ٹرپل طلاق کا فیصلہ ایک لمحہ فکریہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کی مثال اس شخص کی کہانی سے سیکھی جا سکتی ہے جو دھوپ میں‌ بازار کے بیچ کھڑا ہوا برف بیچ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے۔ آج کل انڈیا، پاکستان اور امریکی خبروں‌ میں‌ ٹرپل طلاق کے خلاف انڈیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق پڑھا۔ اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کے لئیے ایک فتح تصور کیا گیا۔ شاید یہ خبر سن کر مجھے خوشی محسوس کرنی چاہئیے تھی لیکن نہیں۔ میں‌ نے یہ خبر سن کر خوشی نہیں بلکہ نہایت افسوس محسوس کیا۔ افسوس اس بات کا کہ ہمارے معاشرے نے اپنی بیٹیوں کا معیار اتنا نیچے کردیا کہ اگر کوئی ان کو تاج محل کے بجائے اس کے پوسٹ کارڈ کی فوٹو کاپی پھینک کر دے اور واپس لینے کی دھمکی دے تو وہ اس کو بھی قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ بہشتی زیور پڑھا کر اچھے شوہر کا معیار اتنا کم کردیا گیا کہ وہ دیوار پر لٹکی ہوئی تصویر کی طرح‌ کافی ہے۔ ان کو یہی بتایا گیا کہ اگر کسی کا شوہر مارے پیٹے نہیں، نشہ نہ کرے اور بل ٹائم پر دے تو اس سے اچھا شوہر کیا ہوگا؟ ابھی اس بات کو سمجھنے میں‌ بہت وقت لگے گا کہ ہر انسان کی منفرد شخصیت، خواہشات، ارادے اور عزائم ہیں اور ان خواتین کو کسی اور کی کہانی کا ایک کردار ہونے کے بجائے خود اپنی کہانی کا مرکزی کردار بننے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کو بھی اتنے ہی جذباتی سہارے اور وقت کی ضرورت ہے جس کی ان سے توقع کی گئی۔

ایک مریض کو تھائرائڈ کی بیماری کے ساتھ بھیجا گیا۔ اس نے کہا کہ جو بھی علاج کرنا ہے اسی مہینے کردیں کیونکہ میری بیوی مجھے طلاق دے رہی ہے۔ پچھلے دس سال سے ہم شادی شدہ تھے، ہیلتھ انشورنس اس کی جاب سے جڑی تھی جو ایک مہینے میں‌ ختم ہوجائے گی۔ میں جاب نہیں‌ کرتا تھا اور ہماری بچی کو پال رہا تھا۔ اب میں‌ اپنے لئیے جاب اور اپارٹمنٹ ڈھونڈ رہا ہوں۔

ایک اور مریضہ کو تھائرائڈ کی پرابلم کے ساتھ بھیجا گیا۔ ان کی دوا کی ڈوز بہت زیادہ تھی۔ ہم سے پچھلی نسلوں‌ کے امریکی ڈاکٹر زیادہ تر سفید فام مرد تھے۔ ان کے زمانے میں‌ آج کل کی طرح‌ کی نہ تو ریسرچ موجود تھی اور نہ ہی ٹیسٹ ابھی اتنے حساس تھے۔ کافی خواتین کی غلط تشخیص بھی ہوئی اور ان کو تھائرائڈ کی دوا دینا شروع کی گئی حالانکہ ان کو تھائرائڈ کی بیماری نہیں‌ تھی۔ ان کی شکایات دور کرنے کے لئیے دوا کی ڈوز بڑھاتے گئے۔ حالانکہ جب تک کسی مسئلے کی جڑ کو سمجھ کر اس کو ٹھیک نہ کیا جائے، ہر دوسرا علاج ایسے ہی ہے کہ زخم پر بینڈ ایڈ لگا کر اس کو چھپادیا جائے۔ ان خاتون کو پچھلے دس سال سے ضرورت سے زیادہ دوا مل رہی تھی جس کے الگ مسائل ہیں جن کا میں‌ نے ایک پچھلے مضمون میں‌ ذکر کیا تھا۔ بہرحال ان کی دوا گھٹاتی گئی۔ ہر دو مہینے بعد وہ واپس آتیں اور ان کی شکایات ختم ہونے کا نام نہ لیتیں۔ مجھے سمجھ نہیں‌ آ رہا تھا کہ ان کا کیا پرابلم ہے۔ پہلے میں‌ نے یہی سمجھا کہ اتنا عرصہ زیادہ دوا لینے کی وجہ سے ان کو تھائروٹاکسک ہونے کی عادت پڑ گئی ہے اس لئیے وہ نارمل لیول پر ٹھیک محسوس نہیں کر رہیں۔ وہ ایک ادھیڑ عمر کی نرس تھیں۔ اتنا بیمار رہنے کی وجہ سے ان کو اپنے کام سے چھٹی بھی لینی پڑی۔ کوئی میڈیکل مسئلے کے نہ ہونے کی وجہ سے آخرکار میں‌ نے انہیں سائکالوجسٹ کے پاس ریفر کیا۔ اس کے دو مہینے کے بعد وہ آئیں تو بہت ٹھیک لگ رہی تھیں۔ وزن بھی کچھ بڑھ گیا تھا اور بال بھی اچھی طرح‌ بنائے ہوئے تھے۔ آنکھوں کے گرد حلقے کم ہوگئے تھے۔ اس دن انہوں‌ نے مجھے یہ بتایا کہ کس طرح ان کے گھر میں ان کے شوہر کے ساتھ مسائل چل رہے تھے اور سائکوتھیراپی کے بعد انہوں‌ نے علیحدگی اختیار کی اور اب بہتر محسوس کررہی ہیں۔ ایک نرس ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے شوہر کے صحت کے مسائل کی وجہ سے بہت ہمدردی محسوس کی جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے۔ حالانکہ باہر سے دیکھ کر ہم ان خاتون کے بارے میں یہ کبھی نہیں‌ سوچ سکتے تھے۔

ساؤتھ ایشین خواتین سے ایسی توقعات باندھی جاتی ہیں جو ہرگز انصاف کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں۔ انڈیا میں‌ اب بھی کئی جگہوں‌ پر یہ رواج ہے کہ شادی ہونے کے بعد لڑکی کا نام بدل دیتے ہیں اور اس کو اپنے میکے جانے کی قطعاً اجازت نہیں‌ ہوتی۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ اگر کسی آدمی پر قرضہ ہوتا تو وہ اپنی بیوی کو اس آدمی کے گھر چھوڑ آتا تھا جس کا اس پر قرضہ ہو۔ اسے جو حکم ملے اس کو کرنا ہوتا تھا۔ جب قرضہ چکتا ہوجاتا تو وہ اس خاتون کو واپس بھیج دیتے تھے۔ مجھے یہ جان کر حیرانی نہیں‌ ہو گی اگر آج بھی یہ حالات چل رہے ہوں۔ حالانکہ وقت بدل گیا لیکن یہ خیالات اور توقعات اب بھی شعور اور لاشعور کا حصہ ہیں۔ غلامی کی شکلیں بدل گئی ہیں‌ لیکن وہ زندہ ہے۔

جب ہم لوگ انٹرنل میڈیسن میں‌ پٹسبرگ میں‌ ریذیڈنسی کررہے تھے تو ہمارے ساتھ ایک نیپالی جوڑا بھی ریذیڈنسی کررہا تھا جو ہمارے جونیئر تھے۔ اس لڑکی کی ساس اس کو فون کرکے کہتی ہیں کہ تم روزہ رکھو تاکہ بپن کی عمر لمبی ہو۔ اس نے مجھ سے کہا کہ بپن میرے لئے روزہ نہیں رکھ رہا کہ میری عمر لمبی ہو تو مجھے اس کے لئیے روزہ کیوں‌ رکھنا چاہئیے؟ یہ دونوں‌ برابر پڑھے لکھے تھے، نوکری اور تنخواہ بھی برابر تھی، سب خواتین یہ سوال اٹھانے کی پوزیشن میں‌ نہیں‌ ہوتیں۔ انہیں پدرانہ نظام نے مجبور کردیا کہ اپنی عزت نفس، خوشی، خود ارادیت اور آزادی اپنے اور اپنے بچوں کے لئیے چھت اور تنخواہ کے لئیے تیاگ دیں۔ ایسا کرنے میں‌ انہوں‌ نے اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ کوئی انسان دل میں‌ خوش صرف اس طرح‌ نہیں‌ رہ سکتا کہ اس کی زندگی باہر سے متوقع اور پرفیکٹ دکھائی دے رہی ہو۔ جب کوئی انسان خوش نہیں‌ ہوتا تو یہ ناخوشی اس کے اردگرد بھی ناخوشی پھیلاتی ہے۔ عمر خیام کہتے ہیں کہ کتنا اداس ہے وہ دل جو نہیں‌ جانتا کہ محبت کیسے کی جاتی ہے، جو نہیں جانتا کہ محبت کے نشے میں‌ ہونا کیا ہے۔ اگر تم محبت میں نہیں‌ تو سورج کی اندھا کردینے والی یا چاند کی نرم روشنی سے کس طرح‌ لطف اندوز ہوسکتے ہو؟ ایک کہاوت ہے کہ اٹ ٹیکس ٹو ٹو ٹینگو! یعنی ٹینگو کرنے کے لئیے دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ انسان بدلتے جاتے ہیں اور اگر پارٹنرز اتنے بدل چکے ہوں‌ کہ ساتھ میں ناخوش ہوں گے تو جدا ہونا بہتر ہے۔ ایسے حالات میں معاشی سہارے کے لئیے جڑا رہنے پر مجبور ہونا نہ تو بیٹیوں کے لئیے اچھا ہے اور نہ ہی بیٹوں کے لئیے۔

ہمارے اپنے ماں باپ، بہن بھائی، بچوں، اسپاؤس، پڑوسی، ایمپلایر اور حکومت کے ساتھ اخلاقی اور قانونی کانٹریکٹس ہیں۔ ہر تعلق باہمی ضروریات اور ذمہ داریوں‌ پر استوار ہے۔ جہاں‌ طاقت کا توازن بگڑا ہو وہاں ایک نارمل تعلق ممکن نہیں۔ ان حالات میں‌ ایک جابر حکومت، بچوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی، غریبی، بیماری اور بدحالی پنپتی ہے۔ کسی بھی انسان کے ایک نارمل اور باہمی فوائد پر مبنی تعلق بنانے کے لئیے سلف ایسٹیم یعنی کہ عزت نفس نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں امیر غریب کی تفریق ہو، جہاں‌ لوگوں‌ کے اتنے بچے ہوں‌ کہ ہر بچے کو وہ توجہ نہ دی جاسکے جس کی اس کو ضرورت ہو اور لوگوں کو ایسے راستے میسر نہ ہو جن میں وہ اپنی صلاحیتیں آزما سکیں، جہاں‌ باہر سے خود کو پرفیکٹ دکھانے کا رواج ہو چاہے اپنی زندگی میں‌ سنجیدہ مسائل ہوں، تو ایسے ماحول میں افراد میں‌ عزت نفس نہیں پنپ سکتی۔ جب ان افراد کو ایک پارٹنر ملے جو کہ زندگی بھر کے ایک برابر کے ساتھی کے بجائے ان کا ماتحت یا سپیریر قرار دیا جائے اور ان افراد کو کمزور بچے مل جائیں جو دنیا کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ گریں‌ پڑیں گے، غلطیاں کریں‌ گے تو ان کو ایسے انسان مل جاتے ہیں جن کو دبا کر، ان پر تشدد کرکے وہ خود کو بہتر، برتر اور اعلیٰ محسوس کرسکیں۔ یہ بات مہذب دنیا سمجھتی ہے، اسی لئیے کئی ترقی یافتہ ملکوں‌ میں بچوں کو جسمانی سزا دینا غیر قانونی ہے۔ جسمانی سزا سے بچوں‌ کی شخصیت بہتر نہیں بلکہ مجروح ہوتی ہے اور یہ چائلڈ ابیوز کے شکار بچے صرف بیمار ذہنوں‌ کے والدین اور اساتذہ کے اپنی فرسٹریشن کو نکالنے کے لئیے تختہء مشق ہیں۔

