زندگی کو ایک پیارا سا سپنا چاہے

زندگی پھر اسی طرح خواب دیکھتے اپنے مسئلے حل کرتے گزارتے رہے۔ کوئی حسینہ نظرانداز کرتی گزر گئی تو ہم اپنے خیالوں میں کسی کو لے آئے۔ اس کے ساتھ گھومتے پھرتے رہے وہ ہمارے آگے پیچھے ناچتی پھری۔ جب کوئی ناکامی ہوئی ایک کامیابی خیالوں میں حاصل کر لی۔ برے دن آئے تو اچھے دنوں کے خواب دیکھ لیے۔
جاگتی آنکھوں سے سپنا دیکھنے والے کبھی اکیلے نہیں رہتے۔ زندگی کی مشکلات گھیریں وہ اپنے خوابوں کی دنیا چلے جاتے ہیں۔ وہاں ڈیزائن بناتے رہتے ہیں۔ ڈائلاگ سوچتے ہیں کہ وہ یہ کہے گا تو میں یہ بول دونگا۔ انہیں خیال کہانیوں میں کہیں حل بھی چھپا ہوا ہوتا ہے جو باہر آ جاتا ہے۔ حل نہ بھی ملے بندہ نارمل ہو کر خود حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔
پہلی کہانی جو لکھی تھی اک کریکٹر سپنے دیکھتا تھا۔ وہ اپنے سپنوں کا خود اختیار رکھتا تھا۔ کبھی ولن ہوتا کبھی ہیرو۔ ہر کہانی کا اینڈ وہ اپنی مرضی سے کرتا۔ پھر اک دن اسے کوئی مل گئی اسے دیکھ کر وہ اپنے سپنوں سے باہر آ گیا۔ اس نے خیالوں میں اتنی کہانیاں بن رکھی تھیں۔ اصل زندگی کی کہانی میں ہر سچویشن کے کئی حل اس کے پاس ہوتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ اسے فیصلہ کرنا تھا اپنی اصل کہانی کا اینڈ وہ اپنی مرضی سے کرے گا۔ یا پھر اینڈ قدرت کی مرضی کا ہو گا۔ وہ اپنے سپنوں میں لوٹ جائے جہاں کہانی اس کی مرضی سے چلتی ہے یا حقیقت میں رہے جہاں اسے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کہانی کا اینڈ کیا ہوا اس کے لیے تو کہانی ہی پڑھنا ہو گی اگر کبھی ڈھونڈ لی تو یہیں شئر بھی ہو جائے گی۔
کہانی تو گم گئی وسی بابا مل گیا۔ یہ کردار گھڑ لیا تھا اپنی ناکامیوں مجبوریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے۔ جو خود پر خود ہنس لیتا تھا۔ مشکل کو چیلنج سمجھتا تھا۔ ناکامی کو سبق۔ کامیابی کو عارضی۔
ہر گھر کی طرح ہر فرد کی طرح کبھی ہم بھی ایک مشکل وقت سے گزرے۔ گھر والے سوچتے کہ اس کو ٹینشن نہیں ہوتی۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہ اچھے دنوں کے خواب بنتا رہتا ہے۔ حسن پرست تو تھے ہی حسن کیسا ہو اس کا بھی سپنا ہی بنا تھا۔ خواہش حسرتوں محبتوں کا چہرہ بنایا پھر اسے ڈھونڈتے رہے۔ ڈھونڈ لیا تو حاصل کر لیا آج پھر او نچ دی اے ساڈے نال۔
یہ الٹی سیدھی لائینیں ایسے ہی کھینچی ہیں۔ کہنا کچھ بھی نہیں ہے۔ یارو جب تھک جاؤتو ہارنا نہیں رکنا نہیں۔ بیٹھ کر کوئی سپنا دیکھ لینا پھر اس کو حاصل کرنے کے لیے نکل پڑنا۔ نہ ملے تو دوسرا سپنا دوسری کوشش بس رکنا نہیں ہے۔ دھوپ میں چلو تو بادلوں کی بارش کی باتیں سوچنا۔ بارش میں پھسل کر گرو تو سورج کو یاد کر لینا۔ ہار جاؤ تو جیت کا خواب دیکھ لینا۔ کامیاب ہو جاؤ تو فخر ضرور کرنا بس خود سے یہ کہنا مت بھولنا کہ کبھی کتنے عاجز بے بس بھی تھے۔
حسن جب انکار کر دے تو خیالوں میں پھر آزاد ہو حسن کو نئی شکل دے کر تخلیق کرنے میں۔ سپنے دیکھنے والی آنکھ انہیں بنانے والا دل سلامت زندگی بھاگی آتی ہے کہ چل ڈانس ماریں۔

