بلیو وہیل کا طریقہ واردات اور بچاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں اس وقت بلیو وہیل گیم نے پریشانی پیدا کی ہوئی ہے۔ یہ عام معنوں میں کمپیوٹر یا موبائل کی گیم نہیں ہے بلکہ ایک نفسیاتی طور پر کھیلی جانے والی ایک گیم ہے جس میں چند افراد ایسے لڑکے لڑکیوں کو تلاش کرتے ہیں جن کی قوت ارادی کمزور ہو اور آخری مرحلے میں ان کو ٹرانس میں لا کر یا اہل خانہ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے کر خودکشی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اب تک دنیا کے 19 ممالک بلیو وہیل سے متعلقہ 130 سے زائد اموات کے واقعات رپورٹ کر چکے ہیں۔

بھارت میں بلیو وہیل کے چکر سے عین آخری وقت پر بچایا جانے والا ایک نوجوان اپنا تجربہ بیان کرتا ہے۔ اسے عین اس وقت پولیس نے بچا لیا تھا جب وہ اپنی کلائی پر خنجر چلانے والا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ ایک ایسی گیم نہیں ہے جسے ڈاؤنلوڈ کیا جائے۔ اسے وٹس ایپ گروپ میں اس کا لنک ملا تھا۔ اس نے چیلنج قبول کر لیا۔ اسے رات 4:20 پر اٹھنا ہوتا تھا، بلیو وہیل ایڈمن کی جانب سے بھیجے گئے گانے اور خوفناک فلمیں دیکھنی ہوتی تھیں، آدھی رات کو قبرستان جانا ہوتا تھا، اور ایسے دوسرے چیلنج قبول کرنے ہوتے تھے۔ خوش قسمتی سے اس کے بھائی نے اس کے رویے میں تبدیلی دیکھ کر پولیس کو مطلع کر دیا اور وہ رات چار بجے عین اس وقت آئی جب وہ اپنی کلائی پر خنجر سے بلیو وہیل کا نشان کھودنے والا تھا۔

بھارت میں ہی بلیو وہیل چیلنج قبول کرنے والی ایک سترہ سالہ لڑکی نے جھیل میں کود کر خودکشی کی کوشش کی۔ اسے بچا لیا گیا۔ مہینے بھر بعد اس نے گولیاں کھا کر دوبارہ خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ”اگر میں اپنا چیلنج پورا نہیں کروں گی تو میری ماں مر جائے گی“۔ اس نے ڈاکٹروں کو بتایا۔

بھارت میں بلیو وہیل چیلنج کو ایک وبائی صورت اختیار کرتے دیکھ کر وفاقی وزیر برائے بہبود خواتین و اطفال مانیکا گاندھی نے سکولوں کے سربراہوں کو ایک باقاعدہ خط بھیجا ہے اور انہیں کہا ہے کہ اساتذہ اور طلبا میں اس بارے میں آگاہی پھیلائی جائے اور بچوں پر نظر رکھی جائے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک امدادی ہاٹ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔

بلیو وہیل چیلنج 2013 میں نفسیات کے ایک سابقہ روسی طالب علم فلپ بودیکن نے سوشل میڈیا پر شروع کیا تھا۔ بلیو وہیل چیلنج میں گروپ کے ایڈمنسٹریٹر 50 دن تک روز ایک چیلنج پیش کرتے ہیں۔ آخری چیلنج خودکشی کا ہوتا ہے۔ بلیو وہیل چیلنج شروع کرنے سے پہلے ایڈمنسٹریٹر، جسے کیوریٹر کہا جاتا ہے، نوجوان لڑکے لڑکیوں کو چیٹ پر انٹرویو کے ذریعے سیلیکٹ کرتا ہے۔ ان سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ گیم شروع کرنا چاہتے ہیں؟ ان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں جیت سکتے ہیں جب وہ موت سے ہمکنار ہو جائیں۔ اس کے بعد چیلنج شروع ہوتا ہے۔ ہر چیلنج کا ثبوت تصویر یا ویڈیو کی صورت میں کیوریٹر کو فراہم کیا جاتا ہے۔ ان پچاس دنوں میں ان بچوں سے ان کی ذاتی اور فیملی کی تصاویر اور دوسری تفصیل بھی لی جاتی ہے۔ اگر کوئی بچہ چیلنج شروع کرنے کے بعد اس سے باہر نکلنا چاہے تو اسے اہل خانہ کو مار ڈالنے کی دھمکی دے کر روکا جاتا ہے۔ چیلنج آگے بڑھتا جاتا ہے تو بچے کو آس پاس موجود کسی ایسے دوسرے بچے سے رابطہ کرنے کے لئے بھی کہا جاتا ہو جو خود بھی چیلنج قبول کرنے والی ”بلیو وہیل“ ہو۔ یہ دوسری بلیو ویل خودکشی کے مناظر کی فلمبندی بھی کرتی ہیں۔

فلپ بودیکن

ایسے چیلنج دیے جاتے ہیں جن سے بچے کے دل میں موت کا خوف ختم ہو جائے۔ ان کو بلیڈ سے اپنے جسم پر مختلف نشانات بنانے کا کہا جاتا ہے۔ ہر روز رات 4:20 پر اٹھ کر کیوریٹر کی طرف سے بھیجی گئی خوفناک فلمیں دیکھنے یا موسیقی سننے کا کہا جاتا ہے۔ اونچی عمارات یا دیگر جگہوں پر بار بار چڑھنے کا کہا جاتا ہے۔ یوں بچے خود کو نقصان پہنچانے سے ڈرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ان کا دماغ ماؤف کرتی ہو گی۔ پچاسویں دن ان کو آخری چیلنج قبول کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جو خودکشی ہوتا ہے۔

فلپ بودیکن کو مئی 2017 میں گرفتار کیا گیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے 16 نوجوان لڑکیوں کو خودکشی کرنے پر قائل کیا۔ فلپ کو تین برس کی سزائے قید دی گئی۔ اس جنونی کا کہنا تھا کہ ”یہ لوگ ایک حیاتیاتی کچرا ہیں۔ یہ معاشرے کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ لوگ معاشرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں یا پہنچائیں گے۔ میں معاشرے کو ایسے لوگوں سے پاک کر رہا تھا“۔

فلپ تو گرفتار ہوا مگر اب دنیا بھر میں ایسے بے شمار گروپ بن چکے ہیں جو نوجوانوں کو خودکشی پر مجبور کر رہے ہیں۔ جون میں ماسکو پولیس نے الیا سدوروف نامی ایک ڈاکیے کو ایسا خودکش گروپ چلانے پر گرفتار کیا۔ اس کے خودکش گروپ میں 32 بچے شامل تھیں۔ پولیس نے اس سے ایک 13 سالہ لڑکی کو ایک ٹرین کے نیچے آنے کا چیلنج دینے پر پوچھ گچھ کی تھی۔ اس لڑکی نے خودکشی کی کوشش میں خود کو زخم لگائے تھے اور ہسپتال میں داخل تھی کہ اس سے الیا سدوروف کا نام ملا۔

روس میں ہی اگست کو ایک سترہ سالہ لڑکی کو بلیو وہیل چیلنج خودکش گروپ چلانے پر گرفتار کیا گیا۔ اس نے چیلنج قبول نہ کرنے والے بچوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ حکم عدولی کی صورت میں انہیں یا ان کے اہل خانہ کو قتل کر دے گی۔ روس میں مزید گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

روسی پارلیمان نے نہایت تیزی سے ایک قانون منظور کیا ہے جس کی رو سے بچوں کا خودکش گروپ بنانے والوں کو چھے برس قید کی سزا دی جائے گی۔ چین نے انٹرنیٹ سینسر شپ کے ذریعے بلیو وہیل چیلنج پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ انڈیا کے سکولوں میں بچوں اور اساتذہ کو خبردار کرنے کی خاطر آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔ برازیل بھی انڈیا کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہئیں۔

پریشانی کی بات یہ ہے کہ میڈیا پر بلیو وہیل چیلنج کی کوریج کے بعد اب بچے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے دیکھ رہے ہیں۔ بلیو وہیل چیلنج کے شکاروں میں گیارہ بارہ برس کے بچے بچیاں بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر چند مخصوص ٹیگ پوسٹ کیے جاتے ہیں جس کے بعد بلیو وہیل چیلنج کا کوئی کیوریٹر ان بچوں سے رابطہ کرتا ہے اور یوں یہ نفسیاتی گیم شروع ہو جاتی ہے جس کے پنجے سے نکلنا ان بچوں کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔

اپنے بچوں کو اس معاملے میں آگاہی دیں۔ لیکن یہ خیال رکھیں کہ آپ کے بچے کہیں اس آگاہی کی وجہ سے متجسس ہو کر الٹا بلیو وہیل چیلنج کا شکار مت ہو جائیں۔ ہم نے اپنے دونوں لڑکوں کو بٹھا کر آگاہی دینے کی کوشش کی تھی۔ دونوں خوشی سے بے حال ہو گئے اور اس چیلنج کو قبول کرنے کا سوچنے لگے۔ ان کو سختی سے منع کیا کہ ایسی گیم نہیں کھیلنی تو ان کو اپنے کلاس فیلوز اور ناپسندیدہ افراد کا خیال آ گیا جن کو یہ گیم کھلائی جانی چاہیے۔ ان کو دوبارہ سختی سے منع کیا گیا کہ یہ گیم باقی کسی کو بھی نہیں کھلانی ہے۔ (ختم شد)۔

اسی بارے میں: بلیو وہیل چیلنج: والدین کیا حکمت عملی اختیار کریں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1442 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar