سیسل چوہدری: عظیم جنگی ہیرو سے ناقابلِ بھروسہ مسیحی تک

فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری نے اس جنگ میں کئی اہم معرکوں میں حصہ لیا اور بھارت کے تین جہاز بھی مار گرائے۔ ایک مرتبہ بھارت کی فضا میں لڑے جانے والے ایک معرکے میں سیسل چوہدری کے جہاز کا ایندھن بہت کم رہ گیا۔ سرگودھا ائیر بیس تک واپسی ناممکن تھی۔ جہاز کو محفوظ علاقے میں لے جا کر اس سے پیراشوٹ کے ذریعے نکلا جا سکتا تھا مگر ایک ایک جہاز پاکستان کے لئے قیمتی تھا۔ حاضر دماغ سیسل نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ بچے کھچے ایندھن کی مدد سے جہاز کو انتہائی بلندی تک لے گئے اور پھر اسے گلائیڈ کرتے ہوئے سرگودھا اتار دیا۔ اس سے پہلے کسی پاکستانی ہواباز نے جنگی جہاز کو گلائیڈ نہیں کیا تھا۔ اس جنگ میں سیسل چوہدری کے دلیرانہ کارناموں کے اعتراف میں انہیں ستارہ جرات دیا گیا۔
سنہ 1971 میں سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری جنگ کے لئے سرگودھا ائیر بیس کا رخ کر رہے تھے تو آئرس نے سیسل سے بہت محتاط رہنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک ان کے گھر میں خدا نے تین ننھی بیٹیوں کا اضافہ کر دیا تھا۔ سیسل نے جواب دیا کہ وہ یہ جنگ صرف اپنی تین بیٹیوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کی ہزاروں بیٹیوں کے لئے لڑیں گے۔

جنگ کے بعد 1979 تک سیسل چوہدری مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سب سے اعلی فضائی بیڑے کی سربراہی بھی کی۔ وہ کومبیٹ کمانڈر سکول کے سربراہ بھی رہے۔ 1978 کے آخر میں سیسل چوہدری کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ملٹری اتاشی بنا کر بھیجا گیا۔ سیسل وہاں پہنچ گئے لیکن ان کے خاندان کے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاک فضائیہ کے سربراہ نے سیسل کو واپس بلا لیا اور انہیں کو بتایا گیا کہ جنرل ضیا الحق نے ان کی تعیناتی کو منسوخ کر دیا ہے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ جنرل ضیا الحق کا خیال تھا کہ یہ عہدہ بہت ہی حساس ہے اور اسے ایک مسیحی کو سونپ دینا مناسب نہیں ہو گا۔ سنہ 65 اور 71 کی جنگوں میں بہادری کا کوئی تمغہ نہ پانے والے ضیا الحق کو اس شخص کی پاکستان سے وفاداری پر شک تھا جو دونوں جنگوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کے لئے لڑا تھا۔
ستمبر 1979 میں سیسل چوہدری ڈیپوٹیشن پر عراق چلے گئے اور عراقی ہوابازوں کو تربیت دینے لگے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو عراق کا سب سے بڑا غیر فوجی اعزاز دیا گیا۔ 1981 میں مدت پوری ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ سیسل چوہدری کے قیام میں توسیع کر دی جائے۔ اس طرح 1982 میں وہ واپس آئے۔ انہیں عراقی فضائیہ میں بطور مشیر مستقل ملازمت کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔
عراق سے واپسی پر سیسل چوہدری کی اعلی عہدے پر ترقی متوقع تھی لیکن سیسل کو احساس ہوا کہ مذہب کو بنیاد بنا کر ان کی ترقی کو روک دیا گیا ہے اور ان سے کم قابلیت رکھنے والوں کو ان سے اوپر ترقی دے دی گئی ہے۔ 1986 میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ سیسل چوہدری نے پاک فضائیہ سے استعفی دے دیا۔ اس کے بعد خود کو مصروف رکھنے کے لئے سیسل درس و تدریس میں مشغول رہے۔ 13 اپریل 2012 کو سیسل چوہدری نے اس دنیا کو الوداع کہا۔
سیسل چوہدری کے بیٹے سیسل شین چوہدری بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن کی کتابوں میں 65 اور 71 کی جنگوں کے دوسرے ہیروز کے ساتھ سیسل چوہدری کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ ان پر بھی نصابی اسباق موجود تھے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ ختم کر دیے گئے۔ سیسل شین چوہدری کہتے ہیں کہ غیر مسلم ہیروز کو بھی مسلم ہیروز کے ساتھ نصاب کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان سے ان کی محبت کسی دوسرے شہری سے کم نہیں ہے اور پاکستانی بچوں کو ان کی پاکستان کے لئے قربانیوں کا علم ہونا چاہیے۔
اس مضمون کے لئے بشری سلطانہ کی کتاب ”رہبر روشنیاں، پاکستان کے نظرانداز شدہ مذہبی طبقات کے قطب تارے“ سے استفادہ کیا گیا ہے۔

