آنول نال کا جذباتی پھندا


میں نے جب ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا کالم ماں کا دل اور خالی گھونسلہ پڑھا تو مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ جب میں ایک بچہ تھا تو مجھے اور میری چھوٹی بہن عنبریں کوثر کو مرغیاں پالنے کا بڑا شوق تھا۔ جب کوئی مرغی کڑک ہو جاتی تو ہم اپنے ہمسایوں سے انڈے لا کر اپنے انڈوں کے ساتھ مرغی کے نیچے رکھ دیتے اور بے صبری سے چوزوں کا انتظار کرتے رہتے۔ جب انڈوں سے چوزے نکلتے تو کچھ سفید ہوتے‘ کچھ کالے اور کچھ پیلے کیونکہ وہ مختلف مرغیوں کے انڈے ہوتے۔ جب چوزے چھوٹے ہوتے تو مرغی انہیں بڑے پیار سے دانا دنکا کھلاتی۔

ایک دن میرے ابو باسط نے میری امی عائشہ کو بلایا اور کہا کہ اس مرغی کو دیکھو۔ اس مرغی کے پاس دانے تھے لیکن جب اس کے چوزے قریب آتے تو اس نے انہیں چونچ مار کر بھگا دیا۔ میرے ابو نے کہا ’دیکھو یہ مرغی کتنی سیانی ہے۔ اسے پتہ چل گیا ہے کہ اس کے چوزے جوان ہو گئے ہیں اب وہ اپنا کھانا خود تلاش کر سکتے ہیں۔ ‘ پھر میرے ابو نے بڑی دانائی کی بات کی کہنے لگے’ کاش انسانی مائیں اس مرغی ماں سے یہ سبق سیکھیں کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو انہیں آزاد کر دیں‘۔

مجھے اپنے ابو کی کہانی آج تک یاد ہے۔ اب جبکہ میں ایک ماہرِ نفسیات بن گیا ہوں اب میں اپنے ابو کی دانائی کی بات کو بہتر سمجھ سکتا ہوں۔ بعض ماؤں کو اپنے بچوں سے اتنا زیادہ جذباتی لگاؤ ہوتا ہے کہ وہ اپنا EMOTIONAL UMBILICAL CORD نہیں کاٹ سکتیں۔ ایسی صورتِ حال میں ماں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے اور بچوں کی بھی۔ جذباتی آنول کے کاٹنے سے ماں اور بچہ دونوں آزاد ہو جاتے ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب بچے اگر سکول جانے سے ڈرتے تھے اور صبح کے وقت بہت روتے تھے تو ماہرینِ نفسیات کہتے تھے کہ وہ بچہ سکول فوبیا کا شکار ہے لیکن پھر ماہرینِ نفسیات نے ان بچوں کی ماؤں کے انٹرویو لیے تو انہیں پتہ چلا کہ مسئلہ بچے سے زیادہ ماں کا تھا کیونکہ ایسی مائیں بچوں سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھیں۔ ایسی مائیں SEPARATION ANXIETY کا شکار تھیں۔ ماں کو پریشان دیکھ کر بچے بھی پریشان ہو جاتے تھے۔ کبھی روتے تھے کبھی الٹیاں کرتے تھے اور کبھی انہیں بخار ہو جاتا تھا۔ جب ایسی ماؤں کا نفسیاتی علاج کیا گیا تو بچے بھی ٹھیک ہو گئے۔

بہت سی ضرورت سے زیادہ محبت کرنے والی مائیں نہ بچوں کو سکول بھیج سکتی ہیں نہ کالج اور یونیورسٹی جانے دیتی ہیں اور نہ ہی ان کی شادی کرنا چاہتی ہیں اگر شادی کرتی بھی ہیں تو اپنی بہو کو دل سے قبول نہیں کرتیں۔ ایسے بیٹوں کو اپنی ماں اور بیوی کے درمیان ایک تضاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو جوان بیٹے اپنی ماں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ اپنی بیوی کے جذباتی اور رومانوی حقوق ادا نہیں کر سکتے اور انہیں دل کی گہرائیوں سے نہیں چاہ سکتے ان کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ کہتا تھا کہ وہ UNRESOLVED OEDIPUS COMPLEX کا شکار ہیں۔ بہت سی مشرقی مائیں اپنے بیٹوں کے ذریعے زندگی گزارنا چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کے خواب ان کے بیٹے شرمندہِ تعبیر کریں۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے اپنی اور اپنے جوان بیٹے کی مثال دے کر ماؤں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اپنی خوشی کی خود ذمہ داری لیں۔ اپنے دوست بنائیں اپنے مشغلے اپنائیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھیں اور پھر خود انہیں شرمندہِ تعبیر کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گی تو وہ جذباتی آنول کاٹ سکیں گی‘ اپنے بچوں کو جذباتی طور پر آزاد کر کے ان کے ساتھ ایک صحتمند رشتہ قائم کر سکیں گی۔ اس طرح ان کے بچے صحتمند اور آزاد ہوں گے اور آزاد فضاؤں میں پرواز کر سکیں گے۔ میرا ایک شعر ہے
؎ اپنی پرواز کا اندازہ لگانے کے لیے
اپنے ماحول سے آزاد فضائیں مانگیں۔

ماں کا دل اور خالی گھونسلہ

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail