عورتوں کے اعضا اور غیرت کی بیماری


توں میری دھی کو سٹ مراونا چاہندا ایں’ ۔ دو سال پہلے چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی، اس کا شوہر اسے دو مختلف ہسپتالوں میں لے کر گیا انہوں نے آپریشن کا مشورہ ہی دیا، لیکن اس لڑکی کی ماں کے یہی الفاظ تھے ، اسے علاقے کے مشہور اتائی پہ اتنا بھروسہ تھا کہ میں اسے سمجھا رہی تھی کسی بڑے ہسپتال لے جائیں اور وہ کہتی تھی بس یہ زخم ہے اس کی پٹی ہوتی رہے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔ جتنی بار بھی اس کے داماد اور میں نے آپریشن کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی اس خاتون نے یہی الفاظ دہرائے اور بضد رہی کہ اسے ہسپتال سے اٹھا کر گھر لے چلو اس کی پٹی ہو گی زخم ٹھیک ہو جائے گا۔ سینئر ڈاکٹرز نے بھی انہیں یہی سمجھایا کہ اگر آپ اپنی بیوی سے واقعی محبت کرتے ہیں اور ان کی زندگی پیاری ہے تو اسے لے جائیں اور آپریشن کروا دیں۔

کچھ سال پہلے ایک خاتون آئی تھیں، انہیں کچھ عرصہ چھاتی سے سفید سا پانی بہتا محسوس ہوتا رہا مگر اب جبکہ بچے بڑے ہو گئے ایسا کیوں ہے وہ روایتی جھجک کے باعث یہ بات اپنے میاں سے نہ کہہ سکیں، یہ سلسلہ ایک سال تک نہ تھما تو آخر انہوں نے ہمت کر کے میاں سے بات کی، میاں حکیم تھے، ڈیڑھ سال انہیں پھکیاں کھلاتے رہے۔ اس بیچ انہوں نے گلٹی محسوس کی تو جواب ملا دواؤں کا اثر ہے۔ آخر پندرہ دن میں حالت اتنی خراب ہوئی کہ ان کی بیٹی زبردستی شہر کے بڑے ہسپتال لے گئی اور وہاں تشخیص ہوئی کہ انہیں کینسر ہے۔ ان کی چھاتی کا زخم، اس سے بہتی پیپ اور اس عورت کے آنسو مجھے اب یاد آئے جب پچھلے ہفتے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی کو لے کر آئے، اس کے گھر والے بھی کچھ ماہ سے ہزاروں روپے دم کرانے اور پھکی پہ لگا چکے تھے اور اب ہسپتال آئے تھے ۔

ہم ابھی ری کنسٹرکشن پروسیجرز پہ کیا غور کریں، سچ یہ ہے کہ ہمیں ابھی بہت سال کوشش کرنا ہو گی کہ خواتین ایسے مسائل کو شرمندگی کا باعث نہ سمجھیں اور ان پہ بات کر سکیں، بروقت تشخیص ہو تاکہ بہتر علاج ممکن ہو سکے۔ بڑے شہر میں رہنا، وسائل کا میسر ہونا، مختلف امراض سے متعلق آگاہ ہونا ، شعور اور علاج کی بہتر سہولت ایک نعمت ہے جس سے ابھی اکثریت ناواقف ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے والے، ہر پندرہویں دن الٹراساونڈ کرانے جانے والے اس بات پہ پریشان ہیں کہ بچہ ایمبولینس میں پیدا ہو گیا،اگر وہ اس شعبے سے متعلق ہو جہاں کبھی ہسپتال یا کلینک کے دروازے پہ رکشہ دھویا جا رہا ہو، گاڑی سروس ہو رہی ہو، ہسپتال کی راہداری دھل رہی ہو کہ جی بچے کی پیدائش یہیں ہو گئی تو پھر وہ کون سا آسمان سر پہ اٹھائیں گے۔ کچھ دن پہلے ہی خاتون کو لائے کہ بچہ تو گھر پہ پیدا ہو گیا بس آنول نہیں نکلی تو اس لیے لانا پڑا۔ یہ مثال دینے کا مقصد کسی کی غفلت یا لاپرواہی پر پردہ ڈالنا نہیں لیکن جس طرح حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر یا جان بوجھ کر پوری صورت حال کا جائزہ نہیں لیا جاتا اور سارا دن مجرمانہ غفلت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے وہاں آپ کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا مگر اپنی لاپرواہی کو بھلا کر طبی عملے کے ساتھ مار پیٹ روز کا معمول ہے، کیونکہ خواتین برابری کے حقوق مانگتی ہیں تو اب وومن میڈیکل آفیسرز بھی مار کھا رہی ہیں۔ کل بھی ایک خاتون ایسی ہی حالت میں پہنچی کہ اگر ایک منٹ اور راستے میں لگتا تو وہ ہسپتال کے دروازے پہ ڈلیور ہو جاتی۔ ایسی صورتحال میں چھاتی کے سرطان پہ کتنی توجہ دی جاتی ہے اور اس سے متعلق مسائل کو لے کر معاشرے میں شعور کی سطح کیا ہے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کچھ لوگ بیماری سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں، ہمارے ایک پروفیسر کہتے تھے بیماری سے لڑتے نہیں ہیں، اس کا علاج کرتے ہیں۔

ابھی بھی بہت سے گھروں میں خواتین اپنی بچیوں سے ماہواری سے متعلق بات کرنے سے ہچکچاتی ہیں، کچھ دن پہلے بھی ایک دس سال کی بچی کو بٹھا کر یہ سمجھانا پڑا کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے اور آپ کو اس کی وجہ سے شرمندہ ہونے یا سکول سے چھٹی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی بات ہمیں باقی خواتین کو بھی سمجھانی ہے کہ چھاتی بھی جسم کا حصہ ہے، جیسے جسم کا کوئی دوسرا عضو بیماری کا شکار ہو سکتا ہے ویسے ہی چھاتی۔ کوئی گلٹی ہو، سوجن ہو، نپل سے خون یا پانی بہنے لگے، اوپری جلد میں کوئی خرابی محسوس ہو، درد رہے کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ ہو تو اسے سنجیدہ لیں اور ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ کسی قسم کی تاخیر کے بغیر معاملے کی نوعیت کا پتہ لگایا جا سکے، وقتا فوقتا چھاتی کا خود معائنہ کریں، والدہ، خالہ ، نانی یا بہن کو چھاتی کا کینسر ہو یا کسی کا انتقال اسی کینسر کے باعث ہوا تو خود پر معمول سے زیادہ توجہ دیں۔ کسی بھی قسم کی معمولی سی تبدیلی بھی محسوس کریں تو ہسپتال ضرور جائیں تاکہ بروقت تشخیص ہو اور بہتر علاج ممکن ہو سکے۔انجلینا جولی بی آر سی اے ون جینز کی موجودگی اور اپنی نانی، والدہ کے چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کے باعث کچھ سرجریز کرا چکی ہیں، سب لوگوں کے پاس اتنے وسائل تو نہیں ہیں کہ وہ اسی نوعیت کا ہر آپریشن کرا سکیں کیا اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ اپنا خیال رکھیں اور کسی مسئلے کی صورت میں توہمات سے نکل کر کسی قسم کی شرمندگی کے بغیر بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ زندگی اہم ہے، صحت مند زندگی جینا اس سے بھی اہم ہے۔

Facebook Comments HS