بلیو وہیل چیلنج: والدین کیا حکمت عملی اختیار کریں؟

اپنے بچے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو دیکھتے رہیں۔ اگر وہ فیس بک یا ٹویٹر پر کسی ایسے ٹیگ کو استعمال کر رہا ہے تو وہ بلیو وہیل چیلنج کھیلنے کا خواہش مند ہے
CuratorFindMe#، #F57، #BlueWhale، #wakemeupat420
اگر آپ کا بچہ ڈپریشن، پریشانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو اس کے بلیو وہیل کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بچوں پر اچھے نمبر کے حصول کے لئے بے پناہ دباؤ ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی یہی صورت حال ہے اور اسی وجہ سے ادھر سے زیادہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ دباؤ بچوں کو بلیو وہیل کا شکار بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
بچے میں خود کو نقصان پہنچانے والی علامات پر نظر رکھیں۔ اس نے خود کو زخم لگایا ہو یا جسم پر کوئی ٹیٹو بنانے کی کوشش کی ہو تو یہ پریشانی کی بات ہو سکتی ہے۔
اپنے بچوں کے سونے جاگنے کے اوقات پر نگاہ رکھیں۔ بلیو وہیل کے پیش کیے گئے چیلنج عام طور پر رات گئے کرنے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ بدنام وقت رات 4:20 ہے اور دوسرا رات دو بجے۔
اگر آپ کو یہ شبہ ہو جائے کہ آپ کا بچہ بلیو وہیل چیلنج قبول کر رہا ہے تو اس پر چیخیں چلائیں مت۔ وہ پہلے ہی ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور آپ کا ایسا رویہ اس میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے نرمی سے بات کریں۔
آپ بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور نرمی سے اس کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسے اعتماد دیں کہ وہ اپنا کوئی بھی مسئلہ آپ کے سامنے کسی پریشانی کے بغیر رکھ سکتا ہے اور اپنے دل کی بات کہہ سکتا ہے۔ ٹین ایج میں بچے ویسے ہی بغاوت کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس احساس کا شکار ہوتے ہیں کہ بڑے ان کے جذبات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ضرورت محسوس کرتے ہیں تو کسی نفسیاتی معالج سے مشورہ کرنے میں ہرگز مت ہچکچائیں۔ آپ کا یہ اقدام آپ کے بچے کی زندگی بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر آپ کا بچہ سکول میں دوسرے بچوں کی بدمعاشی کا شکار بن رہا ہے یا خود بدمعاشی کر رہا ہے، تو اس سے نرمی سے بات کر کے اس کے مسئلے کا حل نکالیں۔ اس سلسلے میں آپ سکول کی انتظامیہ سے تعاون کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔
اسی بارے میں
بلیو وہیل کا طریقہ واردات اور بچاؤ


Comments are closed.