہیں تو جاننا چاہئے کہ جب ادارے اپنا احتساب خود کریں گے تو ایسی صورت میں یہ جاننا ناممکن ہے کہ کس منصب پر بیٹھا کون سا شخص قانون اور اپنے حلف کی پاسداری کر رہا ہے۔ اس کے لئے اب پارلیمنٹ کو موثر قانون سازی کرنی ہوگی اور سیاسی قیادت کو اب اٹھارویں ترمیم کی طرح ایک نئے سمجھوتے کی طرف بڑھنا چاہئے۔

دھرنے سے شروع ہونے والے کھیل، اس کے بعد پچھلے پورے سال پانامہ لیکس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اب اس فیصلے کے بعد کی صورت حال میں جو بات ابھر کر سامنے آئی ہے وہ وسطی اور بالائی پنجاب کے ووٹر کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھرپور بلکہ باغیانہ رد عمل ہے۔ پچھلے ستر سال میں غیر جمہوری عناصر نے اپنے آمرانہ اقدامات کی بدولت تین صوبوں کے ووٹر کو خود سے نالاں کیا۔ ان کے لیڈروں کی تذلیل کی، بہت سوں کو غدار قرار دیا، کسی کو بین کیا، کسی کو پھانسی دی، بے رحمانہ میڈیا ٹرائل کیا تو کسی کو جان سے ہی جانا پڑا۔ دو وزرائے اعظموں کی جنازے تو سندھ کی دھرتی نے اٹھائے ہیں۔ اس سب میں اشرافیہ کا قلعہ پنجاب اور خصوصاً وسطی اور بالائی پنجاب کی آبادی رہی ہے۔

آج اشرافیہ کے اس قلعے، یعنی وسطی و بالائی پنجاب، شہری علاقوں اور تاجروں کے لیڈر کو تیسری دفعہ رسوا کر کے گھر بھیجا گیا ہے۔ لمحۂ موجود وسطی و بالائی پنجاب کے ووٹر کا المیہ ہے، وہ سب جو پیپلزپارٹی بلکہ تین صوبوں اور جنوبی پنجاب کے ووٹر جھیلتے آئے ہیں وہ آج ان پر بیت رہی ہے۔ سارا جہان کیسے دشمن بن جاتا ہے، آپ کی آواز کیسے میڈیا میں دبائی جاتی ہے، آپ کے لیڈروں کا بے رحمانہ میڈیا ٹرائیل کیسے کیا جاتا ہے، آپ کی نمائیندگی کے حق سے کیسے بددیانتی کی جاتی ہے، کیسے آئین و قانون کو پامال کیا جاتا ہے اور غیر جمہوری اقدامات سے جمہوری حکمرانوں کا حق نمائیندگی کیسے چھینا جاتا ہے اس ووٹر نے اسے پچھلے چار سالوں میں شدت سے محسوس کیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق ٹی وی پر آکر گلہ کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو آج کی پریس کانفرنس زیب نہیں دیتی کہ پی ٹی آئی تو نابالغ ہے اور کل سمجھے گی جب ہمارے ساتھ ٹرک پر سوار ہوگی، پی پی پی کے ساتھ تو یہ کھیل کئی بار کھیلا گیا ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جب لیڈر اس کھیل پر بے بسی اور غم و غصے کا اظہار کرتا ہے تو ایسے میں عام ووٹر کیسی بے بسی، کرب اور جوش محسوس کرتا ہے یہ سوچنا چاہئے۔ اس سب صورت حال کے بعد یہ پنجاب کا ووٹر بھی سمجھے گا۔ یہ بھی ووٹر کے لئے شعور کی منزلیں طے کروانے کے لئے مددگار ہے۔

جاننا چاہئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے قلعے کی دیواریں مسلسل محدود ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اب وہ وسطی و شمالی پنجاب میں بھی اپنے گھوڑوں کو آسانی سے کامیاب نہیں کرسکتے۔ پچھلے چار سال پنجاب کے ووٹر نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ کیا کوئی ایسا خیال بھی کر سکتا تھا؟ یہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو ‘طوفان بد تمیزی’ سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ عرصے میں کھڑا رہا اس کے بدلے میں جیسے پنجاب سے بھی اہل خرد کو حضرتِ ناصح اٹھا کر لے گئے، پاکستانی معاشرے میں ان کی محدود ہوتی ہوئی گرفت کا نشان ہے۔ کل کے فیصلے کے بعد جو ردعمل سامنے آیا وہ بھی حیران کن طور پر شدید اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کا ووٹر بھی اصل کھیل جان چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words