ڈارون کی شرمندگی اور ہمارے قابل سائنسدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے بہترین تحقیقی مضمون ”عظیم الجثہ انسانی ڈھانچوں کی دریافت اور ڈارون کی شرمندگی“ پر دیسی سائنسدان نہایت برہم ہیں۔ برہمی کی بات تو ہے۔ سائنسدان وہ کہلاتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق ہم نے کر دی ہے اور وہ غالباً جلاپے کا شکار ہو کر تبصرے کر رہے ہیں۔

ویسے عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ تل ابیب ساحل سمندر پر واقع ہے۔ اس کے عین مغرب میں نرا سمندر ہی ہے۔ اس کے دو سو کلومیٹر عین مغرب میں گئے تو آپ گہرے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ النقیب کا صحرا اس کے مغرب میں نہیں بلکہ جنوب میں ہے۔ اسرائیل کی شمالاً جنوباً لمبائی 424 کلومیٹر اور شرقاً غرباً 15 کلومیٹر سے 114 کلومیٹر تک ہے۔ جنوب میں چلے گئے تو مصر کے صحرائے سینا میں پہنچ جائیں گے۔ بدقسمتی سے ادھر جولائی اگست کا مون سون کا موسم بھی نہیں ہوتا۔ اسرائیل بحیرہ روم کا ملک ہے، ادھر سردیوں میں بارش ہوا کرتی ہے۔ بحیرہ مردار نامی جھیل صحرائے النقیب میں نہیں ہے۔ ادھر سے دریائے اردن بھی نہیں گزرتا۔ صحرائے النقیب اسرائیل میں بحیرہ مردار کے جنوب میں ہے تو دریائے اردن اس کے شمال میں بحیرہ گلیلی سے نکل کر بحیرہ مردار کے شمالی کنارے پر ختم ہو جاتا ہے۔ نہ ہی وادی المردار کسی نقشے پر دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

صحرا میں بڑا ڈیم بنانا بھی کچھ مشکل ہوتا ہے۔ ڈیم کے لئے کچھ کچھ پہاڑی علاقہ ہو تو ہی گزارا ہوتا ہے۔ بڑے ڈیم کو صحرا کی زمین کھود کھود کر صرف ہم جیسے دانشور ہی بنا سکتے ہیں۔ وہ بھی ایک گرم خطے میں عین جون کے گرم ترین مہینے میں۔ پھر 2004 میں سٹیو جاب سے بھی تین برس پہلے ایک مہنگا ترین فون آئی فون ایجاد کر کے ایک غریب ترین مزدور کو دینا بھی فاضل مضمون نگار کا معجزہ ہی ہے۔ ڈاکٹر وائزمین کا دنیا بھر کے نصاب کی تشکیل سے تعلق جوڑا صرف ہم جیسے مصنفین کے لئے ہی ممکن ہے۔

نظریہ ارتقا پر ابتدائی کام مسلمان سائنسدانوں نے ہی کیا تھا۔ ڈارون وغیرہ تو صدیوں بعد آئے۔ مضمون میں عظیم الجثہ سے چھوٹا ہونے پر اعتراض کیا گیا ہے کہ ارتقا کی رو سے یہ ممکن نہیں ہے۔ ارتقا میں یک خلیاتی سے بڑا جاندار بننے کے علاوہ عظیم الجثہ سے چھوٹا ہونا عین ممکن ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ چڑیاں طوطے کسی زمانے میں ڈائنوسار ہوا کرتے تھے۔

اس مضمون میں انٹرنیٹ پر چلنے والی ہر تصویر کو بلاتحقیق نہایت عقیدت کی نگاہ سے دیکھنے کے رویے پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ خواہ ہوا میں معلق پتھر ہو، یا یہ ڈھانچے، یا ایسی ہی دوسری کرامات، ہم ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے عادی ہیں حالانکہ گوگل پر ایک سرچ کر کے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کرامت فوٹوشاپ کی ہے۔

تو بات بات پر کنفیوز ہو جانے والے صاحبو، بات یہ ہے کہ آپ کو منطق اتنی ہی زیادہ اچھی لگتی ہے تو اسے کبھی کبھار استعمال کر کے دیکھ لینا چاہیے کہ تحریر کی بنیاد کیا ہے اور اس کا منطقی تجزیہ کیا کہتا ہے۔ اسرائیل میں عظیم الجثہ پائے گئے انسانوں پر محنت کرنے سے پہلے اسرائیل کا نقشہ ہی دیکھ لینا چاہیے اور جماعت پنجم کی معاشرتی علوم کی کتاب سے بحیرہ روم کے خطے کا موسم ہی جان لینا چاہیے۔

ورنہ گمراہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ آپ کو بھی گمراہ کرتے رہیں گے۔ یک رخی جذباتیت کی بجائے منطقی انداز میں تجزیہ کرنے، ایک سے زیادہ پہلو دیکھنے اور ہنسنا سیکھنے پر توجہ دینا نہایت مفید رہتا ہے۔ مشورہ یہی ہے کہ اگر آپ حضرات سائنس کی کتابیں چھے مہینے ایک سال تک ایک طرف رکھ کر ادب و ثقافت ملاحظہ کرنے پر توجہ دیں گے تو نہایت مفید ہو گا۔ یہی پڑھ لیں کہ ادب اور ثقافت ایک متوازن شخصیت اور رواداری کے لئے کیوں ضروری مانے جاتے ہیں۔ اتنا وقت نہیں ہے تو پھر لطیفے ہی پڑھ لیا کریں۔

ورنہ آپ کے اس تمام تر عظیم ترین سائنسی علم کے باوجود جس سے آپ ہمیں ڈھیر کر رہے ہیں، جب ایجادات و تخلیقات کے پیٹنٹ کی فہرست دیکھی جائے گی تو یہی علم ہو گا کہ ہمارے اعلی ترین سائنسی دماغ تخلیقی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور اس فہرست میں ان کا نام ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

ویسے اگر آپ مضمون کے نیچے درج مضمون نگار کا تعارف پڑھ لیتے تو آپ کو ممکنہ طور پر نہ تو اتنی زیادہ سائنس لڑانی پڑتی اور نہ ہی آپ کا خون اتنا زیادہ کھولتا۔ بھئی ہمارے سائنسدان بھی کمال ہیں۔ دستیاب شواہد کو نظرانداز کر کے ہی نتیجہ نکال دیتے ہیں۔

نیچے درج مضمون نگار کا تعارف: عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔


اسی بارے میں

عظیم الجثہ انسانی ڈھانچوں کی دریافت اور ڈارون کی شرمندگی

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar