تحریک انصاف میں لیاقت کی کمی نہ رہی

گزرے برسوں میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے بارے میں کراچی کے ایک بھائی نے بتایا تھا کہ ان کی ریپوٹیشن یہ ہے کہ وہ بھی ابن صفی کے کردار علی عمران کی طرح اندھیرے میں آواز پر نشانہ لگا سکتے ہیں۔ ان کے عقیدت آمیز بیان سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ بھائی علی عمران سے زیادہ متاثر تھے یا ڈاکٹر صاحب سے۔ ہم نے بے یقینی کے عالم میں یہ بات سنی تھی۔ ڈاکٹر صاحب جیسے نرم زبان خوش گو عالم کے بارے میں یہ گمان تک نہ ہوتا تھا کہ وہ آتشیں ہتھیار ہاتھ میں تھام سکتے ہوں گے۔ لیکن آج یہ تصویر دیکھنے کو ملی جس میں ڈاکٹر صاحب کمانڈو یونیفارم زیب تن کیے، سینے پر بلٹ پروف جیکٹ چڑھائے اور آٹومیٹک ہتھیار ہاتھ میں اٹھائے یلغار کو تیار کھڑے ہیں۔ اب اس تصویر کو دیکھ کر ہمیں ان کراچی والے بھائی کی بات پر کچھ کچھ یقین آنے لگا ہے۔
تحریک انصاف ویسے تو ہر معاملے میں زرخیر ہے۔ بڑا بڑا دانشور، صحافی، زمیندار اور انٹلیکچوئل اس کی لیڈر شپ میں موجود ہے لیکن مفتی عبدالقوی کے قندیل بلوچ کے معاملے کی زد میں آنے کے بعد تحریک میں کوئی بڑے قد کاٹھ کا عالم موجود نہ رہا تھا۔ دوسری کمی یہ تھی کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں اسلحہ چلانے والے ماہرین بھی نہیں تھے۔ عمران خان صاحب غالباً بندوق وغیرہ تو چلا لیتے ہیں کہ ان کے سیر و شکار کی تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، مگر بارہ بور کی بندوق سے مرغابی مارنا ایک بات ہے اور باقاعدہ ایک ماہر کمانڈو کی سی پھرتی اور تربیت سے آٹومیٹک ہتھیار چلانا دوسری بات ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب کی شمولیت سے تحریک انصاف میں یہ کمی بھی دور ہو گئی ہے۔ یعنی یک نہ شد، دو شد کا معاملہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی تحریک میں آمد کے بعد تحریک انصاف کے پاس کئی آپشن آ گئے ہیں۔ وہ بھی اپنا عسکری ونگ بنا سکتی ہے۔ باقی سبھی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے پاس اپنا اپنا عسکری ونگ ہے تو تحریک انصاف کے پاس بھی ہونا چاہیے۔ خاص طور پر کراچی میں تو عسکری ونگ کے بغیر سیاست ناممکن ہے۔ کراچی میں تحریک انصاف کی بہت بڑی ووٹر بیس ہونے کے باوجود شرمناک شکستوں کی وجہ ہمیں یہی سمجھ آتی ہے کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں صرف شریف لوگ ہیں اور دوسری جماعتوں کے غنڈے پڑھے لکھے شریف ووٹر کو ڈرا دھمکا کر تحریک کا ووٹ خراب کرتے ہیں۔
یا یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک انصاف اپنی سیکرٹ سروس بنا لے اور ڈاکٹر صاحب کو اس کا چیف مقرر کر دے۔ ایکسٹو وزارت خارجہ کے سیکرٹری سر سلطان کو رپورٹ کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب پیر شاہ محمود قریشی کو رپورٹ کیا کریں گے۔ ذرا چشم تصور کو حرکت میں تو لائیں۔ ڈاکٹر صاحب جیسا ماہر لڑاکا ہو جو عملیات اور وظائف کا بھی ماہر ہو، اور گلے میں اس کے پیر شاہ محمود قریشی کا لکھا ہوا تعویذ موم جامے میں لپٹا چاندی کے خول میں بند بندھا ہو، تو ناکامی کا بھلا کیا امکان رہ جاتا ہے؟ آئندہ جب بھی مسلم لیگ ن دھاندلی یا کرپشن کرنے کا مذموم منصوبہ بنائے گی تو انصاف سیکرٹ سروس اس ڈھول کا پول بیچ چوراہے میں کھول دے گی۔ دوسری سیاسی جماعتوں کی شر انگیزیوں کے توڑ کے علاوہ ہندوستان، افغانستان اور دیگر شریر ہمسایوں کے قلب میں جا کر ڈاکٹر صاحب کی ٹیم اپنا مشن مکمل کرے گی اور کھلی آنکھوں کے باوجود دشمن انہیں دیکھنے سے قاصر رہے گا۔ اڑتی ہوئی ہندوستانی چڑیا کے پر گننا ہو یا نریندر مودی کی آنکھوں سے سرمہ چرانا، سب ممکن ہو جائے گا۔
تحریک انصاف میں ڈاکٹر صاحب کی شمولیت کے بعد اب نہ صرف تحریک انصاف کو بے مثال عروج ملے گا بلکہ پاکستان بھی ایک بڑی طاقت بننے کی راہ پر چل نکلے گا اور صحیح معنوں میں حکیم الامت اور قائد اعظم کے خوابوں کے مطابق اسلام کا قلعہ بن کر دنیا میں اپنی دھاک بٹھائے گا اور ہر دشمن ملک اپنے ائیرپورٹ پر ہم پاکستانیوں کو دیکھ کر سہم سہم جایا کرے گا۔

