قانون بے توقیر کیوں؟ 


دنیا میں قانون کی خلاف ورزی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ہر ملک میں ہوتی ہے اور بکثرت ہوتی ہے۔ اگر قانون کی خلاف ورزی کا ریٹ صفر ہو جائے تو پھر قانون سازی کا مقصد ہی فوت ہو جائے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ قانون بنایاہی اس لئے جاتا ہے۔ ۔ ۔ کہ ایک خاص قانون پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا قانون ہے جس کی پیروی کے لئے مہذب اقوام کو قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی؟ تو اس کا جواب بہت ہی سادہ اور مختصر الفاظ میں قانون قدرت یا نیچرل جسٹس ہے۔ یعنی جدید دنیا کے سارے سارے قوانین بننے سے پہلے بھی ایک قانون موجود تھا اور لوگ اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ مگر جب اس کی خلاف ورزی کی شرح بڑھی تو قانون سازی کی ضرورت پڑی۔ مطلب موجودہ قوانین بذات خود مطلوب نہیں ہیں بلکہ مطلوب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فطری انصاف، قانون قدرت یا پھر نیچرل جسٹس کے حصول کے لئے جو قوانین دنیا میں بنائے جاتے ہیں ان پر عمل بھی ہوتا ہے اور اس کیخلاف ورزی بھی ہوتی رہتی ہے۔ مگر بھری دنیا میں بحرحال ان تمام قوانین کی نہ صرف عزت کی جاتی ہے ابلکہ ان کی خلاف ورزی پر شرم بھی محسوس کی جاتی ہے۔ اور ایک قانون شکن کو معاشرے میں کسی اچھی نگاہ سے نہ تو دیکھا جاتا ہے اور نہ اس سے راہ و رسم بڑھانے کو کسی قسم کی قدرو منزلت اور باعث فخر گردانا جاتا ہے۔

مگر صورتحال وطن عزیز میں شاید الٹی ہے۔ اور یہاں قانون جتنا بے توقیر اور بے عزت ہے شاید ہی اس کی مثال کسی مہذب معاشرے میں ملتی ہو۔  اور یہاں جتنا بڑا قانون شکن اتنا اونچا اس کا شملا۔ اور اس سے راہ و رسم رکھنا ایسے باعث عزت و افتخار سمجھا جاتا ہے جتنا عہد جاہلیت میں راہزنوں اور قزاقوں سے سمجھا جاتا تھا۔ صورتحال صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ ایسے عظیم لوگوں کا ملک ہے کہ جس کے خلاف کرپشن، بے ایمانی، قانون شکنی اور لوٹ مار کی ڈگری پاس ہو جائے اس کو ایسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے جیسے سات حج کر آیا ہو۔ اور یہ عالم محض ہماری سیاست اور حکومتی ایوانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ ایک عام شہری سے لے کر ایک حکمران تک اور ایک ریڑھی والے سے لے کر چوٹی کے بزنس ٹائکون تک سبھی ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یعنی ہم سبھی اس بات پر بلا تفریق و امتیاز متفق ہیں کہ قانون ایک بے عزت اور بے توقیر کاغذ کا نام ہے جس کا مقصدصرف عوام کو زحمت، تکلیف اور ابتلا میں مبتلا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اور یہ قانون پر عمل درآمد کروانے والے ادارے اور اہلکار ظالم، جابر اور برائی اور بے حسی کی علامت۔

تبھی تو یہاں اداروں اور ان کو اہلکاروں کو سوائے گالیوں کے کچھ نہیں ملتا۔ مثال کے طور پرلفظ پولیس سنتے ہی یا پولیس والے کو دیکھتے ہی ہمارے ذہن میں جو پہلی بات آتی ہے وہ یا تو کوئی گالی ہوتی ہے یا پھر اس سے ملتی جلتی کوئی اقوال شیریں۔ بھئی اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں مگر یہ کیا کہ ایک عادت ہی بنا لی جائے قانون اور اس سے متعلقہ اداروں کو برا بھلا کہنے کی۔ اور وہ بھی من حیث القوم۔  بہت سوں کو میری بات غلط لگ رہی ہوگی مگر آزما لیں کہ ایسا ہی ہے۔ ہم میں سے تمام یا اکثر قانون کو ایک بے مقصد کی ٹن ٹن اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ یا پھر ایک ایسی چیز جس کا اطلاق صرف لوگوں پر ہوتا ہے اور لوگوں میں ہم اپنا شمار یقینا نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر ایک ٹریفک سگنل پر جب ایک لال بتی جلتی ہے تو ہم میں سے کتنے لوگ اس پر بخوشی عمل کرتے ہیں؟ یا کچھ سیاپا نما احساس سے دو چار نہیں ہوتے؟ کتنے لوگ ہیں جو بخوشی اپنے گھر کا بل جمع کروانے کے لئے قطار میں لگنا قبول کرتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو ناکے پر کھڑے سپاہی یا پھر ٹریفک سگنل پر کھڑے وارڈن (جو کہ کڑکتی دھوپ، ٹھٹھرتی سردی یا پھر آندھی و طوفان میں کھڑے رہتے ہیں) ان کو دعا دیتے ہیں، یا پھر ایک مسکراہٹ سے نوازتے ہیں، یا پھر ان کے لئے دل میں ایک خوشگوار احساس محسوس کرتے ہیں، اور بخوشی ان کے کہنے پر رکتے ہیں اور ان کو کو ان کی ڈیوٹی سرانجام دینے دیتے ہیں؟ شاید صفر یا پھر ایک آدھ! اور یہ حال عائلی قوانین سے لے کر کمرشل قوانین تک ایک سا ہے۔ یعنی قانون مردہ، بے جان و بے مقصد الفاظ پر مبنی ایک بو توقیر و بے عزت کاغذ کا ٹکڑا۔

مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ قانون جس کا مقصد آئین فطرت اور نیچرل جسٹس کو یقینی بنانا ہے اس کے ساتھ اس مملکت خداداد میں اتنا برا سلوک کیوں؟ اس سے اتنی بدگمانی اور لا تعلقی کیوں؟ اس ملک کا ہر شہری قانون سے متنفر کیوں؟ اس کی کچھ وجوہات جو میرے محدود تجربے ومشاہدے کا نچوڑ ہیں مختصرا سپرد قرطاس ہیں۔

سب سے پہلی اور اہم بات جو کسی ایک قانون کو معتبر بناتی ہے وہ ہے عوام کا اس کے مقصد و تفصیلات سے آگاہ ہونا۔ جس کا براہ راست نتیجہ احساس ملکیت کی صورت میں نکلتا ہے اور عوام اس پر نہ صرف خود عمل کرتے ہیں بلکہ اس عمل میں مددگار بھی ثابت ہوتے ہوئے اس کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس چیز کا فقدان ہے۔ عوام کو قوانین کا علم ہی نہیں ہوتا تفصیلات و مقصد تو کجا۔ لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ کیونکہ ایمان بالغیب تو خدا کی ذات پر ہی لایا جا سکتا ہے۔

دوسری اہم وجہ قانون سازی میں عوامی رائے کی شمولیت کا فقدان ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو دیکھ لیجے وہاں قانون سازی سے پہلے براہ راست یا پھر (اگر عوام کی اس قانون کی پچیدگیوں کو سمجھنے کی اہلیت میں شک ہو تو) معاشرے کے پڑھے لکھے افراد جن میں سماجی کارکن، وکلاء، صحافی، اساتذہ اور دیگر ماہرین شامل ہیں اور نوجوان طبقے سے ریفرنڈم، سیمنار، سروے، مباحثے، کانفرنسسز، یا پھر براہ راست آراء و مسودہ جات کی صورت میں لے لی جاتی ہے۔ جن میں قانون کی ضرورت، مقصد، عوامی جھکاؤ، علاقائی و ملکی صورت حال و ضروریات، سیاسی و معاشرتی صورتحال و رحجانات وغیرہ کے زیر و زبر پر بحث کی جاتی ہے۔ اور اس سب کو زیر نظر رکھتے ہوئے قانون کامتوقع مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔ اوراس مجوزہ مسودے پر پھر سے یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی تو اس عمل میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔  تب جا کے سامنے آتا ہے ایک ماسٹر پیس۔ او ر عوامی ضروریات کا آئینہ دار قانون۔ اس کی مثال مجموعہ فوجداری قوانین یعنی تعزیرات پاکستان(PPC)ہے جس کامسودہ تیار کرنے میں ستائیس سال لگے۔ یا پھر ضابطہ فوجداری قوانین (CrPC)کو لے لیجیے۔  اسی سال تک اس پر کام ہوتا رہا جگہ جگہ سروے ٹیمیں گئیں اور تب جا کے یہ قانون بنایا انگریز نے۔ جو ہمیں تھالی میں رکھا مل گیا اور جوں کا توں چل رہا ہے سوائے چند ایک ترامیم کے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی شقیں ہیں جو قابل منسوخی یا پھر ترمیم ہیں مگر کرے کون؟

