انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی (1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو ہی سنبھالنا ہے تو اس کے واسطے کالج جانا کیا ضرور ہے۔ مگر ریوتی نے گریجویٹ بن کر دم لیا۔ انتظار حسین چھٹیوں میں میرٹھ سے ہاپوڑ پلٹتے تو ان سے پوچھتے کہ کالج میں کیا پڑھا۔ ان سے رہنمائی حاصل کرتے۔ یہ سب بے سود نہ گیا اور سرن نے بطور پرائیویٹ امیدوارایف اے کر لیا اور تھرڈ ایئر میں دونوں دوستوں کا کالج میں پھر اکٹھ ہوگیا اور انتظارحسین اکیلے دکیلے ہونے سے بچ گئے۔

انتظار حسین کے سکول میں داخلے کی بھی سن لیں۔ انتظار حسین کے والد کا ارادہ ان کو مولوی بنانے کا تھا، بیٹے کو گھر میں انھوں نے اتنا کچھ تعلیم کر دیا تھا کہ جب وہ مدرسہ میں داخل ہو تو آسانی سے چل نکلے اور اسے وہاں کوئی چیز مشکل نہ لگے۔ اس منصوبے میں کھنڈت اس وقت پڑی جب خاندان ڈبائی سے ہاپوڑ منتقل ہوا، یہاں انتظارحسین کی سب سے بڑی بہن کا گھر تھا، جن کے کہے کا باپ کو بہت پاس تھا، اس لیے جب انھوں نے کہا کہ خاندان میں ایک مولوی کافی ہے، ہمارا بھائی سکول میں پڑھے گا تو والد کو یہ بات مانتے ہی بنی البتہ یہ ضرور کہا کہ اس کا سکول جانا ہی قرار پایا تو پھر نویں جماعت میں داخلہ کراﺅ کیونکہ میں نے اسے پڑھائی میں اس قابل بنا دیا ہے کہ یہ اگر اس وقت بھی میٹرک کا امتحان دے تو پاس ہو جائے گا۔ گورنمنٹ ہائی سکول کو نویں چھوڑ، ساتویں میں داخلہ دینا بھی خلاف ضابطہ نظر آیا، اس لیے شہرمیں موجود ایک دوسرے سکول، کمرشل اینڈ انڈسٹریل ہائی سکول سے رجوع کیا، جس نے آٹھویں میں داخل کر لینے کی ہامی بھری۔ اس سکول میں استاد اور کلاس فیلو سب ہندو تھے مگر اس سے واحد مسلمان طالب علم کو کوئی پریشانی نہ ہوئی بلکہ ایک حوالے سے الٹا اس نے انتظامیہ کے لیے مشکل پیدا کی۔ انتظار حسین نے ہمیں بتایا تھا کہ ایک بار انھوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ سکول ریفریشمنٹ میں شریک نہیں ہوتے تو پھر اس کے لیے فیس کے ساتھ جو اضافی پیسے لئے جاتے ہیں، اس سے انھیں مستثنیٰ قرار دیا جائے، پرنسپل نے ان کو سمجھایا، پر وہ نہ مانے اور آخر کار ریفریشمنٹ چارجز ان کی فیس سے منہا ہوئے۔ اپنے اس سٹینڈ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بس وہ ناسمجھی کا زمانہ تھا، جس میں بندہ چیزوں کو اور طرح سے لیتا ہے۔

ادب کا خواب دیکھنے والے دوست

انتظار حسین اور ریوتی نے اکٹھے رائٹر بننے کا خواب دیکھا تھا اور یہ طے بھی کر لیا کہ دونوں کا ادب میں کون سا میدان ہوگا۔

سہیل احمد خان کو انٹرویو میں انتظار حسین نے بتایا:

” ہاں، بات یہ ہے کہ افسانہ لکھنا میرا مقصود نہیں تھا۔ مجھے کچھ یہ تصور تھا کہ افسانہ تو ریوتی ہی کو لکھنا ہے، میں کچھ تنقید لکھوں گا یا شاعری کروں گا۔ “

بی اے کے بعد ریوتی نے جب دلی میں نوکری کر لی تو اس وقت ان کے دوست کیا کر رہے تھے، انھی کی زبانی سنیے :

” میں ہاپوڑ کی گلیوں میں خاک پھانکتا پھرتا تھا۔ ملازمت کے لیے عرضیاں بھیجنی اور شعرو ادب میرا مشغلہ ٹھہرا اور اندر ہی اندر ہنڈیا پک رہی تھی کہ مجھے ایم اے کرنا ہے۔ ادھر دلی سے ریوتی کے ذریعے کچھ اس قسم کی کتابیں موصول ہونے لگیں۔ ماورا، نقش فریادی، میرا جی کی نظمیں۔ ارے نئی شاعری تو یہ ہے۔ میں اقبال کی شاعری کو نئی شاعری سمجھ رہا تھا۔ اسے سنگھوا کر الگ رکھا اور نظم آزاد کو شاعری کی معراج جان کر پڑھنا شروع کردیا۔ ادھر فسانہ آزاد طاق میں رکھا اور کرشن چندر کے نام کی مالا جپنے لگا۔ “

انتظار حسین: اردو ادب کا لڑکپن

 انتظارحسین تو کرشن چندر کا دم بھرنے لگے، ادھر دلی میں ریوتی نے کرشن چندر کی بہن کو اردو کی ٹیوشن دینی شروع کردی، جس کے بیچ محبت کا شگوفہ پھوٹا۔ یہ مبارک خبر سنانے ریوتی خاص طور سے دلی سے ہاپوڑ آئے اور داستان محبت دوست کے سامنے بیان کی

انتظار حسین ” چراغوں کا دھواں “ میں لکھتے ہیں:

” قصہ یوں شروع ہوا کہ ایک مرتبہ ریوتی دلی سے محض ایک خبر سنانے کے لیے ہاپوڑ آیا اور بڑی گرمجوشی سے مجھے ایک خبر سنائی ”یار، ایک لڑکی ہے۔ میں نے اسے اردو پڑھانی شروع کی ہے۔ “

”اچھا۔ لڑکی خوبصورت ہے؟“

اس سوال کو اس نے گول کر دیا۔ کہا کہ ”اس کے بھائی کا تقاضا تھا کہ تم اردو سیکھو۔ پتہ ہے بھائی کون ہے؟“

”کون ہے؟“

”کرشن چندر۔ “

”کرشن چندر کی بہن؟“ اچانک ساری صورتحال ہی بدل گئی۔ میں نے شوق سے اس لڑکی کے بارے میں ایک ایک تفصیل پوچھی۔

آردو ادب کا عنفوان شباب

بات اردو پڑھانے سے شروع ہوئی تھی مگر بات اس سے آگے نکل گئی اور وہ مرحلہ آگیا کہ میرا بھی اس سے ملنا ضروری ہو گیا۔ آخر دیکھنا تو تھا کہ دوست کہیں غلط جگہ تو نہیں پھنس گیا۔ خیر وہ عام معنوں میں تو خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ نہ کوئی چاند کا ٹکڑا، نہ کوئی زہرہ جبیں۔ بس اس کی اپنی ہی ایک پھبن تھی۔ سیدھی سادی شکل و صورت، سانولی رنگت، چھریرا بدن، بر میں سادہ سی سفید سوتی ساڑھی۔ کوئی ناز و ادا والی بات نہیں۔ طور اطوار، نشست و برخاست، بول چال، سب میں ایک سادگی اور متانت۔

 ” ہاں جب ریوتی کے ماتا، پِتا کے کان میں یہ بِھنک پڑی تو قیامت اٹھ کھڑی ہوئی۔ کرشن چندر کا خاندان کائستھ۔ اِدھر ہمارا دوست برہمن بچہ۔ اس کے پِتا جی نے مجھے بلا بھیجا ”سنا تم نے تمہارے مِتر نے دلی جا کر کیا گُل کھلایا ہے۔ ذات گوت تو دیکھ لی ہوتی۔ اسے سمجھاﺅ۔ “

کرشن چندر اور سلمیٰ صدیقی

میں نے سمجھانے کا وعدہ کیا اور پھر ریوتی سے آکر کہا کہ ”تیرے پِتا جی تو بہت تاﺅ میں آئے ہوئے ہیں۔ اب تو سوچ لے، پچک تو نہیں جائے گا۔ “

”نہیں۔ “

”ہاں پہلے سے سوچ لے۔ ایک تو وہ لڑکی بہت شریف ہے اور پھر کرشن چندر کی بہن ہے۔ اس سے دغا کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ “

میں تو اسے منجدھار کے بیچ چھوڑ کر چلا آیا تھا۔ چند ہی دنوں بعد وہ خود آیا اور رپورٹ دے کر چلا گیا۔ پھر کچھ دنوں تک کوئی خبر نہیں ملی کہ ذات گوت کا قضیہ کس مرحلہ میں ہے مگر تھوڑے ہی دنوں بعد حلقہ ارباب ذوق میں ایک نئی شکل نمودار ہوئی۔ یہ ڈاکٹر عبادت بریلوی تھے جو دلی سے ہجرت کرکے لاہور آن پہنچے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے فوراً خبر سنائی ”ارے ارے، آپ انتظار حسین ہیں۔ آپ کے دوست ریوتی سرن شرما، آپ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ارے بھئی ان کی شادی ہوگئی۔ بس ہم چند مسلمان دوست ہی ان کے براتی بن کر کرشن چندر کے گھر پہنچے تھے۔ “

 انتظار حسین خود اظہار محبت کے سلسلے میں پھسڈی رہے ہوں تو رہے ہوں مگر ایسے معاملوں میں یاروں کا خوب حوصلہ بڑھاتے، سو، ریوتی کے سلسلے میں بھی یہی ہوا، لیکن محبت کی ناﺅ کنارے لگنے سے پہلے انتظار حسین اکتوبر 1947 میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔ ریوتی خطوں میں اپنی شادی کے لیے ہونے والی پیش رفت کا بتاتے رہے، البتہ ان کے معرکہ عشق سر کرلینے کی خبرانھیں ڈاکٹر عبادت بریلوی کی زبانی معلوم ہوئی۔

شادی کے بندھن سے پہلے 1948 میں ریوتی کو دوست کی محبت لاہور کھینچ لائی۔ فسادات اس وقت تک ختم ہوچکے تھے لیکن ماحول میں ان کا زہر موجود تھا، اس لیے یار سے ملاقات پر انتظار حسین نے چھوٹتے ہی پوچھا :

 ” آنے سے پہلے مجھ سے پوچھا تو ہوتا کہ کیا حالات ہیں ؟ “

ادھر سے ترکی بہ ترکی جواب آیا۔ ” تو نے ادھر آتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ میں پاکستان جا رہا ہوں۔ “

(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •