تارڑ صاحب کو بچے نا پسند تھے
ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ نے بھر پور زندگی گزاری اور اس سے اتنا کچھ حاصل کیا کہ انھیں ناقدرئ زمانہ کا رتی برابرگلہ نہیں۔ ہم نے ایک ملاقات میں ان سے کچھ ایسے واقعات سنانے کو کہا جو کبھی ان کے ذہن سے اتر نہ سکے ہوں، تو ان نے ہماری عرض مان لی جسے یہ نیاز مند اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے۔ (محمود الحسن)
۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے ایک دو سال قبل ایک طالب علم نے کہا کہ میں اسے اپنی پوری زندگی کے حالات تفصیل سے بتاؤں۔ میں نے جواب دیا کہ میں 75 برس کا ہوں اور مجھے اپنے حالات بتانے کے لیے اتنے ہی برس درکار ہیں، کہنے کا مطلب ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں واقعات ہیں، جن کا چناؤ مشکل ہے۔ ہنگامہ خیز زندگی میں آوارہ گردی، دشت نوردی، دوستیاں اور تعلقات اور دکھ سکھ سبھی کچھ شامل ہے۔ واقعات کا انتخاب نہیں کر رہا، بس تمھیں چند ایسے واقعات بتاتا ہوں جو زیادہ یاد رہے۔
* 1975ء میں بذریعہ روڈ یورپ سے واپس آ رہا تھا۔ استنبول سے میں ارض روم کے لیے بس پر سوار ہوا۔ دو اطالوی دوست میرے ساتھ تھے۔ آبنائے ہاسٹورس کا پل آنے سے ذرا پہلے میں اسے دیکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ میں اٹھ کر پل کو دیکھ رہا تھا تو مجھے محسوس ہوا کہ بس بہت تیزی سے جا رہی ہے، دوسرے میں نے دیکھا کہ یک دم دائیں طرف سے سرخ رنگ کا ٹرک عین بس کے سامنے آ گیا ہے۔ یہ سب کچھ میں دیکھ رہا تھا یا پھر ڈرائیور، باقی تمام مسافر اس سے بے خبر تھے۔ فوری طور پر ڈرائیور نے ٹرک کے ساتھ تصادم سے بچنا چاہا اور اس کوشش میں بس کو جب اس نے موڑا تو وہ بے قابو ہو گئی، پہلے اس نے ایک بیریر توڑا، اس کے بعد بس نے پل کا وہ بیریر توڑا جو بلندی پر تھا اور فضا میں پہنچ گئی تو ہم نے سناٹا اور خوف سا محسوس کیا۔ جب کوئی چیز پوری قوت سے جاتی ہے اور اسے کسی خاص جگہ پر جا کر گرنا ہوتا ہے، تو اس سے قبل دو تین سیکنڈ کے لیے وہ معلق رہتی ہے۔ ان دو تین سیکنڈ میں میرے جو محسوسات تھے، وہ ناقابلِ بیان ہیں۔ حیرت انگیز بات ہے کہ میں موت سے ڈرا نہیں۔ سناٹا تھا اور ایک طرح سے بے حسی تھی۔ وہ جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ فلاں فلاں کو یاد کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں تھا، شاید وہ بیمار رہنے کے بعد جو موت ہوتی ہے، اس میں ہوتا ہے، لیکن اچانک موت میں ایسا نہیں ہوتا۔ مجھے تو کلمہ پڑھنے کا خیال بھی نہیں آیا۔ اس وقت ہمیں یقین تھا کہ نیچے سمندر ہے، بس پانی میں جاتی ہے تو ہم ڈوب جائیں گے۔ اب ہم بس کے گرنے کے انتظار میں ہیں۔ ادھر اس زمانے میں سمندر کے کنارے کوئی سڑک زیرِ تعمیر تھی، جس کے لیے بجری کے ڈھیر پڑے تھے، جن پر بس گری تو اس کا impact کم ہو گیا، اس کے باوجود ساری بس ٹوٹ پھوٹ گئی۔ میں نے اپنے کیمرے سے کھڑکی کا شیشہ توڑا اور باہر چھلانگ لگائی۔ باہر آنے پر معلوم ہوا کہ ایک جرمن سیاح مر گیا ہے اور بہت سارے لوگ زخمی ہیں۔ مجھے بھی چوٹیں آئیں۔ میرا ایک اطالوی دوست جو ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے سینے میں اسٹیئرنگ چلا گیا۔ ادھر ہم جب تھے تو ہمیں ایک امریکی سیاح نے بتایا کہ ادھر قریب ہی اس نے ایک قبرستان دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ اگر ہم مر جاتے تو ادھر دفن ہوتے، پھر اسے یہ خیال آیا کہ چونکہ یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے تو ہم تو اس میں دفن نہ ہو سکتے۔ اس پر میں نے کہا کہ میں تو مسلمان ہوں، میں تو یہیں دفن ہوتا۔ الکحل چونکہ جراثیم کش ہوتا ہے، اس لیے ایک جرمن سیاح نے وہسکی کی بوتل کھولی اور زخمیوں کے زخموں پر چھڑکی۔ میرے پاؤں اتنے سوج گئے تھے کہ میں نے استنبول سے لاہور تک بغیر جوتوں کے سفر کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ہم زندہ بچ گئے۔
* مجھے ہمیشہ سے بچے بہت نا پسند تھے۔ وہ شادی شدہ دوست، جن کی جلد شادی ہو گئی، ان کے گھروں میں نہ جاتا کہ ان کے بچوں سے ایسے ہی کھیلنا پڑے گا۔ جب میرا پہلا بچہ پیدا ہوا اور ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ میرے ہاں بیٹا ہوا ہے، تو میرے عجیب و غریب محسوسات تھے، جنہیں میں بیان نہیں کر سکتا۔ ایسا لگا جیسے کائنات میں ایک اور کائنات کا اضافہ ہو گیا ہو۔ وہ Feelings آج بھی یاد ہیں۔ بیٹے کا پہلی بار ابو اور پوتے کا دادا کہنا بھی میرے لیے بہت اہم واقعہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ شادی اور اس کے بعد بچے آپ کی ذات کی نشوونما اور توسیع کے لیے بہت ضروری ہیں۔ شادی کے بعد بھی ایک نیا انسان جنم لیتا ہے۔ اس کے خیالات پہلے جیسے نہیں رہتے۔ ایک بار ایک دوست سے میری ملاقات طے تھی، وہ دیر سے آیا تو میں نے کہا کہ یار دیر سے کیوں آئے ہو؟ کہنے لگا، ’’یار! رات کو میں دو بجے سویا،‘‘ میں نے کہا کہ کیا ہوا؟ کہنے لگا،’’یار! میرا بیٹا بارہ ساڑھے بارہ بجے اٹھا اور کہنے لگا، ’’ابو! مجھے طوطا دیکھنا ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ اس وقت تو نہیں ہو سکتا۔ بچہ بضد رہا تو میں نے اسکوٹر نکالا اور اسے چڑیا گھر لے گیا اور اس کا گیٹ وغیرہ دکھایا اور اس طرح سے وہ مطمئن ہوا۔‘‘ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ بھئی! تم بڑے ہی پاگل آدمی ہو ایک تھپڑ لگاتے تو وہ چپ کر جاتا۔ میرے دوست نے جواب دیا کہ تمہاری شادی نہیں ہوئی، اس لیے تم یہ کہتے ہو۔’’ہوگی بھی تو ایسا نہیں کروں گا‘‘ میں نے جواب دیا۔ اور پھر دیکھیے کہ میرے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جب ایک دن بیٹھے بٹھائے میرے بچے نے ہاتھی دیکھنے کا تقاضا کر دیا اور مجھے چارونا چار اسے چڑیا گھر لے جانا پڑا۔
* 1969ء میں سولہ سترہ ممالک کی سیاحت سے لوٹا تو اُردو میں لکھے گئے سفرنامے پڑھنے کا شوق چڑھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک تو اُردو میں بہت کم سفرنامے لکھے گئے ہیں، دوسرے جن تحریروں کو سفرنامہ قرار دیا جاتا، میں انہیں سفرنامہ گردانتا ہی نہیں تھا۔ وہ ایک طرح سے رپورتاژ تھیں۔ میرا سفر نامے کا جو تصور تھا، اس میں آوارہ گردی، سیاحت اور دشت نوردی کا تڑکا ہونا ضروری تھا۔ مجھے اُردو ادب میں اپنی پسند کے سفرنامے مل جاتے تو شاید میں سفرنامہ نہ لکھتا۔ میں چاہتا تھا کہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے، اس کو لوگوں کے ساتھ شیئر کروں۔ یہ ساری باتیں اُردو کے سفرناموں میں نہ ملیں تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود سفرنامہ لکھوں۔ یہ خیال آیا تو میں نے اُردو بازار سے دو رجسٹر خریدے اور اپنے والد کی بیجوں کے دکان پر بیٹھ کر سفرنامہ لکھنے لگا۔ ساتھ ساتھ پڑھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ سفرنامہ لکھ لیا گیا تو اسے کہیں چھپوانے کا خیال آیا۔ میں نے پاکستان بھر کے ادبی و نیم ادبی رسالوں میں (بشمول فلمی) سفرنامہ چھپنے کے لیے بھجوایا، لیکن کسی نے چھاپنا تو درکنار رسید تک نہیں دی، جس سے مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔
سفرنامہ لکھنے کے دوران میں اندلس کے بارے میں تحقیق کے سلسلے میں، پنجاب پبلک لائبریری جایا کرتا تھا۔ ادھر اندلس کے ایک عاشق تلمیذ حقانی کو جب پتا چلا کہ ایک نوجوان کو اندلس سے دل جمی ہے، تو وہ مجھے ڈھونڈتے ڈھانڈتے ملنے پہنچ گیا۔ تلمیذحقانی کو اندلس سے حد درجہ عقیدت تھی، اسے جب یقین ہو گیا کہ میں اندلس جا بھی چکا ہوں تو اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ویسی ہی چمک دیکھی جو مرشد کے لیے مرید کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ تلمیذ حقانی سے ملاقات بڑھی تو ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا کہ جو سفرنامہ آپ لکھے جا رہے ہیں، اسے چھپوانے کا بھی ارادہ ہے؟ میں نے اسے رسالوں کے رویے سے آگاہ کر دیا۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ اسے چھپوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مجھے سیارہ ڈائجسٹ لے گیا اور مقبول جہانگیر سے ملوایا، جنہوں نے میری تحریر پڑھ کر اسے پسند کیا اور چھاپنے کی ہامی بھری۔ سیارہ میں ’’جائیو نہ بدیس‘‘ کے نام سے سفرنامہ چھپا، تو لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کیا۔ سفرنامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، سیارہ ڈائجسٹ کے اشاعتی ادارے نے اسے کتاب کی صورت میں بھی چھاپ دیا۔ ’’جائیو نہ بدیس‘‘ کو فلمی نام قرار دے کر مسترد کیا گیا اور تلمیذ حقانی نے اقبال کے مصرعے ’’نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو‘‘ میں سے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے الفاظ کو کتاب کے نام کے لیے جو تجویز کیا، جو شفیق الرحمان سے حتمی منظوری کے بعد میرے پہلے سفرنامہ کا نام قرار پایا۔ اس طرح میری پہلی کتاب کی اشاعت ممکن ہوئی۔ اگر تلمیذ حقانی اور مقبول جہانگیر نہ ہوتے تو میں آج ایک 77 برس کا بوڑھا ہوتا، جس کے تحریر کردہ سفرنامے جن لکیردار کاغذوں والے رجسٹروں پر لکھے گئے تھے، وہ کب کے خاک ہو چکے ہوتے۔ ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کی اشاعت نے مجھے ادبی دنیا میں مشہور کر دیا۔