ستم ظریفی یہ ہے کہ عوام تو دور کی بات پارلیمینٹ میں بیٹھے عوامی نمائندے جن کا اولین فرض ہی قانون سازی ہے ا ن کی رائے لینا تو درکنار ان سے مسودہ تک shareنہیں کیا جاتا اور مطلوبہ قانون حسب ہدایات نا دیدہ ہاتھ، چند لوگ تیار کر کے یا پھر کاپی پیسٹ کر کے پیش کر دیتے ہیں جو کہ پاس بھی کروا لیا جاتا ہے۔ اوران نام نہاد عوامی نمائندوں کو بھی قانون پاس ہونے کے بعد پتا چلتا ہے کہ انھوں نے کیا پاس کیا۔ اس کی حالیہ مثال الیکشن بل 2017اور ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کا معاملہ ہے۔ آخر یہ عوامی نمائندے اتنے غیر اہم و غیر ذمہ دار کیوں؟ اور پارٹی ہدایات و منشاء اتنی طاقتور کیوں؟ اس پر میرا ایک تفصیلی کالم (پارٹی گردی کے نام سے)شائع ہوچکا ہے۔ مذید تفصیلات کے لیے فیس بک پیج وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک اضافی وجہ ان نمائندوں کی نا اہلی اور قانون کی سوجھ بوجھ کا فقدان بھی ہے۔ اور قصور ہمارا اپنا بھی ہے جو ان نا اہل لوگوں کو ملک اور صوبے کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے میں اپنے حقوق کاجنازہ نکالنے اور اس پر مون ورت رکھنے کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتے ہیں۔

قانون کی اس بے توقیری کی تیسری اور وآخری وجہ قانون کا عوام دوست نا ہوناہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا کہ قانون کا مقصد اس فطری انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے جو خدائے بزرگ بر تر کی طرف سے وضع کیا گیاہے اور جس کا ذکر مختلف الہامی کتابوں میں آیا ہیاور جو سب انسانوں کے لئے ایک ہی ہے۔ مگر جب قانون کا مقصد و مدعا ان فطری تقاضوں کے حصول کے برعکس کسی زمینی خدا کی مرضی و منشا ہوتا ہے تو قانون بے توقیر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ انسان دوست نہیں رہتا جبکۃ خدا کا قانون یا آئین فطرت اور نیچرل جسٹس کا خمیر ہی انسان دوستی ہے۔ اور اس سلسلے میں ہر علاقے کی اپنی صورتحال ہوتی ہے اور متعلقہ قانون میں اس بات کا خیال رکھا جانا ازحد ضروری ہے۔ مگر پاکستان میں آئین سازوں میں شاید عقل و فراست کی کمی ہے یا پھر دیگرنا قابل فہم وجوہات کی بناپراکثر دیگر ممالک کے پہلے سے تیار شدہ قوانین کو کاپی پیسٹ کر لیا جاتا ہے۔ اور معمولی تبدیلیوں کے بعد لاگو کر دیا یاجاتا ہے۔ چل سو چل۔ اب آپ خود ہی سوچیے کے ایک قانون جو جرمنی کے لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ہو اگر اسے پاکستان میں لاگو کر دیا جائے تو کیا ہوگا؟

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ دنیا کے زیادہ تر پارلیمنٹس میں مختلف شعبہ جات میں قانون سازی کی ضرورت پر تحقیقی ٹیم موجود ہے جس میں اعلی درجے کا قانون دان اور محقق بھرتی کیے جاتے ہیں۔ جو سارا سال صرف یہی کام کرتے ہیں۔ امریکی کانگرس میں یہ تعداد آٹھ ہزاراور انڈین راجیہ سبھا میں اٹھائیس سو کے قریب ہے۔ مگر پاکستان میں دوسروں کے مسودوں پر کام چلا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے قانون کی نا معتبری کی۔ جب قانون عوام کو اپیل ہی کرتا ہے تو وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور اس کی عزت بھی۔ مثال کے طور پر ون ڈش والا قانون۔ اور لکھی پڑھی بات ہے کہ عوام کی اکثریت اگر قانون شکنی پر اتر آئے تو یہ چند ادارے اور ان مٹھی بھرکے اہلکار اس پر کسی صورت عمل نہیں کروا سکتے۔ کیونکہ طاقت کا استعمال سینکڑوں یا پھر ہزاروں کے خلاف توشاید ممکن ہو مگر جب یہ تعداد لاکھوں یا کروڑوں چلی جائے ایسی صورتحال کوکنٹرول کرنا ممکن نہیں رہتا۔ تلہٰذا ضروری ہے کہ قانون عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہو، عوام اس اس کی تفصیلات و مقاصد سے بخوبی آگاہ ہوں کا اور ہر ممکن حد تک قانون سازی سے پہلے اور آخر میں یعنی اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ رائے عامہ ہموار کر لی جائے(یہ گیارہ گیارہ والی بات اذراہ مذاق کی گئی ہے سنجیدہ لینے والے نتائج کے ذمہ دار خود ہیں) تو عین ممکن ہے وطن عزیز میں قانون کا شمار صاحب عزت ہستیوں میں ہونے لگے۔

Facebook Comments HS