تکملہ: مدارس کے طلبہ کا ذہنی لیول


مصنف مفتی محمد توصیف قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں اور حیدر آباد دکن میں رہتے ہیں۔ ان کا تعلق لکھنو سے ہے۔
کچھ دن قبل ایک نام کے ”اصلاحی“ صاحب (محمد علم اللہ اپنے نام کے ساتھ اصلاحی کا لاحقہ نہیں لگاتے ہیں: مدیر) نے مدارس عربیہ کے طلبہ کے ذہانت کا تجزیہ کر کے  ایک رپورٹ تیار کی تھی، جس کے تجربہ کے لئے انہوں نے کسی اور کا نہیں بلکہ اپنے ہی دماغ کا استعمال کیا تھا، یعنی جتنی ان کی ذہنی سطح اور فکری ارتقاء تھا اسی کو بنیاد بنا کر یہ کہہ گزرے کہ اس سے بڑھ کر کچھ مدارس میں ہوتا ہی نہیں۔

موضوع بڑا حساس ہے، جس میں اتنا تنزل نہیں جتنا موصوف بیان کرتے ہیں تو اتنے اطمینان کی صورت بھی نہیں جتنا عام طور پر خیال کیا جاتا ہے، اسی خیال سے مسئلہ کی تقریب و تفہیم کے مد نظر ایک تحریر بندے نے سوشل میڈیا کے سپرد کی تھی، جس میں ایک نہیں متعدد جگہ یہ بات صراحتا بھی اور اشارة بھی درج ہے کہ فی الجملہ جس نوع کے نتائج نکلنے تھے نہیں نکل رہے، امر مستزاد یہ کہ اس میں یہ جملہ بھی لکھ کر معترضین کے ساتھ اپنوں کو بھی دعوت فکر دی کہ ” اسے تردیدی مضمون سمجھنا اس کی حق تلفی ہے“، لیکن خدا رحم ان حضرات کا جنھوں نے میری تحریر سے فقط اتنی باتیں نکال کر جو اس کے ”ذہنی لیول“ کا جواب تھا اس کا جواب لکھ کر یہ تاثر دینا چاہا کہ وہ تحریر ایک بے جا حمایت تھی، خیر مجھے حیرت ذرا بھی نہیں۔

چنانچہ ایک صحافی کی تحریر رونما ہوئی جس میں بندے کی تحریر پر سوالات کی بوچھاڑ کی گئی ہے، اب بھی جواب سے غرض ان حضرات کو خاموش کرانا نہیں، معترضین کو ہمارے اکابر اپنا محسن گردانتے تھے جن سے اپنی واقعی اغلاط پر غور اور مکرر غور کا جذبہ ملتا ہے، بلکہ مقصد یہ ہے ان معیار کو تتبع اور تلاش کیا جائے جو واقعی مدارس کے نتائج اور ثمرات میں معین ہیں۔
اپنے دوستوں سے معذرت خواہ ہوں کہ تحریر قدرے مفصل ہوگئی، جس کی وجہ معزز ناقد کا بندے کی عبارات سے غلط مفہوم کا استخراج ہے، لیکن اس درمیان بندے نے اس بات کا لحاظ کیا کہ تردید و جواب کو مقصد اعلی نہ بناکر اس سے ذیل میں موضوع سے منسلک کوئی ذہنی عنوان لگاکر اس پر کلام کیا ہے، اس لئے میں اس تحریر میں بھی کہتے تامل نہیں کہ اسے بھی جوابی سمجھ کر نہ پڑھیں، بلکہ ان افکار و شبہات کے ازالہ پر نظر مرکوز کریں جو طلبہ، مدارس اور نصاب کی بابت عام ہیں۔ واللہ ولی التوفیق

♻ سب سے پہلا سوال بندے کی زبان پر کیا گیا ہے، تو مجھے اعتراف میں ذرا جھجک نہیں کہ میں کوئی ادیب یا لکھاڑ نہیں جس کی اردویت پر داد دی جاسکے، بس اپنی سی کوشش ضرور کرلیتا ہوں۔

♻ جب بندے نے اس بات کی صراحت اپنی تحریر میں کردی کہ میں نے کوئی تنقید نامہ نہیں مرتب کیا تو یہ خالص الزام ٹھہرا کہ میں نے اصلاحی صاحب کی تحریر کو فلاں امر پر محمول کیا، فلاں پر نہیں۔
اور نہ ہی میں نے یہ بات کہی کہ اصلاحی صاحب کا مقصد عصری علوم کا تفوق بیان کرنا تھا۔

♻ ناقد صاحب نے میرے ایک واضح سے استدلال کو کیا خوبصورت انداز میں پلٹنے کی کوشش کی تاہم وہ اسے انجام نہ دے سکے اور خود اس بات کی صراحت کر گئے کہ میں نے کہا کیا؟
میں نے لکھا کہ ذکر اور فکر دونوں صفات کا جامع طبقہ اہل مدارس کا ہے، اور ناقد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے فکر کو بہت محدود کر لیا؟
فکر کی تحدید تو جب تھی کہ میں کہتا کہ نہیں صاحب! صرف مختصر و ہدایہ کا تکرار ہی فکر و تدبر بقیہ کچھ نہیں، فکر کی تو کوئی انتہاء ہی نہیں اس کی ہر ہر تخلیق میں فکر کے ابواب ہیں۔
لطف مزید سنئے ناقد صحافی صاحب اس فکر کا نتیجہ کیا سمجھتے ہیں اور ہم سے کیا مطالبہ کرتے ہیں :

”اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ بتائیے کہ کیا مدارس میں اس حوالہ سے غور وفکر ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو اب تک تسخیر کائنات، خلا نوردی، انسانی جسم میں موجود اسرار و رموز کی عقدہ کشائی اور انسانی زندگی میں آسانی کے لئے کون کون سی ایجادات یا تحقیق مدارس میں ہورہی ہے یا ہوئی ہے؟“ ( انتہی بلفظہ )

جناب نے ایجادات کی تفکیر پر اس تدبر قرآنی کی عبا فٹ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے لئے وہ بنی ہی نہیں، تدبر کا مقصد اعلی معرفت الہیہ ہے، نہ ایجادات و اختراعات، جس نے کوئی تحقیق کی اور ضمنا کوئی چیز وجود میں آئی وہ ضرور قابل صد تعریف ہے، لیکن یہ کہنا کہ قرآن ایجادات و اختراعات کے ثمرات پر منتج تدبر اور تفکر چاہتا ہے بڑی جرات اور دلیری ہے، اس کے جواب دہ وہ عند اللہ خود ہیں کہ منشا خداوندی پر اپنی منشا کا حاشیہ لگانا بہر حال اہل مدارس کے رسائی کے باہر ہے۔

♻جناب من! تخلیق انسانی کا مقصد واحد عبادت ہے، *وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون* بے شمار احادیث دنیا کی بے رغبتی اور سامان زندگی کے اختصار پر تصریح یہ واضح کرتی ہے کہ یہ مادی تخلیقات مقاصد نہیں، اور تفکر کے مطلوبات بھی نہیں، بلکہ ان کا مقصد کمال عرفان ہے جو اللہ کی رضا پر منتہی ہو۔

♻ اہل مدارس کے افکار کیا ہے یہ ان کے پاس آنے سے معلوم ہوگا ان کے زبان و قلم کو دیکھنے سے معلوم ہوگا، بشرطیکہ واقعہ کے اعتراف کی سکت بھی ہو، لیکن جناب کو اتنی بھی خبر نہیں کہ مدارس میں قرآن رٹایا کتنا جاتا ہے اور تدبر کتنا عرصہ کیا جاتا ہے، جیسا انہوں نے بقلم خود درج کیا۔

♻ نیز بندے نے کہا ہے کہ فکر و ذکر کا جامع طبقہ اہل مدارس کا ہے، صرف ذکر میں لگنا جیسے اہل خانقاہ ذکر میں آگے ہیں، فکر میں اتنا زیادہ نہیں، اگرچہ فکر ان میں سرے سے معدوم بھی نہیں، ( اور بندے کے نزدیک موجودہ اہل تبلیغ اسی زمرے میں ہیں ان کے اعمال صالحہ بھی ذکر ہیں جیسا کہ پہلے مضمون میں آیا عبادات ذکر ہی ہیں، اور جس فکر کو وہ فکر سمجھتے ہیں وہ علماء کی رہنمائی میں اور ان کے تفکیر و تدبر کی نقل محض ہے )۔

ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو صرف فکر میں ہے ذکر میں نہیں، وہ وہی لوگ ہیں جو اہل مدارس اور دین داروں کی بے چارگی پر متفکر ہیں، ہم انہیں بھی مفکر مانتے ہیں لیکن ان کا بڑا طبقہ ذکر سے دور ہے، سرے معدوم ذکر ان میں بھی نہیں۔
اسی لئے اسے طبقہ و جماعت کی حیثیت پر مشروط کیا گیا۔

♻ اس کے بعد ناقد صاحب بڑے بھلے انداز میں مجھ سے پوچھا ہے کہ جو ایجادات و اختراعات آج دنیا کو ملے ہیں وہ عموما کفار کے ہیں، جب کہ میں نے لکھا ہے کہ عقل اللہ کے ذکر سے مشروط ہے اور بغیر اس کے بے عقلی اچھی۔

عزیز من! میں نے آیت کریمہ پیش کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے عقل مقبول کون سی ہے، یعنی معیار عند اللہ قبولیت ہے، اگر ایک دہقاں عند اللہ مقبول ہے دوسرا اعلی درجہ ذہانت و فطانت کا حامل مگر عند اللہ مردود، اب ظاہر ہے کم عقل یا بے عقل ہو کر بھی وہ کامیاب ہے اور دوسرا عقل رکھ کر بھی ناکام، اور مولویت کے آغاز کے بعد ارتقاء سے ہوتے انجام و نتیجہ تک یہی ذہنیت کا فرق ہے جو اہل مدارس کے اذہان و افکار کو دوسروں سے جدا کرتا ہے، اور دوسرے اس فرق کو سمجھے بغیر ان سے الجھاکیے ہیں۔

نیز میں نے صرف معیار ہی لکھا یہ بھی نہیں کہا کہ کون مقبول ہے کون نہیں، یہ تو تحقیق کی بات ہے، اس میں بے شمار مدارج و مدارک ہیں۔
ہاں اگر عقل و مال، یا عقل و حسن، یا عقل و امارت وغیرہ امور کا تقابل ہوتا ہو تو میں یہاں پر عقل کو ترجیح دوں گا۔
خلاصہ یہ کہ میرا یہ جملہ کھٹک والا ہے کہ ایسی عقل سے بے عقلی اچھی تو بتا دوں کہ اس میں کوئی سقم نہیں اور میں اسی پر قائم ہوں اس لئے نہیں کہ یہ میرا اجتھاد ہے، اس لئے کہ آیات و احادیث کا سیدھا سا مطلب و مفہوم ہے۔

♻ آگے معزز رقم طراز ہیں میں نے قرآن کے سیکھنے سکھانے والے طبقہ کا مصداق بھی مدرسہ والوں کو ٹھہرایا ہے جب کہ آنجناب کہتے ہیں کہ حدیث میں سیکھنے سکھانے کا حکم ہے نہ کہ رٹنے رٹانے کا، نیز مدارس میں جتنے سال اس رٹائی پر صرف ہوتے ہیں اتنے تدبر پر نہیں۔

کمال کا ظرف پایا ہے موصوف نے، میں تو حدیث کا ترجمہ بھی سیکھنے سکھانے سے کیا نہ کوئی ایسا اشارہ ہی درج ہے جو رٹائی کے فضیلت کو خاص کردے، لطف دو بالا کیجیے کہ یہ احباب مدارس کی ترقی کو چاہتے اور خلوص کا عالم ہے کہ غیر واقعی امر کے انتساب میں ذرا عار محسوس نہیں کی گئی، جذبہ اصلاح خیانت بھی روا رکھنا بھی اہل مدارس دسترس سے دور دراز ہے، ہم مانتے ہیں کے آپ مدارس کے خیر خواہ ہیں لیکن حد میں رہ کر ہی خیر خواہی اچھی ہے۔
رٹائی صرف درجات حفظ میں ہوتی ہے، بقیہ علوم ثانویہ اور عالیہ 8، کہیں 10 اور کہیں اس سے زائد برسوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔
کم سے کم اتنا بڑا جھوٹ تو مدارس پر منسوب نا کرنا تھا کہ سیکھنے سے زیادہ رٹانے پر وقت دیا جاتا ہے۔

♻ آگے موصوف کہتے ہیں کہ ایک مدبر اور غیر مدبر کی تلاوت میں فرق ہوتا ہے جس پر انہوں نے اپنے والد کا مقولہ نقل کیا۔
ان کے والد کا مقولہ واقعی زریں ہے کہ تدبر اور تفکر سے قرآن پڑھنا اس کا حق ادا کرنا ہے۔
لیکن ہوائے تردید میں محترم پھر دھوکہ کھا گئے، مجھے سے پوچھتے ہیں کہ کیا سائنسی علوم جذبہ توحید کو مضبوط کرتے ہیں یا کمزور؟
عجیب منطق ہے، مارے گھٹنا پھوٹے سر، کیا تدبر سائنس میں منحصر ہے؟ جس نے سائنس نہیں پڑھی اس کی توحید میں ضعف لازمی ہے؟
پھر مطلق جہلاء تو کافر ہی ہوگا، اس نے تدبر کا نام تک نہ سنا ہوگا، کرکے ایمان مضبوط کرنا تو دور رہا۔

تدبر برائے معرفت و توحید ہی ہے، آپ نے بلا وجہ اس کا تار سائنس سے جوڑ دیا، فی الجملہ، اور کہیں، اور کبھی ضرور سائنس اس تدبر کا حصہ ہے لیکن ساری باتوں کو چھوڑ کر سائنس کا سوال مجھ سے کیوں؟
اور اگر سائنس تدبر ہے تو ابھی علوم عصریہ کی پوری فہرست ہے۔
اگر وہ مجھے منکر سائنس تو بتا دوں کہ یہ خوش گمانی مناسب نہیں، میں اسے فن سمجھتا ہوں جو کبھی کسی درجہ تدبر کے لئے بھی معین و مددگار ہے۔

♻ میں ان صحافی صاحب کی عقیدت کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی عقیدت ایک مثال میں بیاں کی ہے کہ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ہوچھ لیا تھا جو خلیفہ وقت تھے، میں تو دور دراز کا طالب علم ٹھہرا، لیکن اہل مدارس بحیثیت مجموعی آج بھی اسی عقیدت کے اہل ہیں جو اس مثال میں بیاں ہوئی، اللہ تعالی آپ کی اس عقیدت کو سلامت رکھے۔

