کیا یہ محض اتفاق ہے؟


کیا یہ محض اتفاق ہے کہ

امسال

میں نے اٹھائیس اور انتیس جولائی کی درمیانی رات

ڈراؤنے خواب دیکھتے ہوئے گزاری

ایک شخص کے منہ میں پستول رکھ کے گولی چلائی گئی

اور کسی ہڈی کو چھوئے بغیر،

 نفیس، چھوٹا سا زخم

اس کی جان لینے میں کامیاب رہا

ایک شخص کا دایاں کلہ چیر کر حلقوم میں کند چھری اتاری گئی

نیلا گنبد کی طرف سے

سفید عمامے میں ملبوس ایک شخص چلا آ رہا تھا

پاک ٹی ہاؤس کے دروازے سے

بالکل اسی طرح کا ایک شخص باہر نکلا

دونوں میں ٹکر ہو گئی

دونوں زمین پر گرے

اور ٹوٹ پھوٹ کر

کئی ٹکڑوں میں بٹ گئے

کوئی خون نہیں بہا

دونوں بہت عرصے سے مر چکے تھے

میں مال روڈ پر تھا اور مجھے گاڑی چلانا نہیں آتی تھی

مجھے اپنے دوستوں سے ملنے جانا تھا

وہاں حیدر رضوی تھا اور زبیر یوسف

اور ترکی کی ایک لڑکی ریحہ گل جو فوٹوگرافر تھی

دیواری مصوری کرتی تھی،

اس نے فٹ بال کے ورلڈ کپ میں باسٹھ برس کی عمر میں

تریسٹھ کے زاویے پر کک لگا کر گول کیا تھا

اسے سب جانتے تھے

میری ان لکھی کتاب کے نوٹس میرے ہاتھ میں تھے

شفقت اللہ ہارمونیم بجا رہا تھا

اور مجھے خوف تھا کہ ہماری لڑائی ہو جائے گی

اس لڑائی کی وجہ ریحہ گل نہیں تھی

ریحہ گل کی کم سن بیٹی

میری بیٹی کے ساتھ ایک ہی پلنگ پر سو رہی تھی

ایک کونے میں وہ اخبار رکھے تھے

جن میں میرے کالم چھپے تھے

میں نے الحمرا کے پیچھے وسیع سبزہ زار میں

میاں نواز شریف کو دیکھا

میں تیزی سے ان کی طرف بڑھا

میں ان سے کچھ نہیں کہہ سکا

مال روڈ اب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور خوب صورت لگ رہی تھی

دونوں طرف شاندار دکانوں کی قطاریں تھی

سڑک پر کوئی ہجوم نہیں تھا

مجھے بھوک لگ رہی تھی

میں ترک مصورہ  کے ہمراہ

سڑک پر چل رہا تھا

مجھے اپنے گھر جانا تھا

میرا خیال ہے، میں نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی

مجھے اندیشہ تھا کہ ریحہ گل

میرے لکنت زدہ لفظوں سے بھانپ لے گی

کہ مجھے اس سے

محبت ہو رہی ہے

میں پریس کلب چلا گیا

میں نے اپنا کارڈ نکال کر دکھایا

حیدر رضوی نے چلا کر کہا

کارڈ کیوں دکھا رہے ہو؟

کیا یہ تمہں پہچانتا نہیں؟

پریس کلب کے گیٹ کیپر نے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا

اس نے بتایا

کہ میرے پریس کارڈ پر غلط مندرجات ہیں

میں صحافی نہیں رہا

مجھے احساس ہو رہا تھا

کہ میں صادق اور امین نہیں رہا

Facebook Comments HS