عمر کوٹ کا قلعہ اپنے ہی محافظوں کے حملے کی زد میں


سندھ کے وزیر ثقافت سردار شاہ صاحب پی ایس عمر کوٹ سے میمبر صوبائی اسمبلی سندھ ہیں۔ اسی شہر میں تاریخی قلعہ اور دیگر عمارتیں موجود ہیں جن کی دیکھ بھال اور حفاظت محکمہ ثقافت کی ذمیواری ہے۔ مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔

اس تحریر کے ساتھ ملحقہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ، پیپلز پارٹی کے عمر کوٹ میں جلسہ کے پینا فلیکس کس بےدردی کے ساتھ اس تاریخی قلعہ کی دیواروں میں گاڑے گئے ہیں اور وزیر ثقافت سندھ سردار شاہ صاحب کی تصویر والا پینا فلیکس سب سے بڑا ہے۔

عمر کوٹ سندھ کے تھر کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس میں قائم قلعہ ہندوستان کے مغل بادشاہ جلا الدین اکبر کی جاء پیدائش ہے، شیرخان سوری نے 1540ء میں ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور شیر خان سے شیر شاہ بن گیا تھا اور افغانوں نے اسے اپنا متفقہ بادشاہ تسلیم کرلیا تھا۔
وہاں سے بھاگ کر ہمایوں نے لاہور کی راہ لی مگر افغان فوج نے اسے یہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔
وہ ملتان جا پہنچا مگرہمایوں کو وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔

وہ سندھ میں عمر کوٹ پہنچا جہاں کے راجہ نے اسے خوش آمدید کہا۔ یہاں شاہی قلعہ میں اکبر کی ولادت ہوئی۔ جو آگے چل کر ہندوستان کا شہنشاہ بنا اور ہندوستان پر تقریباً پچاس سال حکومت کی۔
دو دن پہلے اس قلعہ کو پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ نے پینا فلیکس پوسٹرس کی مدد سے فتع کر لیا اور اس قلعہ کے تحفظ کا ذمیوار محکمہ ثقافت سندھ اس شاندار کام پر نہ صرف خاموش رہا بلکہ وزیرثقافت سندھ سردار شاہ صاحب اپنے ہی حلقے میں اس تاریخی قلعہ کا حشر نشر اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔

دنیا کے دوسرے ملکوں میں تاریخی عمارت پر کوئی ایک کِیل تو ٹھونک کے دکھائے؟ مگر سندھ اپنی تاریخ کے ایسے کرپٹ ترین دور سے گزر رہا ہے کہ جہاں ہیپاٹائیٹس کے مریضوں کی دوائیوں تک کو نہیں بخشا جاتا۔ اسپتالیں، اسکول، چھوٹے بڑے روڈ، ثقافتی عمارتیں، سیاحتی مقامات ہر چیز کرپشن اور لوٹ مار کا شکار ہے۔

ایسے میں کسی کو کیا پریشانی اگر عمرکوٹ کے پتھروں سے بنے قلعہ کی دیواریں ٹوٹیں؟ ان کو تو اپنے فوٹوں والے بینر لگا کر حکمرانوں سے کوئی ٹھیکہ، کوئی کمائی والی پوسٹنگ، پلاٹ لینا ہے۔
مجھے حیرت سندھ کے ان سوڈو دانشوروں اور صحافیوں پر ہو رہی ہے جو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر اپنی علمی اور قلمی ایمانداری بھی بھول چکے ہیں اور سندھ کی تاریخی ورثہ کی اس کھلم کھلا تباہی پر بھی خاموش ہیں۔

Facebook Comments HS