کیا ٹیکنوکریٹس آرہے ہیں؟

بے نظیر بھٹو پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑی خطاب کر رہی تھیں۔ اسوقت وہ اپوزیشن لیڈر تھیں اور ملک میں ہر سو ٹینکو کریٹس کی حکومت لانے کے چرچے زبان زدعام تھے۔ بے نظیر بھٹو کہہ رہی تھیں کہ آج ملک میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ وٹ از ٹیکنوکریٹس؟ وٹ از ٹیکنوکریٹس؟ بے نظیر بھٹو نے اس وقت کے وزیر اعطم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب! ٹیکنوکریٹس کی حکومت لانے کی باتیں کرنے والے ہم دونوں ( آپ کو اور مجھ ) کو اقتدار سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے سوال کیا تھا کہ ٹیکنوکریٹس کہیں آسمان سے نازل ہوئی مخلوق ہوگی؟ ٹیکنوکریٹس لانے والوں۔ ان کے حامیوں دا نشوروں صحافیوں و اینکر زپرسنوں اور تجزیہ نگاروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کہ ایوب خان کی حکومت۔ یحیی راج۔ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی حکومتیں کیا تھیں؟ ایوب خانی کابینہ میں شعیب خان سمیت متعدد ٹیکنو کریٹس شریک نہیں تھے؟ ضیا ا لحق کی کابینہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نہ تھی؟ اور اپنے کمانڈو جنرل پرویز مشرف مہا ٹیکنوکریٹ شوکت عزیز اور شوکت ترین جیسے بنکرز پر مشتمل حکومت کیا ٹیکنوکریٹس کی حکومت نہ تھی؟
ماضی میں ان ٹیکنوکریٹس نے کیا ملک کو گلوگلزار میں تبدیل کردیا؟ ہر طرف دودھ کی نہریں بہتی دکھائی دیں؟ کیا پاکستان غربت کے ظالم پنجوں سے آزاد ہو گیا؟ کیا ایوب خان۔ یحیی خان۔ ضیاء الحق اور جنرل مشرف بمعہ شوکت عزیز اور محبوب الحق وطن عزیز کو کرپشن سے پاک کر پائے؟ مہنگائی کی لعنت سے مملکت خداداد کو نجات دلا گئے؟ یا ٹیکنوکریٹس نےمسئلہ کشمیر کو حل کرکے ثابت کیا کہ سیاست دان نالائق ہیں ا ور ٹیکنوکریٹس (جن میں جرنیل بھی شامل ہیں) ملک کو ہر قسم کے بحران سے نکالنے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں جبکہ سیاستدان اس جوہر گراں قدر سے محروم ہیں اور ان میں بس ایک ہی گن۔ ہنر اور صلاحیت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ سیاستدان لوٹ مار کی مہارت بے پناہ کے مالک ہوتے ہیں۔
ٹیکنوکریٹس بشمول فوجی جرنیلوں جو خود کو سب سے زیادہ عقل مند قرار دیتے ہیں۔ اگریہ واقعی اس قدر لائق فائق ہوتے ہیں تو پھر جمہوری حکومتوں کا تحتہ الٹ کر برسراقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد پھر سیاستدانوں کا سہارا کیوں تلاش کرتے ہیں؟ ایوب خان نے پہلے سیاستدانوں کو ایبڈو کے ذریعے نا اہل کیا اور پھر ان میں سے ہی کچھ کو اپنا شریک سفر بنایا۔ یحیی خان نے بھی یہی طرز عمل اختیار کیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاستدانوں کی پیٹھوں پر کوڑے برسائے۔ انہیں پھانسی گھاٹ لیجاکر سولی چڑھایا مگر مجلس شوری میں پاک دامن بقول مومن جنرل اس نے حسب نسب دیکھ کر فرشتوں کو ساتھ شریک اقتدار کرنے کے دعوے کیے لیکن آگے جاکر اس کا یہ دعوے حرف گلط کی طرح مٹ گئے۔ اور اپنی فرشتوں کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر ختم کرنے کی سعادت بھی جنرل ضیاء الحق نے ہی حاصل کی۔
اوجڑی کیمپ کا دھماکہ اور سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ٹیکنوکریٹس کے ادوار حکومت میں رونما ہوئے۔ ہاں سیاہ چین گلیشئیر بھی انہیں کے ہاتھوں بھارت نے چھینا۔ ٹیکنوکریٹس کے کس کس کس کارنامے کا تذکرہ کیا جائے اور کسے موضوع بحث نہ بنایا جائے۔ لیکن ان سب کمزوریوں۔ خامیوں۔ کوتاہیوں کے باوجود یہ خود کو فرشتے سمجھتے ہیں اور ہر قانون و آئین سے خود کو بالاتر سمجھنا اپنا پیدائشی حق قرار دیتے ہیں۔ سیاسی اور جمہوری حکومتوں کے ماتھے پر ایسا کوئی بدنما جھومر نہیں۔ سیاسی و جمہوری حکومتوں نے تو اس ملک کو جوہری طاقت بنایا۔ اقوام عالم میں اعلی مقام و مرتبہ دلوایا ہے۔
خدارا اس ملک پر کچھ رحم کیجیے۔ اس قوم پر ترس کھایئے اور حکومتیں بنانا۔ چلاناجس کا کام ہے انہیں کرنے دیجیے اور آپ کے ذمہ جو کام سونپا گیا ہے اپنی تمام تر توجہ اسے پر مرکوز رکھیں تواس ملک وقوم پر کسی احسان عظیم سے کم نہیں ہوگا اس کے ساتھ ماضی میں سرزد ہونے والی خامیوں کمزوریون اور کوتاہئیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کریں اور ملک کا نظام و انتظام سیاستدانوں۔ پارلیمنٹ پر چھوڑدیں اور یقین رکھیں سیاتدان ملک کو دو لخت نہیں ہونے دیں گے اور اگرکسی نے پاکستان کی جانب میل اور بری آنکھ سے دیکھا تو اسے دندان شکن جواب دیں گے۔ کیوں نے جنہوں نے ملک بنایا ہے وہ اس کیحفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ آپ کا اس ملک کے قیام میں کوئی حصہ نہیں لہذا آپ اس کی جغرافیائی سرحدوں کی نگرانی کیجیے نظریاتی سرحدیں جانیں اور سیاسی و جمہوری جکومتیں جانیں۔

