ابھی آزادی کا جشن ادھورا ہے

مورخین تو یہ بھی لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وجود آتے ہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو وہ خراب ایمبولینس جان بوجھ کر بھیجی گئی تھی تاکہ وہ جانبر نہ ہو سکیں اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل، بھٹو کی پھانسی اور دہشت گردی کا شکار بے نظیر بھٹو اور لمبی تاریخ ہے وزرائے اعظم کے آنے اور جانے کی اور سیاست دانوں کی خرید فروخت کی اور عدم استحکام کی۔ جس طرح آمروں، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے نفرت کے بیج بوئے ہیں اب وہ فصل پک تیار ہو چکی ہے۔ ملک سیاسی اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔ ہم ایک دوسرے کو چور سمجھ رہے ہیں۔ ہر طرف نفسا نفسی ہے۔ شدت پسندی، عدم برداشت، دھشتگردی اور انتہاپسندی کا شکار ہیں۔ ہماری قوم، ذات برادری اور قبیلوں کی بنیاد پر بٹی ہوئی ہے۔ اور ہم بھول گئے قائد کا وہ قول کہ “ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی، بلوچی، بنگالی، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے۔” (15 جون، 1948)
ہمیں پتہ ہے کہ کس طرح پاکستان میں فوجی آمروں نے کرپشن کے خاتمے اور بدعنوان سیاست دانوں کو ٹھیک کرنے کے لیے جھموریت کو کمزور کیا اور کس طرح جنرل ضیاء نے مارشل لا لگا کر اسلام اور جہاد کو بیچ کر اس ملک کی دیواریں ہلا کر نفرتوں کے بیچ بوئے باقی کسر جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا نے پوری کر دی اور ہمیں دہشت گردی کی ایسی جنگ میں دھکیل دیا جس کے شعلے ہماری آزادی کے جشن کو جلا رہے ہیں۔ اور ہم بھول گئے مساوات اور عدل و انصاف جس کا قائد اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ “انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں”۔ (قانون ساز اسمبلی 11 اگست ، 1947) ہم نفرتوں، تشدد اور عدم برداشت کا شکار ہوتے گئے۔
ہمیں کرپشن اور بے حسی کی ایسی لت لگ گئی جس میں سارے ہی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے اور قائد کے خواب اور پاکستان بنانے کے لیے دی گئی قربانیوں اور ہجرت کے غم کو بھول کر اپنے ذاتی مفادات میں لگ گئے۔ ملکی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ہم امیر۔ ملک کی معیشت کمزور اور قرضوں پر چلنے لگی اور ہمارے پیسے سوئس بنکوں میں بڑھنے لگے۔ سرکاری ادارے خسارے کا شکار اور ذاتی کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ اس بے حس معاشرے میں نہ ہی ہم صنف نازک کا خیال رکھ پائے نہ ہی اپنی روایات کا۔ ہم نے مردوں کے ایسے معاشرے کو جنم دیا جہاں پر نہ ہم محفوظ رہ پائے نہ حوا کی بیٹی۔ ہم بھول گئے کہ قائد نے کیا کہا تھا کہ “دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں”۔(مسلم یونیورسٹی یونین 1944)
اس وقت ہم جشن آزادی کو منانے کے لیے جتنی بھی تقاریر کرلیں اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرکے کتنے ہے بلند بانگ دعوے کرلیں بھارت سے نفرت کا اظھار کریں مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہماری گاڑی کے اوپر جھنڈا تو پاکستانی لگا ہوتا ہے مگر گاڑی کے اندر گانا ہندستانی سننا پسند کرتے ہیں۔ ہم اپنے جشن آزادی کو تو جوش و جذبے سے منا رہے ہیں مگر ہمارے تاجر ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اپنے آزادی کے جشن پر خوب پیسا کما کر مہنگی آزادی بیچ رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں منافقت کا نہیں بلکہ سچائی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں سب سے پہلے پاکستانی ہونے کے لیے اس کے نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کو حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا۔ نئے روشن خیال معاشرے کے تعمیر کے لیے ہمیں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی ہم دھشت گردی، اتنہاپسندی، مذھبی منافرت، عدم برداشت کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری، سچائی اور حقیقت پسندی کے بنیاد پر ووٹ دیں گے تو یقیناً ایک دن ہمارا معاشرہ اور ادارے مضبوط ہوں گے اور جمہوری حکومت عوام کی حکومت، عوام کے لیے ہوگی۔ ورنہ تو یہ جشن آزادی ایمان اتحاد اور تنظیم کے بغیر ادھوری ہے۔

