بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی


​ایک کام کیجئے، اپنے آس پاس کسی مدرسہ میں جاکر کسی مولوی صاحب یا محلہ کی مسجد کے امام صاحب سے معلوم کیجئے کہ مسلمان عورت کے کتنے حقوق ہیں؟ میں نجومی تو نہیں لیکن بتا سکتا ہوں کہ آپ کو کیا جواب ملے گا۔ مولوی یا امام صاحب کے جواب کا نچوڑ یہ ہوگا کہ مسلمان خواتین کو برابری کا درجہ حاصل ہے اور اس کو مردوں کے مساوی حقوق ملے ہوئے ہیں۔ اب اس بات کو ذہن میں رکھ کر میرے مضمون کو آگے پڑھئے۔

اسلام نے شادی کو ایک کانٹریکٹ یا سمجھوتہ قرار دیا ہے جس کے تحت مرد اور عورت باہمی رضامندی سے گواہان کی موجودگی میں ازدواجی بندھن میں بندھتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک کانٹریکٹ ہے اس لئے نباہ نہ ہونے کی صورت میں اسلام نے طلاق کا ایک دروازہ کھول رکھا ہے جس کے ذریعہ اس رشتہ سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ دونوں رشتہ ازدواج میں ہیں تب تک دونوں کی انفرادی آزادی کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ ان سب کے باوجود ہمارے کچھ مفتیان کی نظر میں عورت کی اوقات کیا ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

دارالعلوم دیوبند کے آن لائن درالافتا سے سوال نمبر 5314 میں ایک صاحب نے پوچھا کہ اگر بیوی شوہر کے ساتھ سونے سے انکار کرے اور تھکاوٹ کا بہانہ کرے، اور کہے کہ ہم کل کریں گے۔ اگر شوہر اس کومجبور کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ اگر تم میری مرضی کے بغیر کرو گے تو یہ زنا بالجبر ہوگا۔ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے اور شوہر کیا کرے؟

اس سوال کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیے۔ فتوے کے مطابق بیوی کا شوہر کے ساتھ سونے سے انکار کرنا اور جب ہمبستری کے لیے بلائے تو جماع کے تحمل کی طاقت کے باوجود ٹال مٹول کرنا جائز نہیں، بیوی کی بات غلط ہے، اپنی منکوحہ سے جماع زنا نہیں خواہ بالجبر ہی کیوں نہ ہو۔

اس فتوے کو ایک بار پھر سے پڑھئے اور بتائیے کہ کیا مفتی صاحب صاف صاف یہ نہیں فرما رہے ہیں کہ بیوی مرد کے لئے جنسی خواہش پورا کرنے والی ایک کنیز کی حیثیت رکھتی ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی شوہر بلائے وہ اس کے حضور خود کو پیش کر دے، شوہر بھلے ہی مہینہ بھر سے نہایا نہ ہو اور اس کے جسم سے نکلنے والی بو سے قے آ رہی ہو، یا پھر بیوی کو واقعی تھکن ہو رہی ہو، نیند سے بدن ٹوٹ رہا ہو تب بھی اس کو بلا چوں چرا کیے خود کے ساتھ جنسی عمل ہونے دینا پڑے گا۔ فتوے کا آخری جملہ پڑھئے اور بتائیے کہ کیا مفتی صاحب شوہروں کو صاف صاف بیوی کے بالجبر ریپ پر نہیں اکسا رہے ہیں؟ مفتی صاحبان اعتراض کریں اس سے پہلے عرض کر دوں کہ ریپ ہر وہ جنسی عمل ہے جس میں کسی ایک فریق کی رضامندی شامل نہ ہو۔ مفتی صاحب اگر عورت کو بیوی کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی سمجھتے تو شاید اتنی آسانی سے یہ حکم لگا کر نہ نکل جاتے کہ مرد اپنی بیوی سے بالجبر جنسی تعلق بنا سکتا ہے با الفاظ دیگر اس کا ریپ کر سکتا ہے۔

اس فتوے کو پڑھ کر تسلی نہ ہوئی ہو تو ایک اور فتویٰ سن لیجیے۔ سوال نمبر 153162 میں پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص کی بیوی اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا کہتی ہے اور وہ شخص بغیر کسی عذر کے انکار کر دے تو کیا وو شخص گناہگار ہوگا؟ پہلے والے فتوے کے معیار کو سامنے رکھیں تو یہی لگے گا کہ مفتی صاحب اسی شدت سے مرد کے عمل کو بھی ناجائز قرار دیں گے جیسا شوہر کی خواہش پر صحبت سے انکار کرنے والی بیوی کے لئے حکم دیا گیا تھا، لیکن فتویٰ دیکھئے اور مفتی صاحب کی نظر میں مرد اور عورت کی تفریق سمجھ لیجیے۔ اس مرتبہ فتویٰ صادر ہوتا ہے کہ اگر شوہر بیوی کے تقاضے پر نیند یا تھکن کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا اگرچہ بیوی سے صحبت کیے ہوئے کئی دن بھی گزر چکے ہوں۔

اس فتوے نے ایک بات اور واضح کر دی اور وہ یہ کہ عورت نہ صرف یہ کہ جنسی عمل کے لئے استعمال ہونے والی ایک شئے سے زیادہ کچھ نہیں ہے ساتھ ہی اس کے اپنے جذبات یا خواہشات کی تکمیل کرنا نہ کرنا بھی شوہر کی مرضی پر منحصر ہے وہ چاہے تو اسے نواز دے چاہے دھتکار دے، لیکن دن بھر چولہا چکی سے تھکی پٹی عورت کو اگر آدھی رات کو شوہر جگا کر خواہش کے لئے حکم دے تو اس کو فورا اس کے لئے حامی بھرنی ہے ورنہ شوہر اس کے ساتھ ریپ کرنے کا شرعی حق رکھتا ہے۔

اب ایک اور پہلو پر غور کیجئے، میں اپنے ایک پچھلے مضمون میں عرض کر چکا ہوں کہ شادی چونکہ کنٹریکٹ ہے اس لئے اس میں دونوں فریقین کو اختیار ملتے ہیں لیکن مفتیان کی نظر میں عورت کے اختیار کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ سوال نمبر 154006 میں معلوم کیا گیا کہ اسلام میں لڑکی کن کن وجوہات سے شوہر سے طلاق مانگ سکتی ہے؟ اس کے جواب میں فاضل مفتی صاحب کا شرائط بھرا فتویٰ دیکھئے۔ فتوے میں کہا گیا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہ دے یا حقوق زوجیت ادا نہ کرے، حد سے زیادہ مارے پیٹے، بدن کو زخمی کردے۔ غرض بالکل بہیمانہ حرکت کرنے لگے اور بر داشت سے باہر ہو جائے، لوگوں کے سمجھانے سے بھی باز نہ آئے، اور نبھاوٴ دشوار ہو جائے تو بیوی کو ایسی حالت میں طلاق مانگنے کا حق حاصل ہے۔

اس فتوے میں درج شرائط کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو مہینہ میں دو ایک بار خرچہ دے دے، حد سے زیادہ نہ مارے تھوڑا تھوڑا مارتا رہے، اتنا پیٹے کہ خون نہ نکلے البتہ اندرونی چوٹ ضرور لگ جائے۔ ایسی حالت میں بیوی اپنے شوہر سے طلاق مانگنے کا حق نہیں رکھتی۔

مفتی صاحب نے مار کھانے اور زیادتیاں برداشت کرنے کے باوجود بیوی کے اس جہنم سے نکلنے کا راستہ تو بہت سی شرائط کے قفل لگا کر بند کر دیا لیکن ابھی بھی انہیں شاید قرار نہیں آیا۔ اگر کسی طرح کسی بیوی کو طلاق مل گئی اور اس کی جان چھوٹ گئی تو مفتی صاحب کے مطابق اس کا شوہر جب چاہے دوبارہ اس سے رجوع کر سکتا ہے بھلے ہی وہ لڑکی اور اس کے ماں باپ لاکھ انکار کریں۔

سوال نمبر 3661میں کسی نے یہی پوچھا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس کے گھر والے اسے لے گئے، تھوڑے دنوں بعد میں نے اس سے رجوع کا ارادہ کیا لیکن لڑکی اور اس کے گھر والوں نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے ایک خط میں لکھ کر انہیں بھیج دیا کہ میں نے رجوع کر لیا ہے، لیکن اس کے گھر والے اور وہ لڑکی واپسی پر راضی نہیں ہیں کیا میرا رجوع ہو گیا؟
اس کے جواب میں دیوبند کے فاضل مفتی صاحب کا ارشاد ہوا کہ اگر عدت کے اندر تحریری طور پر آپ نے دو گواہوں کے سامنے رجوع کرلیا ہے تو آپ کی یہ رجعت صحیح ہوگئی خواہ بیوی اور اس کے میکے والے راضی ہوں یا نہ ہوں۔ اس فتوے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت دوبارہ آپ کی بیوی بن گئی بھلے ہی وہ بیوی بننے پر آمادہ نہ ہو۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ اگر اس طرح شوہر کو جب چاہے بیوی کو وجہ بے وجہ طلاق دینے اور جب چاہے رجوع کا کاغذ بھیج کر اس کو بیوی بنا لینے کا اختیار ہے تو اس میں عورت نامی شئے کا کیا اختیار اور آزادی رہ گئی؟ دوسرے لفظوں میں تو شادی کے بعد وہ آپ کی زرخرید باندی ہی ہوئی نا؟

جب کبھی سوال اٹھتا ہے کہ مسلمان عورت کو طلاق کا حق کیوں نہیں ہے تو مولوی مفتی فورا لہک کر کہتے ہیں کہ اس کو خلع مانگنے کا حق حاصل ہے۔ اب اس خلع کی مفتی صاحب کی نظر میں کیا حیثیت ہے اس کے لئے سوال نمبر 155344 دیکھئے، جس میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کے بھائی کی دو شادیوں کی ناکامی دیکھ کر ان منکوحہ بیوی جن کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے وہ ان سے خلع مانگ رہی ہیں، کیا بیوی کا یہ مطالبہ جائز ہے؟ سوال کے جواب میں دیے گئے فتوے کے مطابق آپ کی منکوحہ بیوی کا ابھی سے خلع کا مطالبہ کرنا جب کہ ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی ہے، اور آپ (شوہر) کی جانب سے کوئی قصور اور تعنت سامنے نہیں آیا ہے، یہ ہرگز درست نہیں ہے بیوی کو خلع کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔

مان لیجیے کہ سوال کرنے والے کا واقعی کوئی قصور ثابت نہیں ہوا لیکن کیا لڑکی اور اس کے والدین کا یہ حق چھین لیا جائے گا کہ وہ مستقبل کے تحفظات کے پیش نظر شادی ختم کر دیں؟ اگر انہیں یہ حق نہیں ہے تو یہ خلع کیا چولہے میں رکھنے کے لئے ہے جس میں آخرکار مرد کی ہی مرضی ہے کہ چاہے تو درخواست قبول کرکے طلاق دے دے ورنہ سسرال والوں اور بیوی کو طلاق کی منت کراتے کراتے ایڑیاں رگڑوا دے۔

اسے منافقت ہی تو کہا جائے گا کہ جب کبھی کہنے کی بات آئے تو ہم کہہ دیں کہ ہمارے یہاں خواتین کو شادی کا حق دیا گیا ہے لیکن اصل میں ہم عورت کو خریدی ہوئی باندی یا لونڈی سے زیادہ حیثیت اور اختیار دینے پر آمادہ نہیں۔ سوال نمبر 154384میں ایک صاحب نے پوچھا کہ جب نکاح ہوا ایک وکیل اور دو گواہ کی موجودگی میں تو دونوں کی اجازت اور ان کی رضامندی سے نکاح ہوا، اب وہ مرد کیسے اکیلا ہی ظلم کرنے کے بعد کیسے بغیر گواہ اور وکیل کے اور بغیر مشورہ کے کیسے طلاق دے سکتا ہے؟ جب کہ ساری خطا اس مرد کی ہے اور عورت کی کوئی خطا نہیں ہے؟ اس کے جواب میں جاری فتوے میں کہا گیا کہ نکاح سے پہلے لڑکے لڑکی دونوں با اختیار تھے لیکن جب ایجاب و قبول کے ذریعہ دونوں رشتہ نکاح میں بندھ گئے تو اللہ تعالی نے نکاح کی ڈور مرد کے ہاتھ میں دے دی اب اسے رکھنے ختم کرنے کا اختیار مرد کو حاصل ہوگیا۔

میں اس بحث میں پڑتا ہی نہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے مندرجہ بالا فتاویٰ کس کس روایت سے ثابت ہیں؟ میری گزارش بس اتنی سی ہے کہ آئندہ جب کبھی عورتوں کے حقوق کا ذکر چلے تو مفتیان اور مولوی صاحبان ادھر ادھر کی ڈینگیں ہانکنے کے بجائے صاف صاف کہیں کہ ہم بیوی کے ساتھ زبردستی ریپ کو جائز مانتے ہیں، ہم بیوی کو مارنے پیٹنے کو جائز مانتے ہیں، ہم بیوی کو جب چاہے بنا کسی وجہ کھڑے کھڑے طلاق دے کر بھگا دینے کے لئے مرد کو آزاد مانتے ہیں، ہم بیوی کو طلاق مانگنے کا حق نہیں دیتے اور ہم بیوی کو جنسی غلام سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں دیتے؟ ہماری نظر میں عورت کو برابری کے حقوق اور باعزت زندگی کی ضمانت کا یہی مطلب ہے۔

بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی۔۔۔ایک وضاحت

Facebook Comments HS

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter