تبادلہ ریپ: ریپ کیسز میں فوری انصاف کا آزمودہ نسخہ

اچھی گزر رہی تھی کہ اچانک ایک دن اس نے میری تیرہ سالہ بہن کا ریپ کر دیا۔ میں تو غصے سے آگ بگولہ ہو گیا۔ کیونکہ میری اور میرے خاندان کی عزت لٹ چکی تھی۔ میں اور میرے خاندان کے دوسرے مرد اتنے غصے میں تھے کہ کسی کو بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ہم کچھ بھی کرنے کو تیار تھے تاکہ ہماری عزت پر لگا داغ دھل جائے۔ خاندان کے زیادہ سیانے مرد حضرات اس واقعے کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایک سوچ بچار مسلسل جاری تھی۔
ریپ کرنے والے لڑکے کی ماں شرم سے مری جا رہی تھی۔ اس نے چپ سادھ لی۔ اسے اپنے سپوت سے یہ امید نہ تھی۔ ماں نے سوچا "کاش میں اس کی ماں نہ ہوتی، کاش میں زندہ نہ ہوتی، کاش مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا”۔ ریپ کرنے والے لڑکے کی بہنیں بہت فکرمند اور شرمندہ تھیں۔ اندر ہی اندر اپنے بھائی کا چہرہ انہیں برا لگنا شروع ہو گیا تھا۔ اپنے اس بھائی پر ان کا "مان” ٹوٹ چکا تھا۔ وہ بھائی سے نظریں نہیں ملاتی تھیں۔ حالانکہ ان سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی اور انہیں لفظ "ریپ” سے واقفیت نہ تھی لیکن جو ہو چکا تھا اس سے وہ خوب واقف تھیں۔
گاؤں میں فساد کا ماحول بن چکا تھا۔ نقص امن کے اس شدید خطرے کو گاؤں کے بزرگوں نے جان لیا تھا۔ گاؤں کے بزرگ لوگ بڑے سیانے اور اچھے ہوتے ہیں وہ امن کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو آپس میں لڑتا دیکھ نہیں سکتے۔ اس لیے انہوں نے جرگہ بلا لیا تاکہ انصاف کیا جا سکے اور گاؤں میں مردوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھا جا سکے۔
یہ جرگہ کیا ہوتا ہے؟ شہری لوگوں کے لیے تھوڑی سی وضاحت کرتا چلوں۔
جرگہ کسی بھی گاؤں کے تمام مردوں پر مشتمل ایک فورم ہوتا ہے جو مردوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ مردوں کے حقوق کے حصول کے لیے انہیں آخری حد تک جانے کا اختیار ہوتا ہے اور وہ اکثر آخری حد تک چلے بھی جاتے ہیں۔ اس کام کے لیے وہ زر، زمین، گائے بکریاں، لڑکی اور عورت سبھی کو قربان کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ اور یہ قربانی اکثر ہو ہی جاتی ہے۔
گاؤں کے مردوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے اور خاص طور پر مردوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے جرگے کا اجلاس کسی وقت بھی بلایا جا سکتا ہے۔ جرگہ انصاف کرنے میں ماہر ہوتا ہے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان اور ریپ کے بدلے ریپ کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
جرگہ کے اجلاس میں یہ ثابت ہو گیا کہ اس نے میری بہن کا ریپ کیا ہے اور اس سے میری اور میرے خاندان کی عزت لٹ چکی ہے۔ ثابت تو ہونا ہی تھا، سارے گاؤں کو تو پتا لگ چکا تھا کہ فلاں خاندان کے لڑکے نے فلاں خاندان کی لڑکی کی عزت لوٹ لی ہے۔ سب کو معلوم تھا۔ سب کنکھیوں سے ہمیں دیکھتے تھے۔ ہمیں ایسا لگتا تھا کہ وہ ہم پر تھو تھو کر رہے ہیں۔ ہم لڑکی والے تھے ہمارے لیے گھروں سے باہر نکلنا محال ہو گیا تھا۔
جرگے سے ہمارا مطالبہ واضح تھا۔ عزت کے لٹنے کا حساب دیا جائے ورنہ ہمارے خاندان کے مردوں کی زندگیاں حرام ہو چکی ہیں۔ ہم غیرت مند لوگ ہیں اور بے غیرتی کی زندگی جینا پسند نہیں کریں گے۔ ہم اپنے خاندان کی عزت لٹنے کا بدلہ ضرور لیں گے۔ بدلہ لینا ہمارا حق ہے۔
جرگے نے انصاف کیا۔ ریپ کے بدلے ریپ پر بات طے ہو گئی۔ فیصلہ ہوا کہ جس نے ریپ کیا ہے اس کی بہن کو لایا جائے اور میرے حوالے کیا جائے۔ میں اس کا ریپ کروں گا۔ یہی کیا گیا۔
ریپ کرنے والے کے گھر سے اس کی سترہ سالہ بہن کو لایا گیا اور اسے میرے حوالے کیا گیا۔ میں نے اس کا ریپ کیا اور اپنے خاندان کی عزت کے لٹنے کا حساب برابر کیا۔
اب ہم دونوں دوست ہیں۔ ہمارے درمیان کوئی دشمنی باقی نہیں رہی۔ اس نے میری بہن کا ریپ کیا تھا اور بدلے میں میں نے اس کی بہن کا ریپ کر دیا ہے۔ خاندان کی عزت پر لگا بے عزتی کا داغ دھل گیا۔ دشمنی بھی ختم ہو گئی اور اب پھر ہم دونوں دوست ہیں۔ بزرگوں نے جرگے میں بیٹھ کر انصاف کیا اور اس گاؤں کے امن خراب نہیں ہونے دیا۔
ہم کوئی امریکہ نہیں جہاں لاکھوں ریپ کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ مظلوم عورتیں بے چاری برسوں انتظار کرتی ہیں پھر کہیں جا کر انصاف ملتا ہے اور ریپ کرنے والے کو جیل کی سزا ہوتی ہے۔ ہم غیرت مند قوم ہیں۔ ریپ کیسز میں فوری انصاف مہیا کرتے ہیں۔

