انکل ٹرمپ آپ مودی شیطان کی باتوں نہ آئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انکل آپ تو جانتے ہی ہیں نا ہم شریف بچے ہیں کبھی شرارت نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کو تنگ کرتے ہیں۔ ہم اپنا ہوم ورک پورا کرتے ہیں اور سبق بھی پورا یاد کرتے ہیں۔ ہم نے آپ کے کہنے پر عرب، فلسطین، مصر، عراق اور شام کے بچوں کو بھی اپنے ہاں رکھا اور ان کی تعلیم، وتربیت کا خاص خیال رکھا اور انھیں افغانستان کے کھیل کود کے میدانوں میں تربیت دے کر بین لاقوامی سطح پر کھیلنے کو تیار کیا۔ جو روس آپ کی قابو میں نہیں آرہا تھا اس کو ہم نے آپ کے ساتھ مل کر افغانستان کے ریگزاروں میں کیسی دھول چٹائی۔ ارے آپ بھول گئے کیا، آپ کی انگلی پکڑ کر ہم ہی آپ کو چین لے گئے تھے اور چینیوں سے ملاقات کروائی تھی اور رچرڈ نکسن کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔ آپ ہی ہم کو نیٹو اور سیٹو کے اتحادی کہا کرتے تھے اور اب یہ کیا ہوا کہ اس مودی کے بچے کی باتوں میں آکر آپ ہم پر ہی شک کر رہے ہیں۔ آپ جانتے نہیں یہ مودی کتنا شیطان ہے اور اس کو اور کائی کام نہیں بس ہر وقت لگائی بجھائی میں لگارہتا ہے۔ اس کا نہ آگے کوئی نہ پیچھے ، نہ جورو نہ جاتا ، جب سے چائے کے کھوکھے سے نکالا گیا ہے کمبخت مارا ہر وقت سازشوں میں لگا رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں نہ آنا، انکل ہمیں تو آپ جانتے ہی ہیں۔

اس مودی نے شکایت لگائی ہے کہ ہم نے آپ کے دشمنوں کو اپنے ہاں پال رکھا ہے۔ ہم بھلا آپ کے دشمنوں کو کیسے پال سکتے ہیں۔ ہم نے تو ان کو بھی آپ کے حوالے کیا جو آپ کے دشمن بھی نہیں تھے۔ آپ کے دشمن ہم کیسے پال سکتے ہیں۔ آپ بھول گئے یوسف رمزی کو کیسے آپ کے حوالے کیا تھا جس پر آپ کے ایک بیوقوف آدمی نے کہا تھا کہ ہم پیسے کے لئے۔ بس چھوڑیں ایسے بیوقوف لوگ تو باتیں کرتے ہی رہتے ہیں۔ ہم نے ایک افغان سفیر کو سفارتی تحفظ کے باوجود آپ کے حوالے کیا حالانکہ اس کی حکومت کو بھی ہم نے تسلیم کیا ہوا تھا اور اس کو سفارتکار کا درجہ بھی دے رکھا تھا۔ ہم نے آپ کے کہنے پر کس کس کو نہیں مارا اور کس کس کو آپ کے حوالے نہیں کیا۔ آپ حکم کریں تو اب بھی ہم لوگوں کو پکڑ پکڑ کر آپ کے حوالے کریں گے۔ ہم پر تو آپ کے حکم پر اپنے منتخب وزیر ا عظم کو پھانسی پر لٹکانے کا الزام ہے آپ مزید ہم سے وفاداری کا کیا ثبوت مانگتے ہیں۔

یہ مودی نہ صرف عقل کا بلکہ انکھوں کا بھی اندھا ہے، مرید کے نام کے گاؤں میں ایک اللہ کا ولی چند درویشوں کے ساتھ رہتا ہے اس کو مودی دہشت گرد کہتا ہے۔ حالانہ وہ اللہ کا ایک نیک بندہ ہے ، صوم و صلوۃ کا پابند اور نہ صرف پانچوں وقت کا نمازی بلکہ تہجد گزار بھی ہے۔ اس غریب کو اپنے گھوڑوں، گاڑیوں اور کشتیوں سے فرصت نہیں جو اس نے اللہ کے حکم کے مطابق تیار کر رکھے ہیں تو کیسے وہ کسی کے خلاف لڑائی جھگڑے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو خود ہی آکر مرید کے میں اس درویش کی جھونپڑی کا دورہ کرکے دیکھنا کہ وہ کس غربت کے عالم میں رہتا ہے جس کے خلاف مودی ایسی ایسی باتوں سے آپ کے کان بھرتا ہے۔

ایک اور درویش یہاں راولپنڈی میں رہتے ہیں جس کو آپ نے مودی کے کہنے پر دہشت گرد قرار دیا ہے۔ وہ تو شکل و صورت سے بھی ملنگ نظر آتا ہے۔ پہلے سری نگر میں حضرت بل کی درگاہ پر چلہ کیا کرتا تھا آج کل یہاں آستانہ گولڑہ شریف اور موہڑہ شریف کے بیچ میں کہیں گیان میں مصروف ہے۔ یہ بہت بڑے پہنچے ہوئے بزرگ ہیں جن کے بچے مودی کے ہاں سرکاری وظائف پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ خود یہاں تعویذ گنڈا کرکے اپنا گزارہ کرتا ہے۔ ان کے دم، درود اور تعویذ کی اتنی مانگ ہے کہ دور دور سے لوگ ان کے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔ ہم نے تو سنا ہے کہ جموں و کشمیر کی محبوبہ مفتی والی سرکار بھی ان ہی پیر صاحب کی کرامات کی مرہون منت ہے۔ فاروق عبداللہ بھی ان صاحب کرامات بزرگ سے فیض پاتے رہے ہیں جن سے آج کل یہ حضرت ناراض ہیں۔ آپ مودی کی باتوں میں نہ آیئں ورنہ آپ سے ایک صاحب کرامات بزرگ کو ناراض کرنے کی چوک ہو جائے گی۔

ایک اور ہستی جن کی وجہ سے آپ ہم سے ناراض ہیں وہ ہمارے اور آپ کے افغانستان میں یار غار رہے ہیں۔ آپ شاید بھول گئے کہ آپ کے بزرگ رونالڈ ریگن بھی اس ہستی کےشیدائی رہے ہیں۔ ان کو تو اچھائی کا مجسمہ قرار دیا گیا تھا اور امریکہ کے لئے خدائی تحفہ کہا گیا تھا۔ عربی جو افغانوں سے ہاتھ ملا کر فوراً دھوتے ہیں وہ ان بزرگ پر نہ صرف اشرفیاں نچھاور کرتے رہے ہیں بلکہ ان کو دامادی کا شرف بھی بخشا ہے۔ سنا ہے افغانستان کی جہادی صنعت کے زوال پزیر ہونے کے بعد یہ بزرگ آج کل پا بہ رکاب ہیں ، نگری نگری گھومتے پھرتے رہتے ہیں، شب و روز ٹھکانہ بدلتے ہیں اور اپنی آمد و رفت سے ہمیں مطلع بھی نہیں کرتے۔ اب بھی یہ حضرت صاحب کرامات ہیں ان کے ایک جنبش ابرو پر کوہ قاف سے جنات کے قطر، مری، جرمنی اور دبئی میں حاضر ہونے کے قصے تو آپ نے بھی سن رکھے ہوں گے۔

اشرف غنی بھی ان بزرگ صاحب کرامات کے فیض کی بدولت مسند اقتدار پر جلوہ فروز ہو پائے ہیں ورنہ افغان ایسے کسی بوڑھے شخص کو خیرات کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔ سلمانی ٹوپی پہنے اس بزرگ کا متحدہ عرب امارات م میں وسیع پیمانے پر پھیلا کاروبار بھی ہر کسی گنہگار کی انکھ کو نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہاں سے بڑی بڑی رقوم کی ترسیل کسی میلی انکھ والے کو نظر آتی ہیں۔ ان کی کشف و کرامات کا یہ عالم ہے کہ کابل اور ہرات میں آنے والے وقت میں ہونے والی باتوں کا بھی پہلے ہی سے بتا دیتے ہیں۔ آپ مودی کی باتوں میں آکر ان صاحب کرامات بزرگ ہستی پر شک نہ کریں اور نہ ہم پر۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ زندہ ہیں یا نہیں ہم تو بس ان کی پرچھائیں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آپ بھی ان کی عزت کریں اور مودی کی باتوں میں آکر ان بزرگ کی فیض سے محروم نہ ہوں۔ یاد رکھیں اشرف غنی اور افغانستان کے خود کو راہنما کہلانے والے دیگر چوچے کل آپ کے پاس پناہ لے کر آپ پر بوجھ ہوں گے مگر یہ بزرگ یہی پر فیض عام جاری کیے ہوں گے۔ آپ بھی اپنے بزرگوں کی طرح ان کی فیوض و برکات سے مستفید ہوں۔

آپ اور ہمارے پرانے اتحادی اپنے لونڈے ہمارے یہاں بھیجتے رہتے ہیں جو آپ کے ایک اور دیرینہ دشمن ایران میں ملاؤں کی حکومت کے خلاف کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب نے بلوچستان کی زمین کو اپنا کھیلنے کودنے کا میدان بنا دیا ہے جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملے ہیں۔ ہم ان کے خلاف بھی سر گرم ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایران میں مودی نے بھی ایک دوکان کھول رکھی ہے جہاں وہ بھی چائے کا کھوکھا چلانا چاہتا ہے۔ کاروباری حسد میں مودی ان لونڈوں کی شکایت کر رہا ہے حالانکہ یہ لونڈے آپ اور آپ کے اتحادیوں کو کچھ نہیں کہتے صرف ایران کے اتحادیوں اور ہمارے ہاں رہنے والے کچھ لوگوں کے سروں سے فٹ بال کھیل کر اپنا وقت گزار لیتے ہیں۔

انکل آپ اس مودی کی باتوں میں بالکل نہ آئیں یہ اندر سے سرخا ہے اور آپ کا مخالف ہے۔ یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے پہلے دن سے آپ کے ساتھ دوستی اور وفاداری بنھائی ہے۔ اس سے بڑھ کر ہماری محبت کا اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہمارے ہر جنرل اور بیوروکریٹ نے آپ کے ہاں سے پڑھا ہے اور تربیت حاصل کی ہے۔ ہماری اشرافیہ آپ کے ہاں رہنے اور آپ کی طرز زندگی کو اپنا شان سمجھتی ہے۔ ہمارے جنرلوں، بیوروکریٹس، سیاستدانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خاندان ہمارے اور آپ کے ملک کے بیچ میں منقسم ہیں۔ آپ مودی جیسے شیطان کی باتوں میں آکر اپنے وفاداروں سے منہ نہ موڑیں۔ ہم کل بھی آپ کے ساتھ تھے اور آئندہ آنے والے کل میں بھی آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ یہ مودی اور اس کے لوگ کل بھی آپ کے خلاف تھے اور آئندہ آنے والے کل میں بھی آپ کے خلاف ہوں گے۔ انکل ٹرمپ آپ مودی کی باتوں میں نہ آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 194 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan