عشریت خوبصورت ہے، ضرورت ہے تو تعلیم کا زیور پہنانے کی



ہمارے رخت سفر باندھنے سے چند روز قبل سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے افتتاح کے بعد چترال کا لواری ٹنل عارضی ٹریفک کے لئے کھولا تھا۔ بظاہر تو سالوں پر محیط اس منصوبے کی تکمیل پر ہمیں اتنی خوش گمانی نہیں تھی، اپنی باری کے انتظار میں وقت گزاری کے لئے ایک مقامی ڈرائیور سے یہ سن کر انگشت بدنداں رہ گئے کہ چترالیوں کا رابطہ چھ مہینے پاکستان سے ممکن ہی نہیں تھا جب برف باری ہوتی اور گرما میں اس ایک ٹنل کا راستہ جو اب صرف دس منٹ کا ہے ڈھیڑ گھنٹہ سنگلاخ چٹانوں پر جان جوکھوں پر ڈال کر طے کرنا پڑھ رہا تھا۔ ہم ڈرائیور سے دلچسپ اور معلوماتی گفتگو میں محو تھے کہ پولیس نے ہمیں جانے کا اشارہ کیا۔ گاڑی پر چڑھ دوڑے اور پلک چپکتے ہی ہم عشریت پہنچ چکے تھے، مگر بقول شاعر
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

وہی بھاری بھرکم پتھر اور ہماری ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑی تھی، کچھ پتھروں پر ہمیں چلنا تھا اور کچھ اور ڈھلوان سے پر تول کر ہماری طرف چھلانگ لگانے کے لئے پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے۔ ویسے ہمارے حکمران بھی کتنے شاطر دماغ ہوتے ہیں، ہر میگا پروجیکٹ کے ساتھ چند کلومیٹر پختہ سڑک اور ایک آدھ صحت و تعلیم کے مراکز کے معاہدے ضرور طے کرتے ہیں تاکہ منصوبے میں سو نہیں تو پچاس فیصد مقامی لوگوں کی مدد حاصل کرسکے۔ لیکن منصوبہ ختم ہوتے ہی وہ اپنا بوریا بستر گول کرکے رفوچکر ہوجاتے ہیں، کچھ ایسا ہی عشریت سڑک کے ساتھ بھی ہوا ہے۔
خدا خدا کرکے ہم عشریت کے مین بازار میں پہنچ گئے، جہاں لکڑ یوں اور گھوندی ہوئی مٹی کے بنائے چھوٹی دکانوں اور ریستوارنوں سے روایتی آرکٹکچراور ہنرمندی دیکھ کر ہر آنے والا سیاح بس آنکھیں ہی ملتے رہ جاتے ہیں۔

ایک وسیع و عریض اخروٹ کا درخت جو پوری مارکیٹ کے اوپر پھیلا ہوا تھا۔ اسی درخت کے نیچے لکڑی سے بنے ایک چائے خانے کے سامنے بنچوں پر ہمارے میزبان جنرل کونسلر خالد محمود اور پلولا سماجی کارکن احسان صاحب ہمارے چشم براہ تھے۔ مصافحہ کے بعد انہوں نے چترال کی روایتی دودھ پتی سے ضیافت کی۔ عشریت کی دودھ پتی کی چسکیاں اورشجر سایہ دار تلے چند لمحے اس تمام کھٹن راستوں کی تھکاوٹ کو ہماری ذہنوں سے چٹکی میں اتار پھینک چکا تھا۔
چند لمحے سستانے کے بعد طبعیت ہشاش بشاش ہوئی تو باقاعدہ نشست کا آغاز کردیا۔

ہاں بھئی! خالد محمود صاحب ماشاء اللہ اب تو بلدیاتی نظام رائج ہوا ہے، عشریت میں تعلیمی ایمرجنسی کے چند ثمرات بارے کچھ بیان ہوجائے؟
ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد خالد صاحب نے چاہے کی پیالی ٹیبل پر رکھ دی اور گویا ہوئے۔

بھائی خوب قانون سازی ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری سکولوں کی چاردیواری پر سخت عمل درآمد ہورہا ہے، ہاں یہ الگ بات کہ سرکاری کوئی سکول نہیں بنا۔ مگر ویسے بھی صوبائی حکومت برملا اظہار کرچکی ہے کہ ہمارا آدھا بجٹ نظام کی بہتری میں خرچ ہورہا ہے۔ ہاں یہ ذکر تو انہوں نے بھی نہیں کیا کہ نئے ادارے بھی تعمیر ہورہے ہیں۔

آپ یقین مانئے پالیسی پر عمل درآمد میں کوئی رعایت نہیں برتی جارہی ہے۔ یہ جو احسان صاحب ہیں خود ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے کثیرالثانی سکول چلارہے ہیں۔ اونچی چاردیواری اور دیگر لوازمات پر پورا نہ اترنے پر ان کے کئی اساتذہ کو تھانے سے بمشکل چھڑا کے لائے ہیں۔

میں نے قطع کلامی پر معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ چترال بشمول عشریت تو امن و امان کا مسکن گردانا جاتا ہے تو پھر۔ انہوں نے ثبات میں سر ہلایا اور کہنے لگے۔ ہاں بھئی لیکن پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ اور یہ الگ بات کہ پالیسی نظام کی بہتری ہے کی ہے اداروں کی تعمیر نہیں۔ اگر پالیسی میں نئے سکولوں کی تعمیر ہوتی تو بھلا اس سے کون روگردانی کرسکتا۔ یہاں کے سیکڑوں بچوں کے لئے کوئی بھی مڈل اور ہائی سکول نہ پہلے سے موجود تھے اور نہ اب ہے تو پھر وہی ”پالیسی والی بات ہے“

ادھر احسان صاحب پر بھی ہمیں ترس آنے لگا کہ اتنے بچوں کے لئے ایک سماجی کارکن کیا کرسکتا ہے۔ احسان صاحب شاید ہمارے تاثرات بھانپ چکے تھے، کہنے لگے بات یہ نہیں کہ اگر ریاست خاموش ہے تو رعایا بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔

خیراتی اداروں سے اتنا تو ہاتھ آیا کہ اپنی مادری زبان پالولا کا رسم الخط رائج ہوا، نصاب تشکیل دیا۔ اساتذہ کو کثیرالثانی سکولوں میں پڑھائی کے لئے ٹریننگ دے دی گئی۔ بس اپنے تئیں بھاگ دوڑکررہے ہیں الحمد اللہ دوسری کلاس تک ہم بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دینے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور اگر کسی کی نظرالتفات پڑگئی تو عین ممکن ہے کہ پانچویں اور مڈل تک بھی مفت تعلیم دینے میں سرخرو ہوجائیں گے۔ اور امید کا دامن والدین چھوٹنے ہی نہیں دیتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کمپئین کی ضرورت ہی نہیں۔ تعلیمی شعور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، مگر حصول تعلیم کے ذرائع ہی مفقود ہو تو پھر والدین کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جاسکتا۔

اسی اثناء ہمارا دھیان ہمارے ساتھ شامل سخن پالولا کے نوجوان شاعر رفیق صاحب کی طرف ہوا۔ ہم نے ان سے چند اشعار سے محفل کو چار چاند لگانے کی استدعا کی تو انہوں نے مایوسی کے چند بول پر ہی اکتفاء کیا۔

کہتے ہیں یار شعر وشاعری کو مفلسوں کی بس میں نہیں رہی اب۔ اب تک جتنی شاعری صفح قرطاس پر اتارے ان کو چھاپنے کی استطاعت نہیں ہوئی۔ چھپائی کی آس میں کاغذوں کے پلندے بھی دیمک کھاگئے۔

رفیق صاحب کی مختصر آپ بیتی نے دیر تک ماحول پر اداسی طاری کر دی۔
چونکہ ہم ایک ”امید کا چراغ“ لے کراپنے تحقیقی سفر پر نکلے تھے۔ اس لئے اس وقتی تاریکی کے سامنے ہمارے امید کا چراغ ہار ماننے والا نہیں تھا۔ اس لئے اس شعر کے ساتھ نشست برخاست کرلی کہ
غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا
میں تو غم سے ہی بے مثال ہوا

اور ہم نے اپنے اگلے پڑاؤ دروش کی طرف اپنا رخت سفر باندھ لیا۔
دروش کے خوبصورت، خوبصیرت لوگوں کے حال احوال آپ سے اگلی نشست میں ہوگی۔

Facebook Comments HS