نصیرآباد میں سندھی سیاسی کارکن اور ادیب ننگر چنا ریاستی ادارے کے ہاتھوں اغوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نصیرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے جواں سال سابق سیاسی کارکن، لکھاری اور مترجم ننگر چنا کو رینجرز نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا ہے۔

ان کے اہلِ خانہ کے مطابق رینجرز اہلکار پیر اور منگل کی درمیانی شب رات ڈیڑھ بجے کے قریب گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ننگر چنا کی بیوی اور بہنوں سمیت اہل خانہ کو زدو کوب کیا۔ بوڑھی والدہ اور ننگر کے بچوں‌ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ نیز انہوں نے ننگر چنا کے کتب خانے کو الٹ پلٹ کر اس میں سے بعض کتابیں اٹھائیں اور ننگر چنا کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

ننگر چنا کے چھوٹے بھائی صفی اللہ کے مطابق رینجرز اہلکار کا رویہ جارحانہ اور سخت گیر تھا۔ ان کے مطابق رینجرز کا تعلق لاڑکانہ رینج سے لگتا ہے۔ لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا کہ بھائی کی رہائی کے لیے کہاں اور کس سے رابطہ کیا جائے۔ اس لیے اہلِ خانہ پریشان ہیں، انہیں کچھ نہیں پتہ کہ ننگر کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ننگر چنا ماضی میں قوم پرست سندھی سیاست سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ لیکن داخلی اختلافات کی بنا پر انہوں نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔ گزشتہ دس برسوں سے وہ گوشہ نشینی اختیار کیے ہوئے تھے۔ لکھنا، پڑھنا اُن کی کل وقتی مصروفیت ہے۔ خصوصآ سندھی اور اردو میں تراجم کا کام کرتے ہیں۔

ان کے تراجم کوئٹہ سے شائع ہونے والے ماہتاک “سنگت” میں تسلسل سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جب کہ شیخ ایاز کی تمام سندھی کہانیوں کا اردو ترجمہ مہردر کوئٹہ سے کتابی صورت میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے معروف فکشن نگار آغا گل کے ناول “دشتِ وفا” کا بھی سندھی میں ترجمہ کیا جو گزشتہ برس کراچی سے شائع ہوا۔

علاوہ ازیں انہوں نے بلوچستان کے علاقہ بوستان میں بطور پرائمری استاد تقریبآ 14 سال گزارے۔ اس دوران ان کا اکثر قیام کوئٹہ میں رہتا تھا، وہ نہایت تسلسل کے ساتھ یہاں کے ترقی پسند سیاسی و ادبی حلقوں سے جڑے رہے۔ وہ سنگت اکیڈمی کی ادبی نشستوں میں نہ صرف شامل ہوتے بلکہ اپنی ادبی تحریریں بھی وہاں پیش کرتے تھے۔

2004ء میں وہ ملازمت چھوڑ کر اپنے آبائی علاقہ منتقل ہو گئے۔ ننگر چنا کی عمر اس وقت 45 سال کے لگ بھگ ہے۔

یاد رہے کہ سندھ میں سیاسی سماجی کارکنوں کی اغوا نما گمشدگی کے واقعات میں حال ہی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ ماہ لاپتہ سندھی کارکنوں کے لیے آواز اٹھانے والے پنھل ساریو کو غائب کر دیا گیا، جس کے کچھ ہی ہفتوں بعد سماجی کارکن، ادیب اور پبلشر انعام سندھی بھی لاپتہ کر دیے گئے۔ ننگر چنا کی اغوا نما گمشدگی کے بعد سندھ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جبری گم شدگی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

بشکریہ حال حوال کوئٹہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •