کیا بھٹو صاحب کے ختنے ہوئے تھے؟
محترم خورشید ندیم حریف کی قوت توڑنے کے لیے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرات سے قوم کو چتاؤنی دے رہے ہیں۔ کوئی مگر ان کی بات سنے تو۔ ان کے کالم سے اردو کے سب سے بڑے نثر نگار مولانا محمد حسین آزاد یاد آئے، جنھوں نے ’’ درباراکبری ‘‘ میں لکھا ہے کہ’ بے لیاقت دشمن جب حریف کی طاقت اپنی طاقت سے باہر دیکھتے ہیں تو اپنا جتھا بڑھانے کے لیے مذہب کو بیچ میں ڈالتے ہیں، جس سے فقط دشمنی ہی نہیں بڑھتی، حریف کی جمعیت ٹوٹ جاتی ہے۔‘
غالب نے کلکتہ میں جو ادبی یدھ لڑی اس میں ان کے خلاف مرزا افضل بیگ پیش پیش تھا ۔ ان صاحب نے شاعر کے خلاف اہل علم کے کان بھرے۔ سنّیوں میں غالب کو رافضی مشہور کیا تو اہل تشیع میں بے دین کہہ کر برائی کی۔ گویا آج کل ہمارے یہاں جو ہو رہا ہے یہ نیا نہیں، اس کی جڑیں ہماری ادبی اورسیاسی تاریخ میں پیوست ہیں۔
خورشید ندیم صاحب نے بات موجودہ سیاسی تناظر میں کی لیکن اس حوالے سے ہماری قومی تاریخ بھی روشن نہیں اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا کہ کسی مقبول سیاسی رہنما کے خلاف لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکائے جارہے ہوں۔ یہ کام ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بڑے پیمانے پر ہو چکا، اس وقت زیادہ خرابی شاید اس لیے نہیں ہوئی کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا ظہور نہ ہوا تھا۔اس دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر قرآن پاک کا نسخہ جلانے کا الزام دھرا گیا۔ سوشلزم کو بمنزلہ کفر بتایا گیا۔ بھٹو کو ہندو ثابت کرنے کے لیے توانائی صرف ہوئی۔ ان کا فرضی ہندوانہ نام (گھاسی رام) مشہور کر کے قوم کے علم میں ’اضافہ‘ کیا گیا۔ ایک صحافی نے اپنی بیوی کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے پر بھنا کر بھٹو ساحب کا ایک فرضی شجرہ شائع کیا۔ یہ صحافی ابھی حیات ہیں اور نامعلوم قوتوں کے اشارے پر بھارتی پنجاب کے مقابلے میں پاکستانی پنجاب کی عصبیت پھیلایا کرتے ہیں۔
اور تو اور مرنے پر بھی بھٹو صاحب کی جان نہ چھوٹی۔ ان کی ’مسلمانی‘ کا پتا چلانے کے لیے ختنوں کا خصوصی معائنہ ہوا۔ بھلا یہ ہواکہ وہ اس امتحان میں سرخرو ٹھہرے۔
راولپنڈی جیل کے سابق سپیشل سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل (ر) رفیع الدین نے اپنی کتاب ’’ بھٹو کے آخری 323 دن‘‘ میں لکھا ہے:
’’بھٹو صاحب کی لاش کو رات دو بج کر پینتس منٹ پر پھانسی کے پھندے سے جدا کیا گیا۔ان کی میت کو غسل دیا گیا، جس کا بندوبست وہیں کر لیا گیا تھا۔ایک فوٹو گرافر نے جسے ایک انٹلی جنس ایجنسی نے بھیجا تھا،ضرورت کے مطابق بھٹو صاحب کے چند فوٹو اتارے۔ ان تصویروں سے حکام کا یہ شک دور ہو گیا کہ اُن کے ختنے نہیں ہوئے تھے۔ بھٹو صاحب کے اسلامی طریقے سے ختنے ہوئے تھے ۔ ‘‘



