کیا عورت کی شادی ہی اس کا حتمی مقصد زندگی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں بہت سےمعاملات اہم ہیں جو زندگی کی کامیابی کے لیے راستہ فراہم کرتے ہین۔ انسان کو جینے کے لیے اور ڈھنگ کی زندگی گزارنے کے لیے تعلیم، تربیت، اچھی ملازمت یا کاروبار اور ممکنہ بہتر مستقبل چاہیے۔ ہر انسان اس کی کوشش کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل رہا ہے تعلیم اور پروفیشنل ڈگری اب لڑکیوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ لڑکوں کے لیے۔ والدین اپنی بچیوں کو ہر ممکن طور سے ہنر مند بنانا چاہتے ہیں معاشرے میں یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ لڑکیوں کو کم از کم معاشی طور پہ آزاد اور خود مختار ہونا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ روایتی طرز فکر بھی بہت گہرائی مہیں موجود ہے جہاں زندگی کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ شادی کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ زندگی کا حصہ نہین بلکہ مکمل زندگی تصور کیا جاتا ہے۔

وہ والدین جو اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلواتے ہیں وہ بھی اس سوچ سے محفوظ نہیں ہیں کہ خدا جانے بے چاری کا نصیب کیا ہوگا۔ وہ نصیب جو ایک ایسے انسان سے بندھا ہے جس کا چناؤ سب رشتوں اور تعلقات میں منفرد انداز سے کیا جاتا ہے۔ کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کےدوستوں کا چناؤ والدین کرتے ہوں اور بچے اس دوستی کو نبھانے کے پابند ہوں؟ اور وہ خوشی سے ایسا کر رہے ہوں؟ یا کسی بھی فرد کے حلقہ احباب کا چناؤ خاندان کے سٹیٹس، ذات پات اور معاشی رتبے کو دیکھ کے کیا گیا ہو؟ اور وہ کامیاب رہا ہو۔ یہ معاملات ہیں جو فرد کے میلان طبعیت پہ منحصر ہوتے ہیں انہیں زبردستی سر پہ سوار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن واحد وہ رشتہ جس کی بنیاد باہمی محبت، احترام، ذہنی رحجان اور ہم آہنگی پہ ہونا لازم ہے اس کے چناؤ کے لیے سٹیٹس، ذات پات، زبان، معاشی حیثیت پہلی ترجیح ہوتی ہیں اور باقی سوچ، خیال، ہم آہنگی سب ثانوی حیثیت پہ چلی جاتی ہیں بلکہ اکثر اوقات ان معاملات پہ سوچا ہی نہیں جاتا۔ یہ شادی کم اور کاروبار زیادہ لگتا ہے۔ جیسے کسی جانور کو دوسرے جانوروں کے ساتھ یہ سوچ کے ایک ہی جگہ رکھ لیا جائے کہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے عادی ہو جائیں گے۔ تو یہ ہے وہ نصیب جیسے آپ خود اپنے ہاتھوں سے بنا کے کسی نادیدہ طاقت کی طرف سے اپنے اوپر مسلط کیا گیا سمجھتے ہیں۔ اور اسی کیوجہ سے خود بھی اندھرے میں جیتے ہیں اور اپنی بچیوں کو بھی کنفوژن کا شکار کرتے ہیں۔

زندگی میں تعلیم یا ملازمت کے دوران اتنے مشکل اور عجیب سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جتنا کے شادی کے انتہائی ذاتی معاملے پہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے پس منظر میں وہی سوچ ہے جس کے مطابق ایک محفوظ مستقبل شادی کے مرہون منت ہے۔ کچھ ماہ پہلے کی بات ہے نشنل اپٹیٹوڈ ٹسٹ کے سلسلے میں ایک جگہ جانا ہوا وہاں ایک خاتون اپنی بچی کے ساتھ آئی ہوئی تھیں باتوں باتوں میں کہنے لگیں تعلیم تو ہم اپنی بچی کو اعلی دلوائیں گے لیکن خدا نصیب اچھے کرے خدا نہ کرے کہ ا سے کوئی ملازمت کرنا پڑے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ آپ کی بچی کوئی پروفیشنل ڈگری لینے کے بعد گھریلو خاتون بن کے رہے تو آپ کس خوشی میں اپنا اور اس کا وقت، توانائی اور پیسہ ضائع کر رہے ہیں اور کس لیے آپ کسی ایسے فرد کی سیٹ کا حق مار رہے ہیں جو اس سیٹ پہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے افرادی قوت کے طور پہ کام کر سکتا ہے۔

آپ بچی کو یہ سب باتیں کہہ کرکیوں الجھا دیتے ہیں۔ کئی لڑکیاں ملازمت ملنے پہ بھی گومگو کا شکار ہوتی ہیں کہ نجانے وہ اسے شادی کے بعد جاری بھی رکھ پائیں گی یا نہیں۔ یعنی ایک آزاد فرد ہونے ک احساس انہیں ہونے ہی نہیں پاتا۔ جو فرد آزادی کا احساس نہ رکھے وہ ذمہ دار بھی نہیں ہو سکتا اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس نے اپنا قیمتی وقت، توانائی اور پیسہ جس مقصد کے لیے استعمال کیا ہے اس پہ پورا اتراناہے۔ مستقبل کے حوالے سے پلاننگ کرنا ہے۔ بہت سی لڑکیاں اسی سوچ کی وجہ سے پہل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں ایک نادیدہ خوف میں جیتی ہیں کہ نجانے کل کیسا ہو۔ کبھی کسی مرد نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ اس کے لیے کون سی ملازمت ایسی ہے جو شادی کے بعد جاری رہ سکتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ سماج اس بات پہ غور کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

آپ خواہ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہی کیوں نہ ہوں ملازمت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آپ کے محترم خاوند کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جتنے ریسورسز آپ نے اس ڈگری کے حصول میں اجاڑے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر آپ کو اتنا ہی بے بس ہونا تھا تو کس لیے آپ نے کسی کا حق کھایا۔ یہ کیسی تعلیم ہے جو آپ میں سیوک سینس ہی پیدا نہیں کر پاتی۔ زندگی میں آپ خواہ کسی بھی عہدے پہ براجمان ہوں اگر آپ اکیلے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ایک ٹیبو ہے۔ جو سماج کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اپنی شبیہ مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ آپ کی عزت، احترام اور اچھا سماجی رتبہ اس نیم ٹیگ کے ساتھ جڑا ہے جو آپ کا شوہر کہلائے۔ بات یہں ختم نہیں ہوتی ایک کامیاب عورت ہونے کے لیے ماں ہونا بھی ضروری ہے اس کے بغیر آپ اس بیڑی کو حاصل نہیں کر سکتیں جو آپ کے ”مالک“ کو آپ سے جوڑے رکھے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک کامیاب عورت کی تعریف ہے۔

گویا شادی وہ حتمی منزل ہے جو ایک لڑکی کی زندگی کو انتہائی پرسکون اور کامیاب بنا سکتی ہے۔ جو اس منزل مقصود تک پہنچ جائے وہی کامیاب ہے۔ اگر آپ اس کے برعکس جانا چاہتی ہیں تو یاد رکھیے تنہا رہنے والی عورتیں نفسیاتی ہوتی ہیں، چڑچڑے پن کا شکار ہوتی ہیں وہ کسی کی بھی کسی وقت معمولی سے بات پہ جان لے سکتی ہیں یا بہت مایوس ہو کے خودکشی کر سکتی ہیں۔ گویا دنیا میں ہونے والے سارے جرائم تنہا رہنے والے افراد سے جڑے ہیں۔ ایسی اور اس سے ملتی جلتی باتیں کرنا ہر اس فرد کا حق ہے جو اس معاشرے میں کہیں نہ کہیں آپ سے جڑا ہے۔ یہ سب اس وقت تک موجود رہے گا جب تک ہم یہ نہیں سمجھ لیتے کہ شادی بھی باقی معاملات کی طرح زندگی کاحصہ ہے نہ کہ زندگی کا مقصود۔ دوسرا یہ کہ ہماری اظہار رائے کے حق کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے دوسروں کی زندگی کے ذاتی معاملات شروع ہوتے ہیں۔ دنیا رہنے کے لیے حسین جگہ بن سکتی ہےاگر ہم اپنے کام سے کام رکھنا سیکھ لیں گے۔ یہ سمجھ لیں کہ ہر فرد کی زندگی کا اپنا دائرہ کار ہے، اپنے معاملات اور مسائل ہیں جنہیں ہر کوئی نہ سمجھ سکتا ہے نہ ہی ہر فرد اس کا پابند ہے کہ وہ یہ سب دوسروں کو سمجھائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •