مضافات کی عید اور منتیں مرادیں (پہلا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دلوں میں بسنے والے شہروں میں ایسے جا بسے ہیں کہ گاﺅں کا پتھریلا رستہ تکتے تکتے بوڑھے ماں باپ، متروں اور سکھیوں کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، تب جا کر کہیں کچی منڈیروں پر کوا بولتا ہے اورہماری عید ہوتی ہے۔

 ہمیں رتی برابر شبہ نہیں کہ آپ اہل شہر نے عید الاضحیٰ کی بھرپورخوشیاں منا کر دوبارہ ملکی تعمیر و ترقی کے مشن پر کمر کس لی ہے۔ ہمیں جدائیوں کے گھاﺅ لگانے والے ہمارے تارکین دیہات جوشہروں سے عید منانے اپنے اپنے گاﺅں آئے تھے، وہ بھی ہم پسماندوں کی خوشیاں دوبالا کر کے اس مشن میں پھر سے آپ کے ہم رکاب ہوچکے ہیں۔ آپ نے ہمارے ان پردیسیوں کو اپنے مشن ہذا کے جال میں ایسا پھنسایا ہے کہ بچپن اورلڑکپن میں ایک پل کی جدائی نہ سہنے والے سال بھر پلٹ کر ہماری خبر تک نہیں لیتے۔ کوئی ہجرت خوداختیاری کے تحت جانے والوں کو بتائے کہ فرقت کی صدیاں جاتی ہیں تو وصل کی گھڑیاں آتی ہیں اور پھر آ کے چلی جاتی ہیں۔ تب ہماری ٹاہلیوں کی چھاﺅں، کچے رستوں کی دھول اورچاند کی چاندنی پھر سے اداس ہو جاتے ہیں۔ بجا کہ اب تو بے نواﺅں کوبھی تیزترین رابطہ میسر ہے مگر وہ جو پریم پتر کے دور میں نوشی گیلانی نے کہا تھا:

مرا شعور بہلتا نہیں ہے لفظوں سے

میں تیرے خط کے نہیں، تیرے انتظارمیں ہوں

چلیں اس دکھڑے کو آئندہ کے کسی کالم پر اٹھا رکھتے ہیں۔ آج موقع کی مناسبت سے یہ عرض ہے کہ ہم بارانی اور پہاڑی لوگوں کی عید شہروں کی طرح چکاچوند اورشاندار تو نہیں ہوتی، البتہ ہم بھی اس تہوار سے مقدور بھرخوشیاں کشید کر ہی لیتے ہیں۔ آپ اہل شہر تو خیربڑے پریکٹیکل واقع ہوئے ہیں، جنہوں نے دن رات کی محنت اور ایمانداری سے گھروں اورشہروں کوجنت نظیر بنا رکھا ہے۔ البتہ ہم دیہاتی آج بھی درگاہوں اورخانقاہوں پر منتوں، مرادوں اورچڑھاوں کے سہارے زندگی کی منازل سر کرنے والی مخلوق ہیں۔ اسی لئے توآپ اہل شہر کے مقابلے میں اتنے پسماندہ رہ گئے ہیں۔ مثال زیرنظر ہے کہ ازل سے ابن آدم کے سب سے بڑے مسئلے یعنی محبوب کو رام کرنے کے لئے آپ کے پاس شائستہ طرزگفتار اور دولت کے علاوہ کئی جدید طلسمی گر ہیں۔ جبکہ ہم اس کارخیر کی خاطر ابھی تک صدیوں پرانے چلن پر قائم ہیں کہ:

چلو اس کا نہیں، خدا کا احسان لیتے ہیں

وہ مِنت نہیں مانتا تو مَنت مان لیتے ہیں

ہماری ذاتی مثال ہی لے لیجئے۔ آپ کی دعا سے ہم خود بھی فقیرلوگ ہیں اورپیروں، فقیروں کی درگاہوں پر حاضریاں دینے والے بھی ہیں۔ اس نیک مقصد کی خاطرعید کا موقع ہمارے لئے موزوں ترین ہوتا ہے، جب ہمارے ملازمت پیشہ اوربیرون ملک مقیم کزن بھی گاﺅں میں حاضر ہوتے ہیں اور ہم لوگ اپنے بچوں سمیت کل ملا کر لگ بھگ بیس مردانہ نفر بن جاتے ہیں۔ ایسے پر مسرت مواقع پر آپ کے ان خادموں نے پہلے ہی سے کسی دورافتادہ پہاڑی مقام یا جنگل کے کسی دربارپر کوئی نہ کوئی منت مان رکھی ہوتی ہے۔ یہ منت ہمیشہ بکروں یا دیسی مرغوں کی شکل میں دی جاتی ہے۔ ہم عید کے دوسرے دن علی الصبح اپنا سازوسامان اورلاٹھیاں اٹھائے سوئے منزل روانہ ہوجاتے ہیں، جہاں ہم یہ جانور ذبح کر کے خود پکاتے ہیں اوراقربا پروری کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے بخود ہی تناول بھی فرماتے ہیں۔ بخدا تناول ماحضر کے بعد برگد یا پیپل کے گھنے پیڑکی چھاﺅں میں سستاتے جنگل کی نشاط انگیزاورجادوئی خاموشی میں پرندوں اورجھرنوں کے گیتوں کی منظرکشی کے لئے ہمیں کبھی بھی اس منظرکے شایان شان الفاظ نہیں سوجھے۔

جہاں تک ہماری منتوں کا تعلق ہے تو یہ کثیرالمقاصد ہوتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں کچھ لوگوں کی سوچ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے گرد ہی گھومتی ہے مگر خوش قسمتی سے ہماری ترجیحات ایسی محدود نہیں ۔ اپنی نیکیوں کی تشہیر کوئی احسن عمل نہیں لیکن موضوع کی مناسبت سے مجبوراً آپ کو بتانا پڑرہا ہے کہ ہم اکثر وسیع تر قومی مفاد اور بعض اوقات تو بین الاقوامی مسائل کے حل، نیز امت مسلمہ کے خلاف اغیار کی سازشیں ناکام بنانے اور ان کے دانت کھٹے کرنے کی خاطر بھی خانقاہوں پر جا کر بکروٹے اور چُوچے شُوچے ذبح کرتے رہتے ہیں ۔ جیسے ملک میں جمہوریت یا امن و امان کی بحالی کے لیے پیر عالم شاہ بادشاہ کی درگاہ میں دیسی مرغ پکا کر کھانے کا عزم کرلیا اور کبھی وطن عزیز سے لوڈ شیڈنگ، کرپشن یا غربت جیسی لعنت کے خاتمے کی خاطر سخی جھاڑیوں والی سرکار کے ہاں بکرا نذر کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اور کچھ نہیں تو اتحاد بین المسلمین کے ارفع مقصد کے حصول کے لیے پانچ چھ مرغے بغلوں میں دبائے ایک مشکل پہاڑی سفر کے بعد گمٹی والی سرکار کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔

دریں حالات آپ سے گزارش ہے کہ اگر کبھی لوڈ شیڈنگ میں کمی آ جائے، گیس سے آپ کے گھر کا چولہا جلنے لگے، بند سی این جی کھل جائے، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سرکاری اعلان ہوجائے، بارشوں سے سیلاب زدہ علاقوں میں زندگی بحال ہو جائے، دہشت گردی کی کوئی واردات ناکام ہو جائے، کوئی برادر یا دوست ملک وطن عزیز میں اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط کرے یا دیگر سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلا ن کرے، دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں یا کوئی بین الاقوامی تنازع حل ہو جائے تو مہربانی فرما کر ان کامیابیوں میں شامل ہماری متذکرہ بالا ادنیٰ سی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے ہمارے حق میں دعا ئے خیر کر دیجئے گا۔ خدا آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔

آپ ہم سے پوچھیے کہ ہمیں یہ منتیں دینے کا چسکا پڑا کیسے؟ عرض ہے کہ جب قبلہ ضیاءالحق دام برکاة کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا تو ہم نے پہلی دفعہ مرزا اور صاحباں کی قدیم پریم کہانی سنی۔ صاحباں نے مرزا کی محبت میں مَنت مانی تھی کہ ”حجرے شاہ مقیم دے، اک جٹی عرض کرے /میں بکرا دیواں پیر دا، جے سردا سائیں مرے “ (اگر میرا خاوند مرجائے تو میں شاہ مقیم کی درگاہ میں بکرا قربان کروں گی ) اس وقت اگر چہ ہم میچور نہ ہوئے تھے مگر شاہ مقیم کی کرامات سن کر بے اختیار دل مچل اٹھا کہ ہم بھی ان کے حجرے حاضر ہو کر بکرے کی ایک عدد منت دیں۔ دراصل ہوا یوں تھا کہ ان دنوں بد قسمتی سے ایک خونخوار بھیڑئیے نے ہماری بھیڑ بکریوں کے باڑے کو نشانے پر رکھ لیا تھا۔ خدا جانتا ہے کہ اس خون آشام جانور نے ہم غریب جاٹوں کا بڑا نقصان کیا اور ہمارے کتنے ہی معصوم اور بھولے بھالے بکروٹوں اور لیلوں سے اپنے پیٹ کے جہنم کی آگ بجھائی۔ تنگ آ کر ہم نے کلہاڑی والی سرکار کے دربار میں اس کے واصلِ جہنم ہونے کے لیے بکرا دینے کی منت مانی۔ خدا کا بڑا کرم ہوا، بھیڑئیے کو کیڑے پڑ گئے اور وہ ایک دن کھیتوں میں مردہ پایا گیا۔ ہم نے فوراً ویرانے میں اس کامل باوے کی خانقاہ میں جا کر بکرا ذبح کر دیا۔ بس اس دن سے ہمارے ہاں منتوں، مرادوں کا ایسا سلسلہ چل نکلا کہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ خاندان کا ہر بچہ اپنے ذرا بڑا ہونے کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے تاکہ وہ اس کاررواں کا حصہ بن کر ثواب دارین حاصل کر سکے ۔

آج کل بھی ہم کوئی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے نہیں ہیں۔ مولا کی مہربانی سے ہم کوئی گھگھو گھوڑے تو نہیں کہ ٹرمپ کی طرف سے ملک پرحملے کی حالیہ دھمکیوں پر خاموشی سے حالات کا تماشا کرتے رہیں اور خدانخواستہ کل کلاں یہاں بھی ڈرون حملے شروع ہوجائیں۔ سخت ذہنی تناﺅ کی اس کیفیت میں ہمیں معلوم ہوا کہ باوا ڈانگ والی سرکارنے بہت دورجنگل کے بیچوں بیچ منگل بنا رکھا ہے اور بعد از مرگ بھی سرکار کے دربارمیں حاجت روائی کا بازار گرم ہے۔ پس ملک وقوم کے ان ادنیٰ خادموں نے درگاہ مذکور پر اس تنازع کے پرامن حل کے لئے منت مانی اوربغیر وقت ضائع کئے اس عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن ہمارا قافلہ قربانی کا گوشت اٹھائے، دشوار گزار پہاڑی رستوں پر گرتے پڑتے ڈانگ والے بادشاہ کی مرقد پر ایڈوانس منت دینے حاضر ہو گیا (جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •