سوشل میڈیا پر جھوٹے پیار کی سچی کہانی

چیٹ روم روز سویرے اٹھ کر بنانا ہوتا تھا۔ ہماری اک کمیونیٹی تھی نیٹ کے دوستوں کی جو دنیا بھر سے اکٹھے ہوئے تھے۔ اگر چیٹ روم بنانے میں دیر ہو جاتی تو ہمارے نام سے کوئی اور بنا لیتا تھا۔ پھر بڑی بدمزگی ہوتی کہ ہم سب دوسرے گروپ میں اپنی کھلی ڈلی گپ لگا نہیں پاتے تھے کہ ایڈمن ہمارا نہیں ہوتا تھا۔ کوئی اور نام رکھتے تو مستقل دوست پہنچ نہیں پاتے تھے۔ ہیکنگ والا اعلان سن کر جب سب بھاگے تو کافی خجل ہونا پڑا تھا۔ نیا روم تو بن گیا تھا البتہ وسی بابے پر سب ہی تپ گئے تھے۔ ایڈمن کو اپنی حماقت کا احساس ہو گیا تھا کہ جب وسی ایڈمن ہی نہیں تھا تو اس نے روم کیسے ہیک کر لیا۔ اس نے پرائیویٹ چیٹ میں آ کر خوب سنائیں اوپن گروپ میں بھی مجھے غدار قرار دے دیا۔
شہلا نے کہا کہ اگر وسی اس گروپ میں دوبارہ دکھائی دیا تو ہم سب لڑکیاں بائیکاٹ کریں گی۔ ایڈمن نے مجھے نکال دیا کہ اب مزے کر ان میڈم لوگ کا غصہ ٹھنڈا ہونے تک۔ مون سے کہا اپنی ساری پارٹیوں ( لڑکیوں) کو فوری راضی کر ورنہ دیکھ تیرا کیا حال کرتا ہوں۔ سب راضی ہو گئیں دوبارہ ممبر بنانے پر شہلا نہ ہوئی۔ اس دن کے بعد کبھی شہلا سے نہ بنی۔ ہم دونوں اک دوسرے کو نظرانداز تو کرتے تھے لیکن بدمزگی ہو کر رہتی تھی۔ ہماری ایک ایڈمن پیرس میں ہوتی تھیں ان سے اچھی دوستی تھی ان کی وجہ سے سب نارمل ہو گیا لیکن شہلا سے نہ بن سکی دوبارہ۔ مون ہر وقت منتیں کرتا رہتا تھا کہ یار شہلا سے مت الجھا کر۔
کچھ عرصے بعد پہلے مون غائب ہوا پھر شہلا غائب ہو گئی۔ اب چیٹ سے مصالحہ چلا گیا روز کی بک بک مس کرنے لگ گیا۔ شہلا کا پتہ کیا تو ایڈمن نے کہا وہ لندن چلی گئی ہے پڑھنے کے لیے۔ شہلا کو ای میل کی کہ تمھارا مون سے افیئر تھا؟ بریک اپ کی وجہ سے لندن بھاگ گئی ہو۔ اس کا فوری جواب آیا کہ تمھیں کیسے پتہ لگا۔ پھر اس کی کال آئی کہ تمھیں کیسے پتہ لگا افیئر کا۔ اسے کہا مون کا کس سے افیئر نہیں تھا۔ اچھا ہوا بریک اپ ہو گیا اب نیا لڑکا ڈھونڈ لو۔ اب لڑکیوں کے سر میں دماغ کی بجائے سرکٹ ہوتا ہے جس میں کرنٹ دوڑتا۔ جدھر کرنٹ جائے ویسی سی باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔
شہلا نے کہا وسی ہماری منگنی ہوکر ٹوٹ گئی۔ میری وجہ سے گھر والوں نے اس بھوکے کو ہاں کی تھی۔ منگنی ٹوٹ جانے پر عجیب حال ہو گیا ہے گھر والے اب کہیں بھی اور فوری شادی کو کہتے تھے۔ مجھ سے یہ سب سہا سنا نہیں جا رہا تھا تو میں لندن آ گئی۔ شہلا سے کہا تم تو اسلام آباد کی ہو لیکن یہ بتاؤ تمھارا پنڈ کون سا ہے۔ اس نے مری سائیڈ پر پنڈ بھی بتا دیا۔ اسے کہا شہلا ہم ہمیشہ لڑتے رہے ہیں۔ ایسا مت کرو واپس آ جاؤ جتنی تم ہوشیار ہو پڑھائی میں پتہ مجھے۔ پینڈو گھر کی ہو امی ابا پتہ نہیں کیا سوچتے ہوں گے۔ تمھیں سمجھ نہیں آتی مجھے آ رہی ہے کہ خود پینڈو ہوں۔ آ واپس شادی کراتے تمھاری مون سے۔ یہ سن کر شہلا نے کہا وسی میں ایک شرط پر واپس آتی ہوں کہ تم دونوں گھروں کو راضی کرو گے۔
شہلا واقعی واپس پہنچ گئی اس نے آنے کا بتایا تو پھر لازم تھا کہ اب کہانی میں مشر کی اینٹری ہو۔ مشر نے ساری کہانی سن کر کہا ”تہ چرتا سم کار کڑے دے“ وہی بزرگوں والی بات کہ کبھی کوئی اچھا کام کیا ہے۔ اسے کہا مشر جو کہنا کہہ میں جا رہا کراچی پہلے مون کو راضی کرنا ہے وہ فرار ہو چکا ہے۔ تم اب جہیز کا سامان تیار کرو مشر نے آگے سے جو کچھ کہا نیک لوگ ویسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ آمو کو کراچی اطلاع دی جو اسی چیٹ گروپ سے ملا تھا۔ آمو نے کہا یار اگر تم واقعی اس کام کے لیے کراچی آ رہے تو میں تمھارے ساتھ ہوں۔ وہ غریب آج تک میرے ساتھ ہے اس سارے گھن چکر میں قدرت نے بطور بھائی ایک تحفہ عطا کیا تھا۔
مشر نے نقشہ بنا کر سمجھایا کہ کراچی میں کیا کرنا۔ کب ہمارا مشن لسانی فساد میں ڈھل سکتا ہے اس وقت کیسے ٹرک ڈرائیوروں سے مدد لینی ہے۔ وہ کراچی میں پانی کی سپلائی اور ملک میں تیل کی سپلائی بند کریں گے۔ کراچی پہنچے عقل نے سوال کیا کہ اس کام میں کٹ بھی پڑتی ہوتی یہ سوچ کر اپنے سندھی کزن کے گھر قیام کیا۔ پیار کی اس کہانی کو پوری طرح لسانی مسئلہ بنانے کے لیے جو کچھ ممکن تھا وہ سب پورے جی جان سے کرتے رہے۔
عامو کے ساتھ مل کر جب مون کی تلاش شروع ہوئی۔ اس کے گھر گئے اس کے دفتر پہنچے۔ عادی عاشق لوگ کتنے سیانے ہوتے ہمارے ایک لفظ بھی بولے بغیر مون کو تار آ گئی۔ اس نے شہلا کو میسج کیا کہ وسی بابے کو تم نے میرے پیچھے بھیجا۔ شہلا نے اسے کوئی جواب نہ دیا میسج البتہ ہمیں فاروڈ کر دیا۔ یہ میسج پڑھ کر مون کو ایک میسج کیا کہ یار مل تو سہی۔ وہ ملنے آ گیا اس نے تفصیل سے اپنا قصے سنائے۔ اچھی ٹپس دیں کہ کیسے آدھی درجن چکر اکٹھے چلائے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ کیسے منگنی ہوئی تھی کیسے ٹوٹی ساتھ ہی اطلاع دی کہ اب نئی جگہ منگنی ہو چکی ہے۔
مون تمھیں شہلا سے شادی کرنی چاہیے کرنی ہو گی۔ بھائی نے ڈائیلاگ ہی اتنےجذبے سے بولا تھا کہ مون جھٹ تیار ہو گیا۔ اس نے کہا بس ایک چھوٹا سامسئلہ ہے کہ ایسا کرنے پر اسے گھر والے گھر سے نکال دیں گے۔ یہ سن کر اسے کہا کہ یار کونسا ساری دنیا اپنے گھر میں رہتی ہے۔ آدھی دنیا تو بے گھر ہے۔ اس نے کہا ابا مارے گا، اسے کہا یار تیری حرکتیں ایسی ہیں کہ ہر قسم کا ابا تمھیں ضرور مارتا۔ جب مار کھاتے ہی رہتے ہو تو ایک بار ہمارے لئے کھا اپنی شہلا کے لیے بھی کھا لے۔ مون نے عاجز آ کر شہلا سے فون پر بات کی۔ اس سے کہا کہ اگر مجھے گھر والوں نے نکال دیا تو کیا تم پھر بھی مجھ سے شادی کرو گی۔ شہلا نے کہا کر لوں گی، گھر والوں کو منا لوں گی، نہ مانے تو کورٹ میرج کر لوں گی۔
مون ہمارے سامنے راضی ہو گیا۔ تیاری کرنے کا کہہ کر چلا گیا۔ جانے کے تھوڑی دیر بعد اس نے شہلا کو میسج کیا کہ تم راضی ہو میں راضی نہیں ہوں۔ بس تم سے یہی کہلوانا تھا مجھے میسج کیا کہ یار واپس چلا جا۔ شہلا نے جب فون کیا مون کا پیغام دینے کے لیے۔ دھوکے اور مسترد کیے جانے کہ احساس سے وہ سراپا آگ تھی۔ اس نے کہا کچھ کرو، اسے کہا کچھ نہیں کرنا اب مزید میں نے جب اگلا راضی نہیں تو فائدہ۔ شہلا نے پوچھا کیا کروں تو اسے کہا مشر کہتا ہے کہ جب اپنے ساتھ برا ہو تو پھر اگلے کے ساتھ اتنا اچھا کرنا چاہیے کہ اس کا کبھی کسی کے ساتھ برا کرنے کو دل نہ کرے۔ اب آپ نے اور آگے کیا جاننا ہے شہلا کے ہمارے علاوہ بھی چار واقف تھے نیٹ سے ہی بنے تھے۔ ایسی کاموں میں پھر دل کے کرتوت بندہ اپنی ہڈیوں پر بھگتتا ہے۔ مون نے بھی بھگتے بڑا کٹ کٹاپا ہوا۔ شہلا سے ملے ہوئے مدت ہو گئی ہم پھر بھی بڑے اچھے دوست ہیں۔ یہ کہانی پندرہ سال پرانی ہے تب سائبر ورلڈ اتنی پھیلی نہیں تھی۔ دنیا بدلے زمنے گزر گئے لوگو۔

