حج کی قربانی کیسے ہوتی ہے اور گوشت کہاں جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال لاکھوں حجاج کرام مکہ مکرمہ میں حج کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ اس دوران اسلامی احکامات کے مطابق ہر حاجی پر واجب قربانی کی مد میں لاکھوں جانور زبح کئے جاتے ہیں، جس سے بلامبالغہ لاکھوں من گوشت حاصل ہوتا ہے۔ سعودی حکومت نے گزشتہ چند دہائیوں سے اس وافر گوشت کو مستحق غریب ملکوں میں بھجوانے کا ایک سسٹم بنایا ہے، جس کے تحت اب حاجی اپنی قربانی خود نہیں کرتے بلکہ ہر حاجی کی ذمہ داری پر سعودی حکومت خود ان قربانیوں کو انجام دیتی ہے۔ جس کے لئے پہلے سے لاکھوں جانور سعودی عرب حج کے سیزن میں منگوائے جاتے ہیں۔

سعودی حکومت کا اس لحاظ سے تو یہ اچھا منصوبہ ہے کہ اس طرح قربانی کا گوشت ضائع ہونے سے بچتا ہے کیونکہ جب تک یہ سسٹم چند دہائیوں پہلے موجود نہیں تھا تو ہر سال اتنے حاجیوں کی ایک ہی شہر میں ہزاروں لاکھوں قربانیوں سے نہ صرف جانوروں کی آلائشوں سے تعفن پھیلتا تھا بلکہ اتنی بڑی مقدار میں حاصل ہونے والے گوشت کو تقسیم کرنا بھی ممکن ہی نہ تھا۔ چنانچہ یہ گوشت بھی گل سڑ کے تعفن پھیلانے کا سبب بن جاتا تھا، جس کی بنا پر ذبح ہونے والے ہزاروں لاکھوں جانوروں کو زمین میں دبا دیا جاتا تھا یا جلا دیا جاتا تھا۔

ہمارے ہاں کے مسلمان قربانی کے ساتھ جس طرح کی مذہبی عقیدت رکھتے ہیں انہیں قربانی کے ذبح شدہ جانوروں کے ساتھ اس سلوک پر جو تکلیف پہنچتی ہو گی وہ چاہے کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، مگر تب تک اس مسئلہ کا کوئی اور حل بھی موجود نہیں تھا۔

اب چند دہائیوں سے اس مسئلہ کو سعودی حکومت نے ایک سسٹم کے تحت حل تو کر لیا ہے، جس کی تفصیل اس لنک میں موجود ہے لیکن چند اور شدید شرعی مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ قربانی کے جانوروں اور ان کے ذبح کرنے کے لئے باقاعدہ شرعی احکامات موجود ہیں، جن کی غیر موجودگی میں ذبح ہونے والا جانور گوشت تو ضرور ہے لیکن قربانی قرار نہیں پا سکتا۔ جانور کی عمر، جنس، صحت، ظاہری ہئیت اور ذبح کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی احکامات موجود ہیں۔ چنانچہ ہمارے ہاں جب کوئی ایک عام آدمی بھی جانور خریدتا ہے تو کئی کئی چیزوں کی جانچ پرکھ کے بعد اس جانور کو خرید کر عیدالاضحیٰ پر شرعی طریقے کے مطابق ذبیحہ سرانجام دیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں حج کے دوران حاجیوں کے پاس قربانی کے شرعی فریضہ اور اس کے احکامات کو مدنظر رکھنے کا اب ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں بلکہ سعودی حکومت لاکھوں جانوروں کو درآمد کرتی ہے جن کی قربانی کے حوالے سے شرعی جانچ پرکھ قریباً ناممکن ہے۔ چنانچہ سب حاجیوں کو بس قربانی کا کوپن دستیاب ہے کہ ان کے حصے کی قربانی کر دی گئی ہے۔ ان لاکھوں جانوروں کو جیسے قربان کیا جاتا ہے، اسے قربانی کی بجائے گلے سے اتارنا کہنا مناسب ہو گا۔ اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ نیچے موجود ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے:

ایک حاجی جو اپنی ساری عمر کی جمع پونجی لگا کر حج پر پہنچتا ہے اور اس کے لئے حج کے اس بنیادی ترین رکن کا یہ حشر دیکھنا کافی تکلیف کا سبب ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فی الحال اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں کہ بس اللہ کی رحمت پر بروسہ رکھا جائے کہ سعودی حکومت نے اگر کہہ دیا ہے کہ آپ کی قربانی ہو گئی تو ہو گئی، قربانی کے جانور اور اس کے ذبیحہ کے دیگر شرعی قواعد و ضوابط سے فی الحال صرفِ نظر ہی کی جائے جو ہماری مذہبی کتابوں میں موجود ہیں کیونکہ حج کے موقع پر ان کو پورا کرنا اب شاید ممکن ہی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •