ڈیورنڈ لائن: سوال یہ ہے کہ پڑوس کا کیا کرنا ہے؟
وطن عزیز میں جغرافیائی امور پر مکالمہ اکثر چہروں پر عضویاتی تناﺅ کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔ بدقسمتی سے وطن میں ایک طبقہ خود کو دیگر پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی سمجھتا ہے۔ محروم طبقات کی جانب سے اٹھنے والے سوالات میں چھپے کرب کو سمجھنے کی بجائے بہتر یہی جانا جاتا ہے کہ ان کو غدار یا کم تر درجے میں نیم پاکستانی قرار دے کر محرومی کے سوال کو تفرقے کی آنچ پر چڑھا دیا جائے۔ اس لئے پہلے تو یہ اصول جان لینا چاہیے کہ وطن عزیز کا کوئی شہری، کوئی طبقہ، کوئی لسانی اکائی یا کوئی صوبہ مفتوحہ آبادی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ کسی کے سوال کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے موضوعی شجرے پر چاند ماری سے تفہیم نہیں، تفرقہ جنم لیتا ہے۔ ایک مشکل یہ ہے کہ یہاں سوال کو علم کی حرمت نہیں سمجھا جاتا بلکہ بسا اوقات سوال کے مشمولات کو نظر انداز کر کے سالک کی نیت کو حب الوطنی کے ترازو میں تولنے کا رواج ہے۔ اس لئے تفصیل میں جانے سے پہلے یہ اقرار کرلینا چاہے بلکہ حلفیہ اقرار کر لینا چاہیے کہ طالب علم کسی نئی سرحد بندی کے حق میں نہیں ہے۔ گزشتہ ستر سال میں دو مرتبہ کی سرحد بندی کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی نئی سرحد بندی خون ریزی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ جن احباب کو کسی نئی مہم جوئی کا شوق ہے وہ ضرور اپنے دلائل سامنے رکھیں اور کسی مبہم آزادی کا خواب دیکھا کریں تاہم طالب علم کسی موہوم مہم جوئی سے زیادہ انسانی خون کی حرمت کا قائل ہے۔
برادر عزیز آصف محمود نے ڈیورنڈ لائن کی تاریخ بیان کی ہے۔ ان کے بقول یہ طے شدہ تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ڈیورنڈ معاہدہ 1893 ، ڈین۔حبیب اللہ معاہدہ 1905، پنڈی ایگریمنٹ 1919، کابل معاہدہ 1921، نادر شاہ کا 1930 میں برطانوی حکومت کو لکھا گیا خط اور معاہدوں کے بابت جانشین ریاستوں کے حوالے سے طے پانے والے ویانا کنونشن کا حوالہ دیا ہے۔ یہ تومعلوم ہے کہ پاکستانی ڈیورنڈ لائن کو ایک مستقل سرحد مانتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے تیار ہے؟ سوال یہ ہے کہ سردار داﺅد سے لے کر بشمول ملاعمر اور اشرف غنی تک کسی نے ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کیا ہے؟ ان سولات کا جواب نفی میں ہے۔ اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ افغانوں کا ڈیورنڈ لائن پرموقف کیا ہے۔

افغانوں کے نزدیک ایک ڈیورنڈ معاہدہ ہے اور ایک اس کا پس منظر ہے۔ بارکزئی بادشاہت کی بنیاد رکھنے والے امیر دوست محمد خان ( 63-1845) کے بعد افغانستان میں طوائف الملوکی کا آغاز ہوا۔ 1863 سے لے کر 1879تک تخت کابل بھائیوں کے درمیان ایک میوزیکل چئیر تھا۔ دوست محمد خان کی وصیت کے مطابق تخت شیر علی خان کو ملا مگر دو سال کے اندر ان کے بڑے بھائی افضل خان ( 67-1865) نے ان کو بے دخل کر دیا۔ افضل خان کی وفات کے بعد پانچ ماہ تک ایک اور بھائی محمد اعظم خان تخت پر قابض ہوا۔ اس کے بعد ایک بار پھر شیر علی خان برسراقتدار آیا۔ دوسری افغان-اینگلو جنگ (80-1878) کے آغاز پر جب شیر علی خان نے تخت چھوڑ کر روس میں سیاسی پناہ لی تو آٹھ ماہ کے قلیل عرصے تک تخت پر قبضہ کرنے والے ان کے بیٹے یعقوب خان نے نہ صرف بیشتر علاقے انگریزی سرکار کے حوالے کر دیئے بلکہ انگریزی سرکار کے ساتھ ’ معاہدہ گندامک‘ پر بھی دستخط کئے۔ کابل نے پہلی مرتبہ انگریز ایلچی کو قبول کیا۔ معاہدہ گندامک کے خلاف یعقوب کے بھائی ایوب خان(80-1879) نے بغاوت کر دی۔ ایوب خان نے میوند کے مقام پر جارج بوروس کی کمان میں لڑنے والے گورا فوج کو بدترین شکست دی مگر قندھار کے محاذ پر جنرل فریڈرک رابرٹس نے ایوب خان کو شکست دی۔ ایوب کو تخت چھوڑ کر ایران بھاگنا پڑا اور انگریزی سرکار نے ان کے چچازاد عبدالرحمن خان ( 1901-1880) کو تخت پر بٹھا دیا۔ یاد رہے کہ عبدالرحمن خان افضل خان کا بیٹا تھا جس نے ایوب خان کے والد شیر علی خان سے تخت چھینا تھا۔ اس لئے افغان عوام اور جنگجو سرداروں نے عبدالرحمن خان کو دل سے قبول نہیں کیا تھا کیونکہ ان کی ہمدریاں میوند میں انگریزی فوج کو شکست دینے والے ایوب خان کے ساتھ تھیں۔ غازی ایوب خان اور ان کے سنگ لڑنے والی ملالہ( د میوند ملالہ) آج بھی افغان لوک داستانوں اور فوک موسیقی میں جادوئی کرداروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈیورنڈ معاہدہ انگریزی سرکار کے ساتھ امیر عبدالرحمن نے کیا جسے افغان غدار اور انگریزی سرکار کا غلام سمجھتے تھے۔ بعد کے معاہدات اسی کا تسلسل ہیں۔ برادرم آصف محمود کے بقول حبیب اللہ خان نے سر لوئس ڈین کو 1905 میں کابل بلا کر معاہدے کی توثیق کی۔ حقیقت حال یوں ہے کہ حبیب اللہ خان کے تخت نشین ہونے کے بعد انگریزی سرکار نے افغانستان کو ڈیورنڈ معاہدے کے جاری ہونے والی سبسڈی بند کر دی۔ ان کے بقول یہ معاہدہ امیر عبدالرحمن کے ساتھ تھا اور امیر کے بعد یہ کالعدم تصور ہوتا ہے جب تک نیا امیر ایک نئے معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔ اس پر حبیب اللہ خان نے کہا کہ پھر تو ڈیورنڈ معاہدہ بھی کالعدم تصور ہو گا (حوالہ۔ National Archives of India (1904)) انگریزی سرکار کو یہ منظور نہ تھا اس لئے انہوں نے نئے معاہدے اور ڈیورنڈ کی توثیق کے لئے حبیب اللہ خان کے پاس کئی وفود بھیجے مگر حبیب اللہ خان راضی نہ ہوا۔ حبیب اللہ خان کو برطانوی ہندوستان کے دورے کی دعوت دی گئی مگر حبیب اللہ خان نے انکار کیا۔ انگریزی سرکار نے اپنی پالیسی نرم رکھی اور 1904 میں لوئس ڈین کو کابل بھیجا جس نے حبیب اللہ خان کو افغان خود مختاری کے حوالے سے جنگ اور معاشی پابندیوں کی دھمکیاں دینے کے بعد 1905 میں حبیب اللہ خان کو نئے معاہدے پر راضی کیا (حوالہ۔ Afghanistan: History, Diplomacy and Journalism, Vol 1. Dr.M.Halim Tanwir))۔ 1919 میں امیر امان اللہ خان (29 -1919) برسر اقتدار آئے تو اس نے افغانستان کی مکمل خود مختاری اور آزادی کا اعلان کر دیا۔ نتیجے میں تیسری اینگلو افغان جنگ (1919) شروع ہوئی۔ افغانوں کے بقول ’پنڈی معاہدہ ‘دراصل جنگ بندی کا معاہدہ تھا جس میں انگریز سرکار نے امان اللہ خان کے وفد کو ڈیورنڈ لائن کی توثیق پر مجبور کیا تھا۔ اس معاہدے کا حصہ وہ خط بھی ہے جس میں افغان وفد کے سربراہ نے انگریز وفد کے سربراہ کو لکھا کہ’ اس معاہدے اور اس خط کے بعد افغانستان داخلی اور بیرونی طور پر مکمل خود مختار ہے اس جنگ نے پرانے تمام معاہدے کالعدم کر دیئے‘۔ افغانوں کے بقول اگر پرانے معاہدے صحیح تھے تو انہیں کیسے کالعدم قرار دیا گیا؟ 1921 کا معاہدہ کابل دراصل 1919 کے معاہدے کی توثیق تھی۔ امیر اللہ خان نے روس کے ساتھ تعلقات بڑھا لئے تھے جو برطانوی سرکار کو منظور نہیں تھے۔ گیارہ ماہ تک طویل مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں امیر نے جنوب مغربی صوبے میں بہت سارے علاقے افغانستان کو واپس کرنے کی شرط رکھی (حوالہ۔ Encyclopedia Iranica (2011) Anglo-Afghan Treaty of 1921)۔ تاہم برطانوی سرکار نے کچھ علاقے افغانستان کو واپس کر دیئے جس کا اسی معاہدہ کابل کے آرٹیکل دو میں ذکر موجود ہے۔ اگر ڈیورنڈ لائن حتمی سرحد تھی اور اس کی توثیق بار بار ہو چکی تھی تو اس نئے معاہدے میں کچھ علاقے افغانستان کو واپس کیوں کئے گئے؟

برادرم آصف محمود نے 1930 میں نادر شاہ کی جانب سے برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط کا ذکر کیا ہے مگر وہ 31 جولائی 1947 کو افغان وزیراعظم شاہ محمود خان کی برطانوی سیکریٹری خارجہ امور سے ملاقات کا احوال لکھنا بھول گئے جس میں افغان وزیر اعظم نے کہا کہ ’تقسیم ہند کے بعد افغانستان اور تاج برطانیہ کے درمیان کئے گئے تمام معاہدات کالعدم ہو گئے‘۔ افغانوں کے بقول 1893 سے لے کر 1921 تک تمام معاہدے کو افغانستان کے لویہ جرگہ کی توثیق حاصل نہ ہو سکی۔ 26 جولائی 1949 کو ظاہر شاہ نے ڈیورنڈ لائن کے متعلق جب پہلا لویہ جرگہ بلایا جس نے ڈیورنڈ معاہدے کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ افغان عہدیدار معاہدوں کی بابت جانشین ریاستوں کے حوالے سے طے پانے والے ویانا کنونشن کی حیثیت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دو دلائل پیش کرتے ہیں۔ ایک ،افغانستان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ دو،دوسرا یہ معاہدہ 1978 میں ہوا اور 1996 میں نافذالعمل قرار پایا اس لئے اس کا اطلاق 1947 میں نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک عبدالطیف پدرام کے بیان کا ذکر ہے تو اس کو چھوڑ ہی دینا چاہیے۔ پدرام کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ایک تو وہ شیخ رشید صاحب کی طرح یک نشستی پارٹی کا سربراہ ہے اور دوسرا وہ لبرل اور سیکولر خیالات رکھنے والا شخص ہے ۔ لبرل اور سیکولر اگر ہمارے ہاں سیاست و ریاست کے معاملات پر کلام کریں تو احباب ان کو مطعون اور راندہ درگاہ سمجھتے ہیں۔ یہی لبرل اگر افغانستان میں کلام کریں تو احباب ان کی بات دلیل میں پیش کرتے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈیورنڈ لائن کو پاکستان بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ستر سال بعد یہ علاقہ افغانستان کو واپس نہیں ہو سکتا۔ بربنائے بحث اگر کوئی ریفرنڈم ہوتا ہے تو پاکستانی خطے کے باسی افغانستان میں شامل ہونے کے حق نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ تو مان لینا چاہیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ستر برس سے ڈیورنڈ کے معاملے پر تعلقات خراب ہیں۔ جلد یا بدیر ،مگر بہرحال پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اس معاملے کوئی مستقل حل نکالنا پڑے گا۔ معاملے سے بے رخی اختیار کر نے اور تاریخی دھول اڑانے سے افغانستان ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہو گا۔