♻ بس اس مثال پر اتنا حاشیہ لگاتا چلوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال اس حق میں تھا جس میں وہ عامة المسلمین کے ساتھ برابر کے شریک تھے اور بحیثیت خلیفہ انہوں دیگر کسی پر کوئی امتیاز و تفوق نہ تھا۔

یہاں موضوع ہے کہ ایک ہدف اور نیتجہ کو حاصل کرنے میں تشکیل کیسی ہو؟ اس کا نظام کیسا اور کیا ہو؟ یہ ایسی چیز ہے اس میں ایک دو نہیں ہزاروں لاکھوں طرز پر سوچا جاسکتا ہے اور غور کے ساتھ عمل بھی اہل مدارس کی طرف سے جاری ہے، ہر ایک اپنے لحاظ سے سوچ کر اپنے علاقہ کے احوال پر کچھ نہ کچھ جیسا کیسا کام کر رہا ہے، اگر نظر کو اس کا حق نذر کیا جائے تو ضرور نظر آئے، یہاں حق کا تو سوال ہی نہیں۔

♻ میں نے یہ بھی کہا کہ اہل مدارس نے بھی مادی تخلیق میں ہاتھ بٹایا ہے جس پر موصوف مجھے نصیحت کرتے ہیں کہ
”ہر مسلمان مدرسہ والا نہیں“ اس جملہ کو پڑھ مجھے پھر اے کوئی حیرت نہیں، اس جملہ کی ترکیب دینے اور لکھنے کے کے لئے جو ذہنیت ضروری ہوسکتی ہے اس کے پیش نظر استعجاب کی گنجائش قطعا نہیں رہ جاتی۔

اول تو میں نے یہ دعوی ہی نہیں کیا، فی الجملہ یعنی کبھی اور کچھ افراد کا یہ کارنامہ انجام دینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ عیب اس طریق میں نہیں، کوئی سبب خارجی ہے، جیسا کہ ہم نے اس سبب کے معاشی ہونے کی طرف اشارہ بھی کیا۔
ہم اس کا حوصلہ نہیں رکھتے کہ پچھلوں کے کارنامے اپنے کھاتے میں لکھ لیں، بات پھر وہی آگئی کہ سائنسی تخلیقات علماء کی مطمح نظر ہیں ہی نہیں اگر آپ اسی کو ترقی سمجھتے ہیں کو میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کے آپ علماء کو چھوڑ کر کسی دوسرے طبقہ کو ہی تختہ مشق بنالیں کیونکہ وہ تو اس سے صرف نظر کی گویا قسم کھا بیٹھے ہیں۔

♻ ضمناً بات کہتا چلوں کہ کو چیز مقصد میں کارگر نہیں رہ جاتی تو اسے اس جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں اس کی جگہ نہیں، برش سے دانت صاف کیے جاتے ہیں اور جب وہ ٹوٹ جائے یا گھس جائے تو اس سے چپل کی صفائی بھی کرلی جاتی ہے تو کبھی ازاربند کی خدمت لی جاتی ہے۔

انسانی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت و معرفت کا حصول ہے، اغیار قومیں جب مقصد کی نہ رہیں تو بامقصد قوموں کی خدمت کررہی ہیں، علماء و اہل مدارس منشاءات خداوندی کی تکمیل کے راستے تلاش کرتے ہیں تو اسے یہ خادم قومیں ہمارے ترکیبوں کو آسانی فراہم کرتی ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں یہ ترقی کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ یہ اہل مقصد کی منجانب اللہ غلامی کر رہے ہیں۔

♻ اس میں اس بات کی بھی ذکر آگیا کہ دارالعلوم دیوبند نے ایک فتوی میں کہا کہ جس علم کی فضیلت آئی ہے وہ علم دین ہے اور یہ فتوی جس ویب سائٹ پر پڑا ہے وہ اس علم کی دَین ہے جو علم دین نہیں۔

کیونکہ یہ علم دین کی خدمت کا راستہ و ذریعہ ہے، نیز یہ ویب سائٹ علم نہیں فن کی دَین ہے۔
اور اس کا استخدام کرتے ہیں، اس کی ایجاد ارتقاء تو مقاصد سے بھٹکے خود ہمارے لئے نکال کر سہل کر رہے ہیں۔
اگر کسی نص میں یہ ہوتا کہ کفار کی ایجادات کا استعمال ممنوع ہے تو ضرور ہم استعمال نہ کرتے بلکہ چھوڑ دیتے۔

♻ عربیت کا خاصہ ہے ذہن کی تشحیذ، جو اس میں موجود ہے، کسی اور علم و فن میں نہیں، جب کے ہر علم کے اپنے جدا خواص ہیں، گفتگو چل رہی تھی سطح ذہنی کی تو اس پر یہ بات کہی گئی کہ اس خاصہ کا عربی متعلمین میں آنا غالب ہے، بالکل درست ہے کہ سب کو عربی کماحقہ نہیں آجاتی لیکن اس کا خاصہ دوسرے علوم پڑھنے والوں کو نصیب نہیں ہوتا۔

♻ اس خوش فہمی بھی ذہن سے نکال دیں کہ میں کسی فن کو معیوب یا کمتر سمجھوں یہ سب کے سب ایک خالق کی عطا ہیں، بس مقاصد و ذرائع کا فرق ہے، اس نے کچھ کو مقاصد تو کچھ کو ذرائع ٹھہرایا ہے لہذا اس کے خلاف سلوک بھی اسے پسند نہیں۔

♻ موصوف صحافی ایک بدیہی بات اور واقعة الامر کو جس میں بیک وقت ایک نہیں ہزاروں طلبہ گزرے ہوں گے یہ کہکر ٹھکراتے ہیں کہ چونکہ اصلاحی صاحب نے کہدیا ہے اس لئے ضرور اہل مدرسۂ اصلاح کا عقیدہ ہے کہ وہ ایک دشمن ملک میں رہتے ہیں، اس پر وہ کسی مزید تحقیق یا ثبوت کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے جب کہ خود ایک دوسرے اصلاحی صاحب نے ایک تبصرے میں اس کی تردید کردی۔

ابھی بات پوری نہیں ہوئی، تو موصوف ایک بدیہی اور واقعی چیز میں تنازع ایک آدمی کے بیان پر کر رہے ہیں جب کہ مجھ سے اس بات میں انہیں شکایت ہے جو مسئلہ پوری طرح سے فکری ہے اور محتاج تحقیق و دلائل ہے۔

♻ یہ تو آپ کا ظرف ٹھہرا کہ میری تحریر کی ان باتوں کو جو صریح صریح ہیں اس بارے میں کہ تجدید کا تقاضا شدید ہے نظر انداز کرکے کہتے ہیں کہ میں اس کا مدعی ہوں کہ مدارس کا موجودہ جمود ہی اچھا ہے، ایسی جسارت بھی ہر کسی کا نصیبا نہیں ہوتا۔

*اس ضمن میں میں چاہوں گا کہ انہی احباب کی کچھ دوسری تحریروں کا بھی مختصر جائزہ عرض کیا جائے*

♻ موصوف صحافی کا ایک مضمون جو مجھ پر تنقید سے قبل کا لکھا ہوا ہے، ذرا اس کے عنوان پر نظر ڈالئے کہ کس درجہ مدارس کے بابت وہ فکر مند ہیں اور ددر میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس کا عنوان ہے ” مدارس سے اتنا کچرا کیوں نکل رہا ہے“ یہ ترکیب کسی فکر کی غماز نہیں بلکہ جتنا جاگتا ثبوت ہے کہ وہ مدارس کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
نیز جس تحریر کے ذریعہ انہوں نے مجھ پر نقد لکھا ہے اس کا عنوان ہے ” مطلب مدارس والے سدھریں گے نہیں؟ ” اور اندرون تحریر کن کن خیانتوں کا ارتکاب ہوا کچھ کی نشاندہی کی گئی اور بقیہ تو میری اور ان کی مکمل تحریر پڑھنے کے بعد اندازہ ہوگا۔

♻ بے شک مدارس امت مسلمہ کے نفقہ و تعاون پر چلتے ہیں اس لئے وہ امت کے حق میں جوابدہ ہیں، تو سن لیجیے مدارس والے سارے فتوی مدارس کے باہر والوں پر نہیں لگاتے بلکہ اکابر جن کی ہم دہائی دیتے ہیں وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں جن طلبہ کا مقصد مدارس میں دین پڑھ دنیا کمانا ہو ان کے لئے یہ رقوم حلال نہیں، عوام اپنی رقمیں علماء پیدا کرنے کو دیتی ہیں اس لئے نہیں کہ یہاں کھاؤ پؤ اور مال سے گھر اپنا بھرو۔

♻ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا نمونہ جناب نے کتنا خوبصورت ترکیب میں لکھا ہے کہ مدارس کی تنزلی کے منجملہ اسباب کے ایک یہ ہے کہ اس میں فقراء و غرباء پڑھنے آتے ہیں، دوسرے وہ جو کسی درجہ دماغ نہیں رکھتے والدین جہالت سے بچانے کو مدرسہ والوں کے سر ڈالتے ہیں۔

یہ عیب انہوں نے مدرسہ والوں کا لکھا ہے، بھلا بتائیں اس کی تشکیل آپ کو کرنا چاہیے کہ علم دین کے ساتھ ایسی نا انصافی نہ کیجئے، بجائے اس کے کہتے ہیں کہ یہ اہل مدراس کا عیب ہے، ارے جناب یہ عوام کی مدرسہ کی بھی حق تلفی ہے اور خود اپنی بھی، لائق بچوں اور عمدہ اذہان کا چندہ کروڑوں روپوں کے چندہ سے افضل ہے، خود ان کے حق میں بھی اور عوام کے حق میں بھی۔

♻ نصاب تعلیم تو بے چارہ کتنا بھی بدل جائے اسے سبھی کوستے رہیں گے۔

نصاب سے پہلے مدارس ہی کا مقصد طے کرلیں تاکہ نصاب کی تعیین آسان ہوجائے، تو مدارس کے مقاصد قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم، دعوت اسلام، عقیدہ اسلام کی جامع مانع تشریح، اسلام کی جانب غالیوں اور محرفین اور اہل باطل کے انتسابات اور الزامات کا پوری طرح صفایا، اس اتحاد کی تحقیق جس پر امت مجتمع ہوسکے، جو امت کے صرف ایک دوردور صحابہ میں رہا، پیش آمدہ مسائل کا حل، نو ایجاد اشیاء اور احوال کا کی اپنے مسائل و دلائل سے تحقیق اور تطبیق، سماجی و معاشرتی، اخلاقی اور معاملاتی اصلاح، اور امور ملکی و قومی میں ان کی رہنمائی اور امور سیاسیہ میں تشخیص و تجویز (تحریر متحمل نہیں ورنہ سب کو آیات و حدیث کے ساتھ ہی لکھا جاتا ) اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ یہ تمام امور ان مدارس سے حاصل ہورہے ہیں۔

♻ رہی بات تبدیلی نصاب کی تو اجمالا جہاں جسے جو ضرورت محسوس ہوئی کی گئی، اور کی جاتی رہے گی، جس نصاب پر بظاہر منجمد معلوم ہوتے ہیں وہ بھی حسب ضرورت کرتے ہیں، ہاں ویسی نہیں کرتے جیسے عمر بکر زید چاہتے، اور نہ ہی اس کا کوئی پابند ہے۔
♻ ایک تحریر میں شکوہ ہے کہ سارت فارغین عربی کے بھی ماہر نہیں ہوتے، اسی قلم سے دوسری جگہ لکھتے ہیں علماء سائیکالوجی کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ یعنی جتنی عربی آتی اس سے بھی گئے گزرے ہو جائیں۔

♻ آپ کبھی ذرا اس ذہنی نصاب کا نقشہ کھینچ کر دیکھیں کہ وہ کیسا بنتا ہے۔
مدارس امہات علوم کے ضامن ہیں، یعنی قرآن و سنت، اور ضرورتا ان علوم کو آٹھ، نو سال پڑھایا جاتا ہے جو اس میں مہارت پیدا کرسکیں، صرف، نحو، بلاغت و معانی، وغیرہ۔
منطق و فلسفہ کو کبھی اہل مدارس نے علوم عالیہ کا درجہ نہیں دیا، اس کی خصوصیت ذہن کی تشحیذ اور نفوذ کو سنوارنا ہے، کسی نے اسے سرے خارج رکھا کسی نے کم تو کسی نے زیادہ۔
حسب ضرورت ثانویہ میں عصری علوم حساب جغرافیہ اور ہندی انگلش بھی شامل ہے۔

اب ذرا سوچئے کہ اس مدرسہ کے نصاب میں آپ عصری کون سا علم مزید چاہتے ہیں، طب؟ کونسا طب ہومیوپیتھک، ایلوپیتھک، یونانی، پھر سب کی بیسیوں شاخیں۔
سائنس تو سب کی ماں ٹھہری، اس کے بھی اقسام ہیں۔
کامرس کا فن تو بہت مہارت پیدا کرتا ہے۔
اقتصادیات اکنامکس سے دنیا کا کوئی بے نیاز نہیں۔

اس کا بھی قائل ہونا پڑے گا کہ انجینئرنگ کا بھی کچھ تعارف ان۔ گوشہ نشینوں کو ہوجائے، آخر مسجد مدرسہ کی تعمیر میں کسی انجینئر کی بھی احتیاج ہوتی ہی ہے۔
مکینیکل انجینئرنگ بھی شامل ہوجائے تو کوئی کسر ہی نہ رہ جائے۔
عمرانیات اور سیاسات کی تو آج طوطی بول رہی ہے، کیوں نہ کچھ تخصص اس پر بھی ہوجائے۔
ادبیات کی اتنی اہمیت اور وقت کی ضرورت ہے، جس کے پیش نظر نہ کچھ زیادہ تو کم از کم انگلش اور ہندی کی ماسٹر ڈگری تو ہونا از بس لازمی ہے۔
اور یہ نمونہ ہیں، اور علوم کی ایک لائن باقی ہے۔

جب سبھی از قبیلہ علوم ہیں تو کیوں کسی ایک بھی علم سے بے اعتنائی برتی جائے، ایک کو لے کر دوسرے سے تعصب اور تنگ نظری کی جائے۔
ان سب کو ملانے کے بعد جو ملعوبہ و معجون تیار ہوگا، اور اسی سے مستفاد نمونے دکھائے دیں گے بقسم کہتا ہوں کہ وہ بھی معترضین کی نگاہ کو بھا نہیں سکتے۔
در اصل معزز ناقد صاحب اگرچہ اہل مدارس کے بابت اپنی تحریر میں دیکھے جا چکے ہیں، لیکن ان کے علم میں شاید نہیں کہ ایک طبقہ ہے جو ہمیشہ ان گوشوں کے شاہوں سے حسد و بغض کا شکار رہا ہے، اور آپ نہ خواستہ بھی ان کا آلۂ کار بن سکتے ہیں۔

*کچھ اپنی سی باتیں*
*مدرسہ کے مقاصد*
جیسا کہ اوپر آیا مدارس کا مقصد کیا ہے؟

*مدارس کے مقاصد قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم، دعوت اسلام، عقیدہ اسلام کی جامع مانع تشریح، اسلام کی جانب غالیوں، محرفین اور اہل باطل کے انتسابات اور الزامات کا پوری طرح صفایا، اس اتحاد کی تحقیق جس پر امت مجتمع ہوسکے، جو امت کے صرف ایک دور دورِ صحابہ میں رہا، پیش آمدہ مسائل کا حل، نو ایجاد اشیاء اور احوال کا کی اپنے مسائل و دلائل سے تحقیق اور تطبیق، سماجی و معاشرتی، اخلاقی اور معاملاتی اصلاح، اور امور ملکی و قومی میں ان کی رہنمائی اور امور سیاسیہ میں تشخیص و تجویز*
اور مدارس ان امور کو بحمداللہ مقصود بنائے ہوئے گامزن ہیں، درجات کا فرق بے انتہاء ہے، خلوص و استقلال اور ہمتوں اور طریقہائے کار سے نتائج میں بھی ایک دوسرے سے زمین آسمان کا فرق ہے۔

*اہل مدارس کا اپنے نتائج پر رد عمل*
آپ ان مدراس میں کبھی تو جاکر کچھ عرصہ رہیں دیکھیں کہ وہ کس طرح فکر اور مشوروں سے کام کرتے ہیں، اپنی اصلاح و ترقی کی فکر اس سے زیادہ کرتے ہیں جتنی کہ آمدنی کی نہیں ہوتی، الا ماشاء اللہ۔

*نصاب پر سوال*
ایک سیدھی سی بات ہے، لیکن ماننے والے کے لئے، ایک مریض ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جاتا ہے اور تشخیص تجویز کے بعد یوں کہے کہ فلاں دوا کیوں؟ فلاں کیوں نہیں؟
نصاب پر غیر مدرسہ والوں کے اعتراض کی مثال بس یہی ہے، مریض کو اگر افاقہ نہ ہو تو اس کا مطلب ہے اپنی کیفیت کو صحیح صحیح بیان پر اکتفا کرے، مریض کا کام نہیں کہ وہ تجویز یا تشخیص میں رائے دے اور وہ رائے ہی دے سکتا ہے تو خود اپنا معالجہ کیوں نہیں کرسکتا۔
یہ حضرات مدارس کو اپنا تختہ مشق تصور کرکے آراء سے نوازتے ہیں، خود ایسے اہل فکر جمع ہوکر کیوں نہیں اپنے اہداف عالیہ اور نصاب کے لا یتغیر اصول طے نہیں کرلیتے اور پھر دنیا کو وہ دکھادیں جو مدارس نے آج تک نہ کیا۔

*فانتظروا إنى معکم من المنتظرین*
اور وہ حضرات جو ایک دوسرے کے نصاب پر معترض ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایلوپیتھک والا یونانی کے نقصانات شمار کرائے یا یونانی والا انگریزی کے مضرات گنوائے، یہ طریق کار کا اختلاف ہے۔

*عقلوں کا جنازہ*
مدارس کے اطوار اختلاف اور اور طریق دفاع پر رطب اللسان رہنے والے جو اتحاد بین الفرق کے عظیم سے عظیم داعی ہیں وہ اپنی تنقید و تردید میں اس بات کو سرے سے بھلا کر اترتے ہیں کہ جس بات کے وہ داعی ہے وہ تو فقط ایک طریق کار ہے، اس پر کوئی مبرہن دلیل ہے ہی نہیں، در پردہ دعوی ہے کہ ہمارے عقلیں سب سے لائق و فائق ہیں، جس کے علاوہ صحیح تجویز کسی سے ممکن ہی نہیں۔
جو لوگ قرآن و حدیث کے قطعی و یقینی مفاہیم کے غلط استدلال کو بھی کشادہ قلبی سے قبول کرنے پر آمادہ ہیں وہ ایک ایسی چیز پر بضد ہیں جس پر سرے سے کوئی قطعی تو کیا ظنی بھی دلیل نہیں۔
واضح ہو کہ یہ مسلمہ بھی ان کا ہے اس لئے ان پر بطور حجت لایا گیا، مدارس پر اس سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔

*امت کا علمی اعجاز*
اکابر کہتے ہیں کہ پچھلی امتوں کو کچھ نہ کچھ اپنے زمانے کے لحاظ سے چیلنجز تھے، اس امت کا چیلینج علم ہے اور اس میں قرآن ان تمام علوم کی ماں ہے۔
اٹھ، دس سال لگا کر ایک طالب علم کو اس درجہ پہنچایا جاتا ہے کہ وہ آگے کسی لائن میں تخصص کرنا چاہے تو کرسکے اور اس یکساں نصاب طے کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں، اسکولی نظام میں بھی کوئی اس قائل نہیں کہ اول جماعت طب یا انجیئرنگ یا سائیکولوجی کی تعلیم ہو۔
طبائع، صلاحیتیں، مزاج اور ضرورت سب کی علیحدہ ہیں اس لئے ایسا نظام جس میں ایک فن کو سب پر منڈھ دیا جائے کسی فکر مند سے امید سے خارج ہے۔
اس لئے نصاب میں ان علوم پر ہی اچھی محنت کی کوشش رہتی جس سے بنیادی طور پر قرآن و حدیث تو وہ صحیح سمجھ کر بتا سکیں۔
ہر فارغ التحصیل بندہ مفتی ہی نہیں ہوتا اور محدث نہ مفسر، بلکہ اسکولی نظام پر ایسا ہے جیسے ہائی اسکول یا کانونٹ کرلی، آگے اس کا انتخاب ہے۔

موجودہ علمی چیلینج سے مقابلہ کے لئے ایسے علم کی ضرورت ہے جو اس پر حاوی ہوسکے اور وہ وحی کا علم ہے، انبیاء کے علوم ہیں، یہ نہیں کہ انہی کی ہاں میں ہاں ملائی جائے، بس اس کے لئے اتنی ضرورت ہے کہ اس کی دوسرے تک ترجمانی کما حقہ ہوسکے، اس کے لئے بھی کوئی ایک علم و فن نہیں بلکہ حسب موقع علیحدہ و جدا ہے۔

*آج دنیا علوم وحی کی پیاسی ہے، اور اسی لئے سرگرداں و حیراں ہیں، بقیہ سارے علوم خود ایجاد کرکے بھی وہ انسانوں کو ابھی تک صحیح راہ ہی نہیں دے سکے، منزلِ مقصود کو پانے کا تو تصور ہی کیا، اور مدارس بس اسی کی سیرابی کو اپنا مشن سمجھتے ہیں، ان کو کوئی اس کے علاوہ سمجھائے تو سمجھتے بھی نہیں، اب یہ آپ کی مرضی کہ ان کی ناسمجھی کو مدح بنائیں یا ذم۔ *

*دوستانہ فرمائش*
میرے ناقد صحافی اور اصلاحی صاحبان سے میں کہنا چاہوں گا کہ آپ نوجوان ہیں، نوجوان طبقہ جوش کے ساتھ اگر ذرا ہوش سے کام لے تو جانے کیا کچھ نہیں کرسکتا، جس طرح مدارس اپنے اندر بہت کچھ تجدید کرچکے ہیں اور کر رہے ہیں، اسی طرح تنویع کار بھی از حد ضرورت ہے، آپ بجائے تحصیل حاصل میں لگنے کے اپنے درست مطلوبات اور وقیع ثمرات کے لئے مضبوط عقیدہ اور صالح فکر کے ساتھ کوئی ایسی علمی، فکری یا تحریکی پہل کریں جس کے طریق کار میں نیا پن ہو اور وہ بانتیجہ بھی ہو، کوئی کچھ کہے اور کرے، لیکن یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کے کام کی دعوت و تشکیل کروں گا۔
میں مکرر عرض کروں کہ فکری جمود جس طرح فرد کی فردیت ختم کرتا ہے، اجتماعی بے فکری قومیت کو لے ڈوبتی ہے، میں بھی فکر کا حامی ہوں۔


اسی بارے میں

مدارس کے طلبہ کا ذہنی لیول کیا ہے؟

مدارس کے طلبہ کا ذہنی لیول – جواب حاضر ہے

مدارس سے اتنا کچرا کیوں نکل رہا ہے؟

مطلب مدارس والے نہیں سدھریں گے؟

دارالعلوم دیوبند کا آن لائن دارالافتاء اور جدید تعلیم

بیوی کے ریپ کا شرعی جواز اور معصوم مفتی

Facebook Comments HS

محمد توصیف قاسمی (فاضل دارالعلوم دیوبند)۔

مصنف مفتی محمد توصیف قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں اور حیدر آباد دکن میں رہتے ہیں۔ ان کا تعلق لکھنو سے ہے۔

muhammad-tauseef-qasmi has 2 posts and counting.See all posts by muhammad-tauseef-qasmi