ماہرِ نفسیات کی ڈائری۔۔۔ دو بہنوں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں جب 1977 میں داخلہ لیا تو مجھے ایک ماہرِ نفسیات بننے کا شوق تھا لیکن اس پیشے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔جن اساتذہ نے مجھے سائیکوتھیریپی کا فن سکھایا ان میں سے ایک یونانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سوتس کوٹسوپلس DR SOTUS KOTSOPOLOUS تھے۔ وہ ایک مہربان اور شفیق استاد تھے۔ ایک دن کہنے لگے میں کل ایک ٹین ایجر کا انٹرویو کر رہا ہوں اگر سائیکوتھیریپی سیکھنی ہے تو آ جانا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں فوراٌ تیار ہو گیا اور بڑے شوق سے ان کے ساتھ انٹرویو لینے چلا گیا۔

مریضہ کا نام جیولی تھا۔ وہ لنگڑا کر کمرے میں داخل ہوئی۔ جیولی کے ڈاکٹر نے تمام ٹیسٹوں کے بعد جیولی کے والدین کو بتایا تھا کہ اسے کوئی جسمانی بیماری نہیں ہے وہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہے جس کے لیے اسے ایک ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے۔ جب ڈاکٹر کوٹسوپلس نے میرے سامنے اس کا انٹرویو لیا تو جیولی نے بتایا کہ وہ نویں جماعت کی طالبہ ہے اور اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہے۔ پھر اس نے قدرے افسردگی سے بتایا کہ ان کے گھر میں اس کی بہن سارہ بھی رہتی ہے جو اس سے ایک سال بڑی ہے۔ جیولی نے یہ بھی ہمیں بتایا کہ سارہ اس سے زیادہ قابل‘ حسین اور ہردلعزیز ہے۔ انٹرویو نے آخر میں جب ڈاکٹر کوٹسوپلس نے جیولی کو بتایا کہ ڈاکٹر سہیل تمہارا نفسیاتی علاج کریں گے تو وہ راضی ہو گئی۔

میں نے جیولی کے علاج کی ذمہ داری تو قبول کر لی لیکن میں بہت پریشان ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ لڑکی لنگڑا کر چل رہی ہے اس کا علاج باتوں سے کیسے ہوگا۔ کسی جسمانی بیماری کا علاج نفسیاتی طریقے سے کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس سے اپنے شکوک کا اظہار کیا تو انہوں نے مجھے تسلی دی اور بتایا کہ چونکہ جیولی کے جسمانی عارضے کی وجہ نفسیاتی ہے اس لیے وہ نفسیاتی علاج سے ٹھیک ہو جائے گی۔ مجھے ڈاکٹر کوٹسوپلس کی بات پر یقین تو نہ آیا لیکن میں خاموش رہا۔ میں ایک طالب علم تھا اور وہ استاد اور میں ان سے سائیکوتھیریپی کا فن سیکھنا اور راز جاننا چاہتا تھا۔

جیولی نے ہر ہفتے آنا شروع کر دیا۔ میں اس کی باتیں سنتا اور اپنی ہمدردی کا اظہار کرتا۔ انٹرویو کے بعد میں ڈاکٹر کوٹسوپلس کو اس انٹریو کی تفاصیل بتاتا۔ جب چند ہفتوں کے بعد بھی مریضہ کو کوئی افاقہ نہ ہوا تو میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس کو بتایا کہ تھیریپی کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ میں نے کوئی پیش رفت نہیں دیکھی۔ ڈاکٹر کوٹسوپلس میرے موقف سے متفق نہ تھے۔ انہوں نے کہا تھیریپی کا پہلا قدم مریضہ کا تھیریپسٹ پر اعتماد ہے۔ جب وہ اعتماد قائم ہوتا ہے تو مریضہ اپنے دل کا حال سناتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مریضہ آہستہ آہستہ مجھ پر اعتماد کر رہی ہے یہ تھیریپی کی کامیابی کی نشانی ہے۔ میرا دل تو نہ مانا لیکن میں اپنے استاد کے آگے خاموش رہا۔

