خوشی کی تلاش میں لمبا سفر

یہ کتاب آج کل ٹورانٹو کے علمی ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ کل شام کے کھانے پر ہماری اس کتاب کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔ شریک گفتگو ڈاکٹر خالد سہیل اور امریکہ سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر لبنی مرزا تھی۔ یہ دونوں اچھے ڈاکٹرز بہت پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ہم سب کے لیے اکثر لکھتے رہتے ہیں۔ اس کتاب میں پیش کیے گئے خیالات سے اختلاف اور اتفاق کی بہت گنجائش ہے۔ مگر بہت لوگ یہ کتاب خرید رہے ہیں۔ پڑھ رہے ہیں۔ تو سولات کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے مصنف پوچھتا ہے کہ کیا انسان نے گزشتہ پانچ سو برسوں میں جو دولت جمع کی ہے وہ اس کے لیے کسی مسرت کا باعث بنی ہے؟ کیا کبھی نہ ختم ہونے والی توانائی کے ذخائر ہمارے لیے خوشیوں کے نہ ختم ہونے والے خزانے کھولتے ہیں۔

یہ انتہائی اہم سولات ہیں جو کوئی تاریخ سے پوچھ سکتا ہے۔ انسانی مسرت کے بارے میں ہمارے وقت کے بیشتر سیاسی اور نظریاتی پروگرام کمزور یا بے اعتبارخیالات پر مبنی ہیں۔ قوم پرست سمجھتے ہیں کہ ہماری خوشیوں کے لیے سیاسی حق خود ارادیت ناگزیر ہے۔ کمیونسٹوں کا ماننا ہے کہ پرولتاری آمریت یا مزدور راج میں ہر کوئی خوش رہ سکتا ہے۔ سرمایہ داروں کا اصرار ہے کہ صرف آزاد منڈی ہی عوام کی عظیم اکثریت کو حقیقی خوشیاں دے سکتی ہے۔ ایسا معاشی ترقی اور خوشحالی سے ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو اپنے اپ پر دارمدار اور ہنر سیکھانے سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر سنجیدہ تحقیق اس خیال کو رد کر دے تو کیا ہو گا؟ اگر معاشی ترقی انسان کو مطمئن نہیں کر سکتی تو سرمایہ داری نظام کا کیا فائدہ ہے۔ اگر یہ پتہ چلے کہ بڑی سلطنتوں کے شہری عام طور پر خودمختار ریاستوں کے شہریوں سے زیادہ خوش ہیں۔ مثال کے طور پر گھانا کے لوگ اپنی مقامی آمریتوں سے زیادہ برطانوی راج میں زیادہ خوش تھے۔ اور اگر یہ سچ ہو تو پھر نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور اور حق خود ارادیت کی کیا اہمیت و افادیت ہو گی۔ یہ سارے فرضی یا قیاسی امکانات ہیں۔ اس لیے کہ اب تک تاریخ دانوں نے یہ سولات اٹھانے سے گریز کیا ہے۔ جواب کی تو بات ہی نہیں۔ تاریخ دان ہر چیز پر تحقیق کر چکے ہیں۔ سیاست، معاشیت، جنس، بیماریاں، جنسیت، خوراک، لباس۔ مگر وہ شاز و نادر ہی رک کر پوچھتے ہیں کہ یہ سب چیزیں انسانی خوشیوں پر کیسے اثر اندوز ہوتی ہیں۔
عام خیال یہ ہے کہ تاریخی سلسلہ عمل میں انسان کی مجموعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں کو انسانی مصاہب کے خاتمے اور اپنی آرزوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے قرون وسطی کے ابا آجداد سے زیادہ خوش رہنا چاہیے۔ اور قرون وسطی والوں کو پتھرکے زمانے کے لوگوں سے زیادہ خوش رہنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ خیال زیادہ قائل کرنے والا نہیں ہے، ہم دیکھ چکے ہیں کہ نئے روئیے اور نئی مہارتیں ضروری نہیں کہ بہتر زندگی کا باعث ہوں۔ زرعی انقلاب کے نتیجے میں کسان اپنی ضروریات کے لیے سخت محنت پر مجبور ہوا۔ وہ پہلے سے زیادہ بیماری اور استحصال کا شکار ہوا۔
اسی طرح یوروپین سلطنتوں نے نئے خیالات، تکنیک اور فیصلوں کے ذریعے انسان کی اجتماعی طاقت میں اضافہ کیا، تجارت کے نئے راستے کھولے، لیکن یہ عربوں افریقیوں، دیسی امریکیوں اور آسٹریلیا کے اصلی باشندوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ انسان میں طاقت کے غلط استعمال کے ثابت شدہ رحجانات کی موجودگی میں یہ مان لینا معصومیت ہو گی کے مزید طاقت اور اثر و رسوخ انسان کو پہلے سے زیادہ خوشی دے سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے اس کے بر عکس ہے۔ ان کا خیال ہے طاقت بد عنوان بناتی ہے۔ پہلے زرعی انقلاب اور پھر صنعتی انقلاب نے ہم لوگوں کو غیر فطری زندگی گزارنے پر مجبو کر دیا۔ یہ زندگی ہمارے اندر کی حقیقی تڑپ کی تسکین نہیں کر سکتی۔ متوسط طبقے کی شہری خوشحال زندگیوں میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انہیں وہ جوش و خروش دے سکے جو شکار کے زمانے کے انسان کو شکاری دستے کے ساتھ مل سکتی تھی۔ ہما ری ہر نئی ایجاد ہمارے اور باغ جنت کے درمیان مزید ایک میل کا فاصلہ بڑھا دیتی ہے۔
( نوٹ کتاب سے اقتسابات اور اس پر تبصرے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ یہاں کتاب کا لفظی ترجمہ نہیں کیا جا رہا بلکہ اہم خیالات کو اپنے الفاظ اور آسان انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے )

