دیوتا مر گیا
’دیوتا مر گیا،
یہ خبر پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور چاروں طرف مایوسیوں اور بے یقینیوں کا دھواں نظر آنے لگا۔
اس شہر کے لوگوں کو وہ دور اچھی طرح یاد تھا جب ان کی راحتوں کے دن چھوٹے اور دکھوں کی راتیں لمبی ہونے لگی تھیں۔
جب
ان کے بچے،نوجوان اور بوڑھے اندر سے ٹوٹنے لگے تھے
ان کے دل پژمردہ ہو گئے تھے
ان کی روحوں میں پلنے والی آگ ٹھنڈی پڑنے لگی تھی
ان کے باطن میں جمتے جمتے راکھ ان کے چہروں تک آ گئی تھی
ان کے کردار کی خوشبو زائل ہو گئی تھی
ان کی آنکھوں کے چراغ بجھ گئے تھے
پورے شہر کو بے اطمینانی کے بادلوں نے گھیر لیا تھا
لوگ اپنے من کی گہرائیوں میں جھانکتے تو وہاں راکھ ہی راکھ نظر آتی
نہ کوئی خواہش تھی نہ کوئی خواب
نہ کوئی آرزو تھی نہ کوئی اضطراب
نہ کوئی چنگاری تھی نہ کوئی آگ
بس راکھ ہی راکھ
اور پھر ایک مسافر نے لوگوں کو بتایا کہ اس شہر سے بہت دور ایک پہاڑی کے سائے میں ایک دیوتا رہتا تھا جس کی قربت زندگی کی شمع کو ایک دفعہ پھر جلا دیتی تھی۔
لوگ کوسوں کا فاصلہ طے کر کے اس پہاڑی کے سائے میں پہنچے۔۔۔وہاں دوسرے شہروں کے باسی بھی پہنچے ہوئے تھے اور اس دیوتا سے ایک نئی امید ایک نئی آس کا تحفہ لینے آئے تھے۔
وہ دیوتا ایک دراز قد، لمبے لمبے گیسوئوں والا مرد تھا جس کے چہرے پر زندگی کی بشارت تھی اور آنکھوں میں زندگی کی حرارت۔اس نے ایک خرقہ زیبِ تن کر رکھا تھا۔اس کے لیجے میں جمال و جلال کی ملی جلی خوشبو تھی۔
وہ دیوتا ہر بچے، مرد اور عورت کا مسکرا کر استقبال کرتا۔ ان سے ہاتھ ملاتا، گفتگو کرتا، معانقہ کرتا اور دعائیں دے کر رخصت کرتا۔ اس کی قربت سے لوگوں میں ایک نیا جذبہ، نئی ہمت، نئی توانائی اور نیا ولولہ عود کر آتا۔
لوگ واپس آئے تو ان کے من کی راکھ میں دبی چنگاریاں دوبارہ شعلوں میں بدلنے لگیں اور ہر شخص اپنے دل میں ایک خواہش، ایک خواب اور ایک آرزو لے کر لوٹا۔
اس شہر کے انسانوں کی زندگی میں خوشیوں کے دن طویل اور غموں کی راتیں چھوٹی ہونے لگیں۔
اس کے بعد جب بھی لوگوں کے من میں آگ کی لو میں کمی ہونے لگتی وہ دوبارہ اس پہاڑ کے سائے میں اس دیوتا سے ملنے چلے جاتے۔
اور پھر ایک دن خبر آئی۔۔۔۔’دیوتا مر گیا،
سب لوگ جوق در جوق اس پہاڑ کی طرف لپکے جس کی آغوش میں وہ دیوتا اپنا وقت گزارا کرتا تھا۔ ان کی ملاقات دیوتا سے تو نہ ہوئی اس کی لاش سے ہوئی جس نے مرنے سے پہلے زمین پر انگلی سے لکھ رکھا تھا
’تم میں سے ہر انسان ایک دیوتا ہے،

