نو اکتوبر سن ننانوے – اختر حمید خان صاحب


دوست احباب بارہ اکتوبر سن نناوے کے یومِ سیاہ کی یادوں میں شریک کر رہے ہیں اور یہ خادم صومالیہ میں بیٹھا اس سانحے سے کوئی چار روز پہلے ہونے والے ایک نقصانِ عظیم کو یاد کر رہا ہے۔ اس روز ڈاکٹر اختر حمید خان نے ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اس فانی دنیا کو الوداع کہا۔ مجھے یقین سا ہے کہ بہت سے احباب پوچھ بیٹھیں گے کہ موصوف کون تھے اور کیا کرتے تھے۔ چہ عجب کہ اگر یہ خادم یہ مضمون گلّو بٹ کو یاد کرتے ہوے لکھ رہا ہوتا تو یہ شائبہ یا وسوسہ پریشان نہ کرتا کہ میڈیا کی برکت سے اس قبیل کے لوگ "آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے” کے مصداق ہو چکے ہیں۔

خان صاحب رام پور کے افغان نژاد باشندے تھے۔ وہی رامپور جہاں کی دوپلّی ٹوپی، چاقو، اور علی برادران مشہور ہیں۔ سن تیس کی دہائی کے اوخر میں "انڈین سول سروس” [آئی سی ایس] کے امتحان میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں ابتدائی تربیت کے بعد پہلی تعیناتی بنگال میں ہوئی جہاں، نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کی تحقیق کے مطابق، سراسر حکومت کا پیدا کردہ قحط انسانوں کو مکھیوں مچھروں کے مانند مار رہا تھا۔ ہمارے خان صاحب کے ذمّے غریب مچھیروں کی کشتیاں ضبط کرنے کا کام لگایا گیا کہ کہیں وہ جنگِ عظیم دوم کے دوران تیزی سے پیش قدمی کرتی جاپانی افواج کے کام نہ آ جائیں۔ اپنا واحد ذریعہ روزگار و خوراک چھن جانے سے مچھیروں پر کیا گزرے گی، اس خیال کا سامراجی سرکار کے پاس نہ وقت تھا نہ دماغ۔ ڈاکٹر صاحب کی حساس طبیعت پر اس شدید ناخوشگوار فرض کو انجام دیتے ہوے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوے۔ چاہتے تو دیگر آئی سی ایس افسران کے مانند اس ناگواری کو نظر انداز کرتے ہوے عیش کرتے مگر ضمیر نے گوارا نہ کیا۔ چنانچہ موقع ملتے ہی آئی سی ایس کے تین حروف پر چار حرف بھیجتے ہوے استعفی دے دیا اور طے کیا کہ باقی زندگی غریبوں کی حالت سدھارنے میں صرف کی جاے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اعزا و اقربا نے ان کے اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھا ہوگا۔ اور کیسے کیسے خوف اور تحریص ان کے دامن کشاں ہوے ہوں گے۔ استعفی دے کر ڈاکٹر صاحب نے غریبوں کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے علی گڑھ میں ایک تالے مرمت کرنے والے کاریگر کی شاگردی اختیار کی۔ بعد ازاں علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک میں کچھ عرصہ بیلچہ برداری کی، بھر پروفیسر کرّار حسین کے ساتھ اس تحریک سے الگ ہو کر "ادارہ الامین” کے ساتھ رہے۔ سیمابی طبیعت کے زیرِ اثر سن سینتالیس میں نہایت معمولی مشاہرے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں بطور مدرس شامل ہو گئے مگر سن پچاس میں بالآخر پاکستان ہجرت کر لی۔

حکومت پاکستان کی درخواست پر سابقہ مشرقی پاکستان میں کومیلا کے مقام پر ایک تربیتی ادارے کی سربراہی قبول کی اور آٹھ سال وہاں رہ کر اس طرزِ کار کے تجربات کیے جسے دیہی ترقی کے شراکتی ماڈل کا نام دیا جاتا ہے۔ آج برّ صغیر ہی نہیں دنیا بھر میں جہاں جہاں شراکتی دیہی ترقی کی سرگرمیاں جاری ہیں، ان پر کومیلا میں شروع کیے جانے والے تجربے کی پرچھائیں مرتسم ہے۔ اس سال انہیں وظیفے پر امریکا کی مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی بلایا گیا جہاں سے لوٹنے پر انہوں نے اپنا کام مزید تندہی سے جاری رکھا۔ اور "ایشیائی نوبل انعام” کہلانے والے رامون میگاسیسے ایوارڈ سے نوازے گئے۔ امریکی یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد موجودہ پختونخوا میں دیہی ترقی کا کام شروع کیا مگر ان کا اصل فکری ورثہ کراچی میں واقع کچی آبادی "اورنگی” میں شہری بنیادی ڈھانچے کی شراکتی بحالی کا کارنامہ ہے۔ یہ ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی تھی مگر ڈاکٹر صاحب اور ان کے ادارے "اورنگی پائلٹ پراجیکٹ” کی مساعی کے سبب یہ "اعزاز” پاکستان سے چھن کر منیلا میں واقع "سموکی ماونٹین” کے سر پر سج گیا۔ اس شعبے میں استاذ الاساتذہ کی حیثیت رکھنے کے علاوہ خان صاحب شعر و ادب کا ستھرا ذوق رکھتے تھے، میر، غالب اور نظیر کے حافظ تھے۔ خود بھی کچھ شعری تخلیقات کیں اور یہی ان کی زندگی کا المناک پہلو ہے۔ نا معلوم وجوہات سے، کسی مردِ مجہول نے ان کی ایک نظم میں استعمال ہونے والی ایک ترکیب کی بنیاد پر ان کے خلاف، ساہیوال میں گستاخی صحابہ کا پرچہ کٹوا دیا۔ مقامی عدلیہ نے مقدمہ کراچی منتقل کرنے یا وکالتا پیش ہونے کی اجازت نہ دی چنانچہ پیرانہ سالی میں یہ مردِ مجاہد ساہیوال آتا، پیشی بھگتتا اور بغیر شکوہ کیے لوٹ کر اورنگی کو سدھارنے کے جنون میں جُٹ جاتا۔ آج کی این جی اوز کے کارپردازان کے ٹھاٹ باٹ کے بر عکس ڈاکٹر صاحب انتہائی قلیل تنخواہ اور ایک پرانی دھرانی کھُلی جیپ کے بل پر دنیا کو شہری ترقی کا ایک تاب ناک طریقہ کار دے گئے۔

نو اکتوبر سن ننانوے کو ڈاکٹر صاحب کے انتقال کی خبر دنیا بھر میں پھیلے ان کے شاگردوں اور دوستوں کو مغموم کر گئی۔ یہ خادم تب تک دربدر نہ ہوا تھا اور جنم بھومی کوئٹہ میں ہی مقیم تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے چند مریدین نے ایک بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم کے دفتر میں ان کی یاد میں چودہ اکتوبر کو ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا۔ برقیاتی ڈاک تازہ تازہ ہمارے شہر میں وارد ہوئی تھی سو اس کی راہ سے اور ٹیلی فون کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ان کا دم بھرنے والوں کو اطلاع دی گئی۔ اس دوران پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو مذکورہ بین الاقوامی تنظیم کے صوبائی سربراہ غالبا تمام عمر کی سرکاری چاکری کے خمار کے زیرِ اثر اس قدر سراسیمہ ہوے کہ مقررہ وقت پر اپنے دفتر کے گیٹ کو تالا لگوا کر اندر بند ہو گئے کہ مبادا فوجی حکومت اس تعزیتی تقریب کو مشکوک نظر سے دیکھتے ہوے ان کی نئی نوکری کو کوئی گزند پہنچا دے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے سے منسلک، برادر بزرگ منظور خان نے تقریب اپنے ادارے میں منتقل کرنے کی پیشکش کی۔ اس روز ڈاکٹر صاحب کی یاد تازہ کرنے والے ہم چھے سات لوگ ہی تھے۔ باقیوں میں سے کچھ نے بروقت مقام کی منتقلی کی اطلاع نہ ملنے کا عذر پیش کیا، مگر اکثر نے اس کی بھی زحمت نہ کی۔ مرورِ زمانہ دیکھیے کہ چند دن بعد جب مشرف سرکار نے اپنی ننگی استبدادیت کو "سول سوسائٹی” کا مکھوٹا پہنانے کی کوشش شروع کی تو کسی بزرجمہر کے کہنے پر مرحوم ڈاکٹر صاحب کا نام لینا شروع کر دیا اور تعزیتی تقریب سے منہ چھپانے والے چند احباب اس لیپا پوتی میں زور و شور سے شریک ہوے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈاکٹر صاحب زندہ ہوتے تو اس پر کیسا ردِ عمل ظاہر کرتے، مگر مرحوم سے چند ذاتی ملاقاتوں کی بنا پر یہ خادم گمان کر سکتا ہے کہ وہ اس منافقت کا استقبال چند زور دار رامپوری ناگفتہ بہ اسماے صفت سے کرتے کہ ہر لحاظ سے آزاد مرد تھے۔

Facebook Comments HS