چند ہفتوں کے بعد میں نے جیولی میں ایک نمایا ں فرق دیکھا۔ وہ لڑکی جو اکثر مسکراتی رہتی تھی غصے میں آنے لگی۔ اس کا غصہ اپنی بہن کے بارے میں تھا۔ آخر ایک دن اس کے اندر کا خفتہ آتش فشاں پھٹ پڑا۔ کہنے لگی ’ میری بہن نے میری زندگی تباہ کر دی ہے۔ سب اسے پسند کرتے ہیں مجھے کوئی پسند نہیں کرتا۔ سب اسے عقلمند اور مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں۔ سب اسے خوبصورت اور مجھے بدصورت گردانتے ہیں۔ اس کے گرد دوستوں کا حلقہ رہتا ہے اور میں تنہا رہتی ہوں‘ جیولی کو سب سے زیادہ غصہ اس بات کا تھا کہ لوگ اس سے کہتے تھے ’تم اپنی بہن کی طرح بن جائو‘۔ ایک دن جیولی غصے میں کہنے لگی ‘جب تک سارہ زندہ رہے گی میں خوش نہیں رہ سکتی‘۔

میں نے جیولی سے تو ہمدردی کا اظہار کیا لیکن دل میں سوچا ’میں آخر اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘

ایک دن میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس سے کہا کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں جیولی کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں تھیریپی میں ناکام ہو جائوں گا۔ جیولی تو ٹھیک نہیں ہو رہی میں خود پریشان ہو رہا ہوں۔ ڈاکٹر کوٹسوپلس نے ایک دفعہ پھر میرا حو صلہ بڑھا یا اور مجھے بتایا کہ تھیریپی کامیابی کی طرف جا رہی ہے۔ کیونکہ میں نیا تھیریپسٹ ہوں اس لیے ہمت ہار رہا ہوں۔ مجھے یوں لگا جیسے میں جیولی سے ہمدردی کر رہا تھا وہ مجھ سے ہمدردی کررہے تھے۔

آخر ایک دن میرے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا اور میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس سے پوچھ ہی لیا کہ مریضہ لنگڑا کے چلتی ہے وہ میری باتوں سے کیسے ٹھیک ہوگی۔ ڈاکٹر کوٹسوپلس مسکرائے اور کہنے لگے’ آپ کی نگاہ میں جیولی کے لنگڑانے کے کیا معنی ہیں؟‘ میں اس سوال کے لیے تیار نہ تھا اس لیے خاموش رہا۔ وہ کہنے لگے ’ہر بیماری کے ایک نفسیاتی معنی ہوتے ہیں۔ میں تمہیں جیولی کے نفسیاتی مسئلے کے بارےمیں اپنی رائے بتاتا ہوں تم اس پر غور کرنا‘۔ اس کے بعد ڈاکٹر کوٹسوپلس نے کہا ’ جیولی سبلنگ رائولری SIBLING RIVALRY کا شکار ہے۔ وہ اپنی بہن سے حسد کرتی ہے۔ لوگ سارہ کو پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے جیولی لنگڑا کر چلتی ہے۔ وہ لاشعوری طور پر چاہتی ہے کہ لوگ اس سے ہمدردی کر یں اور وہ ان کی توجہ حاصل کر سکے۔ جیولی کے لنگڑانے کی وجہ سے اس کے والدین اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے‘ ڈاکٹر نے اس کے ٹیسٹ کیے‘ ہمارے پاس بھیجا اور اب تم ہر ہفتے اس کی باتیں سنتے ہو اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہو۔ یہ سب اس کے لنگڑانے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر وہ نفسیاتی مسئلے کا شکار نہ ہوتی تو اسے اتنی توجہ نہ ملتی۔ فرائڈ اسے نفسیاتی مسئلے کا سیکنڈری گین SECONDARY GAIN کہتا تھا۔‘

میں ڈاکٹر کوٹسوپلس کی تھیوری سے ذہنی طور پر بہت متاثر ہوا لیکن میرا دل پھر بھی نہ مانا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ڈاکٹر کوٹسوپلس کی ذہنی اختراع ہو اور اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہ ہو لیکن میں شاگرد تھا خاموش رہا۔ چند ہفتے اور گزر گئے۔ اب میں بالکل مایوس ہو گیا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ میں غلط پیشے میں آگیا ہوں۔ مجھے ڈاکٹر ہی رہنا چاہیے تھا ماہرِ نفسیات نہیں بننا چاہیے تھا۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس سے کہا کہ میں مایوس ہوتا جا رہا ہوں۔

ڈاکٹر کوٹسوپلس ہمیشہ کی طرح مسکرائے اور کہنے لگے ’مایوس نہ ہو۔ نفسیاتی علاج کچھوے کی طرح ہے تم خرگوش کی طرح چلنا چاہتے ہو۔ نفسیاتی علاج مریض اور ڈاکٹر دونوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ جیولی کوفائدہ ہو رہا ہے لیکن ابھی تمہیں نظر نہیں آ رہا۔‘

’اب میرا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟‘ میں نے ڈاکٹر کوٹسوپلس سے رہنمائی چاہی۔ کہنے لگے ’تم جیولی میں کوئی ایسی خصوصیت تلاش کرو جو اس کی بہن میں نہین ہے۔ قدرت ہر انسان کو ایک تحفہ دیتی ہے تم جیولی کا فطرت کا تحفہ تلاش کرو۔ اس سے اس کی شفایابی ہوگی۔ جب وہ اپنا تحفہ جان لے گی اور اسے پروان چڑھائے گی تو اس کی خود اعتمادی بڑھے گی اور اسے اپنی بیماری سے توجہ حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔‘

اب میرے لیے تھیریپی میں نیا چیلنج پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے بعد میں نے جیولی سے ایک نئے انداز سے انٹرویو لینے شروع کیے۔ چند ہفتوں کے بعد مجھے پتہ چلا کہ جیولی کو موسیقی کا بہت شوق تھا اور وہ بہت اچھا پیانو بجا سکتی تھی۔ میں نے مشورہ دیا کہ وہ پیانو کی باقاعدگی سے مشق کرے۔ اس نے میرے مشورے کو قبول کر لیا۔

اس تبدیلی کے بعد جیولی اور میں اس کے مسائل کی بجائے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کے بارے میں بات کرنے لگے۔وہ جتنا پیانو بجاتی اسے اتنی ہی خوشی ہوتی۔ پھر اس نے اپنے سکول کے پروگراموں میں پیانو بجانا شروع کیا اور لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگے۔ وہ ایک موسیقار کی حیثیت سے جانی جانے لگی۔ اب اس کی باتوں میں دکھ کی بجائے سکھ اور آنسوئوں کی بجائے مسکراہٹیں دکھائی دیتیں۔ آہستہ آہستہ جیولی خوش رہنے لگی۔

اور پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے جیولی کی اور میری زندگی کو بدل دیا۔

جیولی کے سکول کا سالانہ پروگرام تھا۔ ہال میں سینکڑوں لوگ جمع تھے۔جیولی کے والدین پہلی قطار میں بیٹھے تھے۔ جیولی کو سٹیج پر پیانو بجانے کے لیے بلایا گیا تو وہ لنگڑا کر گئی۔ اس نے پیانو بجانا شروع کیا تو لوگ مسحور ہو گئے۔ جب اس نے پیانو بجانا بند کیا تو سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور لوگ داد دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جیولی جذبات سے مغلوب ہو کر بھاگی اور اپنی مان سے لپٹ گئی۔ جب وہ بھاگ رہی تھی تو سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ بالکل لنگڑا نہیں رہی تھی۔ اس دن کے بعد جیولی کبھی نہیں لنگڑائی۔ اس کے والدین کو بالکل یقین نہ آیا کہ جیولی صحتیاب ہو گئی ہے۔

اس دن کے بعد جیولی اپنے سکول کا سٹار بن گئی۔ سب اسے ایک موسیقار کے طور پر جاننے لگے اور اس کی زندگی میں خوشیاں لوٹ آئیں۔

اس تھیریپی کے بعد جیولی ایک فنکار بن گئی اور میں ایک تھیریپسٹ۔ ڈاکٹر کوٹسوپلس نے ہم دونوں کو یقین دلایا کہ فطرت نے ہمیں ایک خاص تحفہCREATIVE GIFT دیا ہے اور اس تحفے کی آگہی ہماری صحت‘ ہمارے ذہنی سکون اور ہماری زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ اسی لیے اب کینیڈا میں میرے کلینک کا نام CREATIVE PSYCHOTHERAPY CLINIC ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 254 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail