چین کا ویزا جنگل میں دو راتیں گزارنے پر ملتا ہے


“چلتے ہو تو چین کو چلیے” ابن انشاء نے اپنے سفرنامہ کو اپنے مخصوص طنزیہ و فقاہیہ انداز میں ایسا تحریر کیا کہ جس نے بھی اس سفر نامے کو پڑھا وہ اسے بھلا نہ پایا۔ اس کے علاوہ ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چینی پاکستانی بھائی بھائی کے نعرے ہر دور میں لگتے رہے ہیں۔ اس وقت چین پاکستان اکنامک کاریڈور کی آمد آمد ہے ہر طرف سے یہی آوازیں آ رہی ہیں کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے ہر طرف خوشحالی اور ترقی کا بول بالا ہوگا۔ آج کل پاکستان میں ہمارے چینی دوست چھوٹے بڑے شہروں میں ہر طرف نظر آ رہے ہیں ٹھیک اسی طرح ہمارے پاکستانی چین کی طرف جا رہے ہیں خصوصاً تعلیم کے حصول کے لیے۔ تصویر میں موجود یہ پریشان حال افراد رات کے وقت قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب جنگل میں زمیں پر لیٹ کر کسی امداد کے انتظار میں نہیں نہ ہی یہ یمن اور شام کی خانہ جنگی کے متاثرین ہیں نہ ہی یہ لوگ غیر قانونی طور پر یورپ یا دبئی جا رہے ہیں بلکہ یہ چینی سفارت خانے کے باھر ویزے کے انتظار میں دو دن اور راتیں گزارنے والے ہمارے پاکستانی ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے دور دراز علاقوں سے ہے اور یہ اعلی تعلیم کے غرض سے چین جانے کے امیدوار ہیں۔

بقول ان نوجوانوں کے وہ دو دنوں سے اپنے باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ رات 3 بجے سے قطار بننا شروع ہو جاتی ہے اور اس کے بعد شٹل سروس کی ٹکٹ لینی پڑتی ہے اکانومی 500 روپے کی اور ایگزیکٹو کلاس 1000 روپے کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس شٹل سروس پر کوئی سوار بھی نہیں ہوتا کیوں کہ سامنے ہی چینی سفارت خانا ہے مگر شٹل کی ٹکٹ اگر آپ کے پاس نہیں ہوگی تو پھر آپ کا داخلہ سفارت خانے میں ممکن نہیں ہو سکتا۔ صبح تک سینکڑوں لوگ قطار میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد چینی سفارتی خانے کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو اندر بلاتے ہیں اور یہ وشسس سرکل آف پاورٹی کا دائرہ اپنے آپ چلتا رہتا ہے۔ وہاں پر موجود طالب علموں کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہفتے سے چین کے ویزے کے لیے خوار ہو رہے ہیں۔

سب سے پہلے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے دستاویزات کی ویریفیکیشن کی لمبی قطاروں میں گرمی سے خوار ہونا پڑتا ہے۔ کہنے کو تو وہ سسٹم آن لائن ہے مگر کام ابھی بھی پتھر کے دور کی طرح ہوتا ہے رات کو 4 بجے قطار میں لگ جاؤ، ٹوکن لو پھر لمبی قطار اور کلرک بادشاہ کے نخرے۔ اس کے بعد دفتر خارجہ کی لمبی قطاریں، پہلے ٹکٹ کے لیے قطار بناؤ پھر فوٹو اسٹیٹ کرواؤ پھر اسناد کی تصدیق کے لیے خواری اور بے زاری والی قطار میں لگ جاؤ۔ اور اس مہمان نوازی کے بعد چینی سفارتخانے کا سہ روزہ، جنگل کا قیام، مچھروں کا کاٹنا، خنزیر کا خوف، بندے کو ایسا بیزار کر دیتا ہے کہ وہ ایسا سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے ہے ملک میں پناہ گزین ہوں اور ڈاگز اور انڈین ناٹ آلووڈ والی پرانی انگریز سامراجی کہاوت یاد آ جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سفارش ہے یا پیسہ ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں لمبی قطاروں کا، چاہے وہ ہائر ایجویشن کمیشن کی ہو یا پھر دفتر خارجہ کی یا پھر چینی سفارت خانے کی ان کے آلہ کار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ بس آپ ان آلہ کاروں سے رابطہ کریں پھر تماشا دیکھیں کہ کس پھرتی کے ساتھ آپ کا کام کرواتے ہیں۔

دیکھا جائے تو ہم دنیا کے نظروں میں ایک ایٹمی طاقت ہیں مگر توانائی کا بحران اور اندھیرے ہمارا مقدر ہیں۔ ہمارے نظام تو آن لائن ہے مگر کام ہم پتھر کےدور کے انداز سے کرتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ہو یا دفتر خارجہ یا پھر چینی سفارت خانہ ان کو صرف اپنی فیس لینے سے غرض ہے خود ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں موجود ہوتے ہیں باہر عوام خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے ملک کے نظام کو ٹھیک نہیں کر پا رہے تو پھر چنی سفارت خانے پر کس طرح انگلی اٹھائیں کہ وہ اپنے ویزا کے نظام کو درست کریں تاکہ ویزے کے حصول کے لیے آنے والے پاکستانی لوگوں کو اس طرح جنگل میں بے آسرا خوار نہ ہونا پڑے۔

یہ نوجوان جو ان تمام تر دشواریوں، ذہنی اذیتوں کو جھیلنے کے بعد دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں تو ہم کیسے ان نوجوانوں سے یہ توقع لگا کے بیٹھ جائیں کہ وہ باہر سے اعلی تعلیم حاصل کر کے اپنے وطن واپس آکر ملک و قوم کی خدمت کریں گے اور حب الوطنی کا ثبوت دیں گے کیوں کہ اس طرح کے حالات سے گزر کر شاید ہی کوئی اپنے وطن واپس آکر اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنا پسند کرے۔

Facebook Comments HS