ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ کی آزادی جیپ

میں جن خاتون کے سامنے کھڑی تھی ان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے انھیں نہ تو برانڈڈ کپڑوں کا شوق ہے نہ ہی مہنگے میک اپ کا، ان کا دھیما لہجہ اور محبت کرنے والا انداز ان کی شخصیت سے بالکل مختلف تھا، سادہ سی لیکن دیکھنے میں بارعب اور چال ڈھال بھی ایسی کہ کیا ہی کوئی جوان چلتا ہو۔ 56 سالہ پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ جامعہ کراچی میں سوشل ورک اور وومن اسٹڈیز کی استاد ہیں اور جامعہ میں ہی رہائش پزیر بھی۔

اس جیپ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کی ثقافت کے سب رنگ اس میں سمو گئے ہوں بلا شبہ یہ محنت کسی ماہر منجھے ہوئے کاریگر کی ہی ہوسکتی ہے۔ میں جس روز پروفیسر نسرین سے ملاقات کے لئے گئی اس روز شہزاد جیپ کے شیشوں پر رنگ کا کام کر رہے تھے۔ جس مہارت اور نفاست سے وہ یہ کام کر رہے تھے وہ یہ بتا رہا تھا کہ ہنر مندی کیا کیا شاہکار تخلیق کروا سکتی ہے۔ شہزاد حسین پچھلے بیس برسوں سے ٹرکوں پر آرٹ کا کام کر رہے ہیں ان کے والد قالین بافی کا کام کرتے تھے جبکہ انکے بھائی بھی اسی آرٹ سے منسلک ہیں۔ شہزاد سے میں نے سوال کیا کہ ٹرک پر کام کرنا تو عادت ہو گی جیپ پر یہ سب بنانا کیسا لگا ان کا کہنا تھا۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ یہ جیپ میڈم کے شوہر نے انھیں تحفے میں دی تھی اوریہ کئی برس ان کے زیر استعمال رہی تو اندازہ ہوا کہ ان کو اس جیپ سے کتنا لگاؤ ہو گا۔ میں نے اس کو بناتے وقت مختلف آرٹ کو شامل کیا ہے جس میں ایرانی اور ملتانی کام بھی شامل ہے جو بھی چیز بنائی اس کی فنیشنگ پر سب سے زیادہ توجہ دی۔ جبکہ رنگ وہی استعمال ہوئے ہیں جو ٹرک پر استعمال ہوتے ہیں انکی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ رنگ تیز دھوپ، برسات یا دھول مٹی سے بھی خراب نہیں ہوتے۔ تھوڑی سی دیکھ بھال سے یہ رنگ اگلے پندرہ بیس برس تک اپنی اصل حالت میں رہ سکتے ہیں۔
شہزاد یہ بتاتے ہوئے بہت خوش تھے کہ انھیں پروفیسر نے کام کرنے کی آزادی دی، اس جیپ پر مور، دیہات کی سادہ زندگی، پھول بوٹوں سے لیکر پاکستانی پرچم کو بہت خوبصورتی سے پینٹ کیا گیا ہے، جیپ کی چھت اور شیشوں پر بنے سبز ہلالی پرچم اس گاڑی کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ شہزاد نے بہت خوشی سے بتایا کہ اب تک میں نے جتنا بھی کام کیا کہیں بھی اپنا نام نہیں لکھا مجھے ذاتی طور پر یہ پسند ہی نہیں لیکن پروفیسر نسرین نے اس جیپ پر انکے ہنر کی ستائش کے لئے ان کا نام خاص طور سے لکھوایا ہے۔ وہ خود سے زیادہ شہزاد حسین کو اس بات کا خراج دیتی ہیں کہ شہزاد کی محنت کے سبب ان کی بورنگ سی جیپ آج ایسی تیار ہوئی ہے کہ یہ جہاں سے گزرے لوگ اسے نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ سیلفی بھی بناتے ہیں۔
پروفیسر نسرین اسلم شاہ نے اس شاندار جیپ اور کاریگر شہزاد حسین کو خراج تحسین دیتے ہوئے اسے سترویں یوم آزادی کے نام کیا ہے اور اسے آزادی جیپ کا ٹائٹل دے کر پاکستان کے لئے تحفہ قرار دیا ہے جو چودہ اگست کو کراچی کی سڑکوں پر آزادی کا جشن منانے کے لئے اب پوری طرح تیار ہے۔ تو جناب آپ تیار رہیں، چودہ اگست کو کیا پتہ جشن مناتے ہوئے آپ کو بھی اس اچھوتی، انوکھی، لاڈلی جیپ کے ساتھ ایک سیلفی بنانے کا موقع مل جائے جو انسٹاگرام، فیس بک یا ٹوئٹر پر جب پوسٹ ہو تو جیپ کے ساتھ آپ بھی مشہور ہوجائیں۔