یہ جھوٹ ہے کہ گھر خواتین کے لئیے سب سے زیادہ محفوظ جگہیں ہیں۔ ریسرچ سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر تشدد کے واقعات، ریپ اور قتل گھروں‌ میں‌ ہی ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں‌ حاملہ خواتین میں موت کا سب سے بڑا سبب ان کے شوہروں‌ کے ہاتھ ان کا قتل ہے۔ حالانکہ گھر وہ جگہ ہونی چاہئیے جہاں دن بھر کے اسکول اور کام سے لوٹے انسان سکون اور پناہ محسوس کریں۔ ہمارے پیارے شاعر کے مطابق کتنے افسوس کی بات ہے کہ کسی دل میں‌ شعلہ نہ ہو اور وہ روشنی سے خالی ہو۔ کہتے ہیں‌ کہ وہ دن جس میں‌ تمہارا دل محبت کے جذبے سے سرشار نہ ہو، وہ تمہاری زندگی کا سب سے ضائع دن ہے۔

آج کل جس طرح‌ کے حالات دیکھ رہی ہوں۔ خاص طور پر ٹرمپ امریکہ میں جس طرح‌ ری پبلکن پارٹی خواتین کے صحت کے بجٹ میں سے پیسے کاٹ رہی ہے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ خواتین کے جسم کو ہی ان کے خلاف استعمال کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ وہ اپنی بے وقوفی میں‌ یہ نہیں سمجھ رہے کہ ایسا کرنے سے وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی ماریں گے۔ وہ بھی پاکستان اور انڈیا کی طرح آبادی میں‌ آپے سے باہر ہوجائیں گے جہاں‌ ہر مسئلے کا حل موت ہے۔ ابھی تک وہاں وہی حالات چل رہے ہیں جیسے پرانے زمانے میں جانوروں‌ کی میڈیسن کے دائرے میں تعلیم کم تھی اور جب بھی کسی گھوڑے کو کوئی بیماری ہوتی تو اس کا ایک ہی علاج تھا اور وہ تھا “شوٹ” یعنی کہ گولی ماردو۔ ٹرمپ کی حکومت سائنس، تعلیم، صاف توانائی کے میدان اور خواتین کی صحت کے بجٹ پر حملہ کررہی ہے۔ دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے آج یہ کہنا لازمی ہے کہ ہمیں اپنی بیٹیوں‌ اور بیٹوں کو معاشی طور پر مضبوط بناکر اپنے پیروں‌ پر کھڑا ہونے کے لائق بنانا ہوگا اور ان کو ایسی زندگی گذارنے پر مجبور کرنے سے گریز کرنا ہوگا جس میں‌ وہ اپنے گھروں میں‌ ناخوش ہوتے ہوئے ہمارے جھوٹے بھرم کے لئیے باہر مسکرانے پر مجبور ہوں۔

عمر خیام کہتے ہیں‌ کہ “اس بات کو سمجھئیے کہ ایک دن آپ کی روح آپ کے جسم کو چھوڑ دے گی اور آپ اس پردے کے پیچھے کھینچ لئیے جائیں‌ گے جو ہمارے اور نامعلوم کے درمیان تیرتا ہے۔ جب تک آپ اس لمحے کا انتظار کریں، خوش رہئیے کیونکہ نہ آپ یہ جانتے ہیں‌ کہ آپ کہاں‌ سے آئے اور نہ ہی یہ کہ آپ کہاں‌ جارہے ہیں۔”

اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کو طلاق دیں یا ان کے شوہر ان کو طلاق دیں تو ان کو ساتھ صرف اس لئیے رہنے پر مجبور نہیں ہونا چاہئیے کہ ایک پارٹنر اپنا اور اپنے بچوں‌ کا پیٹ نہیں‌ پال سکے گا۔ شادی زندگی بھر کا نہ بھی ہو ایک متوقع طویل عرصے کا تعلق تو ہے اس لئیے ایسے پارٹنر چننے کو ترجیح دینا ہوگی جو اپنے پیروں پر کھڑے ہوں تاکہ وہ ایک دوسرے کی زندگی خراب نہ کریں۔ ٹرپل طلاق کا فیصلہ آج ایک لمحہء فکریہ ہے۔ کیا یہ پروگریس کو ظاہر کرتا ہے یا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم کتنے پسماندہ ہیں۔ اور کچھ نہیں تو اتنا ہی سوچنا ہوگا کہ وی اونلی لو ونس! ہم صرف ایک بار جیتے ہیں‌۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •