جدید تحریر کے کچھ بنیادی اصول


انگریزی اور اردو اندازِ تحریر اور انداز تکلم میں ایک بنیادی سا فرق ہے۔ اردو میں ہم الفاظ کی کثرت کو خوبی جانتے ہیں اور مبالغے سے کام لیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہمیشہ 21 کروڑ عوام کا مطالبہ بن کر صفحے پر اترتا ہے خواہ یہ مطالبہ ہماری گلی کا گٹر صاف کروانے کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہم تحریر پر اپنا نام لکھنا چاہیں گے تو عدنان خان لکھنا کافی نہیں ہے۔ ہم رجب علی بیگ سرور کی اتباع میں اپنی تحریر کے سرورق پر کچھ یوں رقم طراز ہوں گے: ”مصنفہ شاعر باکمال، نثار عدیم المثال، اسوۃ الفصحا، مداح خامس، خودستاں و مقرر جادو اثر و نثار زمان و داستان گوئے شیریں بیان، سخن سنج مصائب خواں، پسندیدہ مجالس امیران و رئیسان، سرآمد اہل فن ،رشک اہل ہنر، جناب عدنان خان صاحب متخلص بہ حیرت بیاں“۔

ہم لکھنے پر آئیں تو جدید دور کے مقبول ترین مصنفین میں سے ایک پاؤلو کوئلو کی سو ڈیڑھ سو صفحات کی کتاب کی بجائے روسی مصنفین از قسم لیو ٹالسٹائی کے ہزار پندرہ سو صفحات کے ناولوں کی اتباع کرنا مناسب جانتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے زمانہ بدل گیا ہے۔ اب نہ تو کسی کے پاس اٹھارہ سو کچھ کا لیو ٹالسٹائی پڑھنے کا وقت ہے اور نہ ہی رتن ناتھ سرشار کا دس بارہ ہزار صفحات پر مشتمل فسانہ آزاد۔

تو صاحبو آئے جدید انداز تحریر کی کچھ بات کر لیں۔ لیکن پہلے تحریر کے ان بنیادی قواعد کا ذکر کرنا مناسب ہو گا جن سے ہمارے نئے لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد بے خبر دکھائی دیتی ہے۔

ہمارے زمانے میں پلے گروپ اور نرسری وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ سیدھا پہلی جماعت میں داخلہ ہوا کرتا تھا۔ پہلی جماعت میں الف ب اور اے بی سی سکھاتے سکھاتے دوسری جماعت میں چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے سکھائے جاتے تھے۔ اس وقت ہمارے اساتذہ جو پہلا اصول بتاتے تھے، وہ یہ تھا کہ جملہ ختم ہو تو اس کے آخر میں فل سٹاپ لگانا لازم ہے تاکہ پڑھنے والے کو پتہ چل جائے اور وہ اگلے جملے سے اسے جوڑ کر کنفیوز نہ ہوتا پھرے۔ اب شاید یہ بات نہیں سکھائی جاتی۔ تیس چالیس برس سے اوپر کے مصنف بھی فن تحریر کے اس بنیادی اصول سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ لکھنے کی بجائے تقریر کر رہے ہیں جس میں فل سٹاپ کی گنجائش نہیں ہوتی بس سننے والا خود فیصلہ کرے کہ کب جملہ ختم ہوا ہے۔

دوسری چیز کوما ہوتی ہے۔ جب کسی جملے کے درمیان توقف دینا ہو، یا کسی خاص جزو پر خاص توجہ دلانی مقصود ہو تو کومے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریز تو کومے کو اتنا زیادہ سیریس لیتے ہیں کہ ”آکسفورڈ کومے“ پر بے شمار کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ہمیں ابتدائی جماعتوں میں یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ ہر لفظ کے بعد کچھ سپیس چھوڑ کر اگلا لفظ لکھنا چاہیے تاکہ تحریر آسانی سے پڑھی جا سکے۔ مصنف اگر بنیادی رموز اوقاف، یعنی پنکچوایشن سے ہی واقف نہ ہو تو اس کے بارے میں اچھا تاثر نہیں ابھرتا ہے۔

ایک زمانے میں ایک استاد نے ہمیں ٹائپنگ سکھانے کی کوشش کی تھی۔ ٹائپنگ کے ساتھ ساتھ کتابت کے کچھ بنیادی اصول بھی بیان کیے تھے۔ ان میں سے ایک اصول یہ تھا کہ ہر کومے کے بعد ایک سپیس ڈالتے ہیں اور ہر فل سٹاپ کے بعد دو۔ کمپیوٹر پر ہماری نستعلیق کمپوزنگ میں ایک خامی یہ ہے کہ اس میں سپیس دکھائی نہیں دیتی۔ بہت سے مصنف الفاظ کے درمیان سپیس نہیں ڈالتے۔ کمپیوٹر پر کمپوزنگ کرتے ہوئے ب، ج، س وغیرہ جیسے حروف اپنے اگلے حرف سے مل جاتے ہیں لیکن د، ر، ڑ، الف وغیرہ جیسے حروف اپنے بعد میں آنے والے حرف سے نہیں ملتے۔ ہمارے بہت سے مصنف کمپوزنگ کرتے ہوئے اگلے حرف سے نہ ملنے کو لفظ کا اختتام قرار دے دیتے ہیں اور سپیس ڈالے بغیر اگلا لفظ لکھ دیتے ہیں۔ نسخ فونٹ میں یہ بات نمایاں طور پر دکھائی دے جاتی ہے کہ سپیس کہاں کہاں ڈالی گئی ہے۔ سپیس ڈالنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ گوگل پر جب کسی لفظ کو تلاش کیا جاتا ہے، تو سپیس کی وجہ سے تحریر کا ہر لفظ الگ سے انڈیکس ہو کر سرچ انجن میں آ جاتا ہے اور آپ کی تحریر سرچ ریزلٹ میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ تحریر ہمیشہ نسخ میں لکھنی چاہیے۔ تحریر مکمل ہونے کے بعد خواہ اسے نستعلیق میں منتقل کر دیا جائے۔

جہاں یہ معاملہ پیش آتا ہے کہ بہت سے مصنف ہر لفظ کے بعد سپیس نہیں ڈالتے، وہاں یہی مصنف ایک کرم فرمائی کرتے ہیں کہ لفظ کے درمیان سپیس ڈال کر اسے توڑ دیتے ہیں۔ سپیس کا درست استعمال کریں اور مستقبل سے مت کھیلیں کہ شاعر کہہ گیا ہے کہ
پہلے اس نے مُس کہا پھر تق کہا پھر بل کہا
اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کر دیے

اب آتے ہیں مختصر نویسی کی طرح۔ جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہوا، ہم مبالغہ پسند کرتے ہیں۔ الفاظ کی کثرت کو خوبی جانتے ہیں۔ جدید انداز تحریر میں کم سے کم الفاظ میں اپنا مدعا موثر انداز میں بیان کر دینے کو خوبی سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر تحریر کا پہلا ڈرافٹ لکھتے ہوئے جو چیز ذہن میں آئے وہ لکھ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کون سا لفظ یا جملہ ایسا ہے جو نکال کر بھی مطلب بخوبی بیان کیا جا سکتا ہے۔ پطرس بخاری ایک بہت بڑے رائٹر تھے۔ انہوں نے اردو کی مشہور ترین کتابوں میں سے ایک ”پطرس کے مضامین“ لکھی جو محض ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے معاصر بتاتے ہیں کہ پطرس ایک ایک جملے پر غور کرتے تھے کہ کون سا لفظ اور جملہ زائد ہے اور اسے نکالنے سے تحریر کا اثر زیادہ ہو گا۔ یوسفی بھی ایک اصول بیان کرتے ہیں کہ کتاب لکھ کر وہ اسے چھے ماہ کے لئے گھڑے میں ڈال کر بھول جاتے ہیں اور اس کے بعد پڑھتے ہیں۔

حالات حاضرہ پر لکھتے ہوئے یوسفی کا گھڑا استعمال کرنا ممکن نہیں۔ مگر پہلا ڈرافٹ لکھنے کے بعد اس پر ایک دو مرتبہ نظر ڈال لینی چاہیے کہ کیا نکالا جا سکتا ہے۔ الفاظ گننے کی عادت دالیں۔ آن لائن ڈیجیٹل دنیا میں مضمون کی آئیڈیل لمبائی 800 الفاظ کی ہے۔ آپ اگر اپنی بات دو تین مرتبہ ایڈٹ کرنے کے بعد 600 سے 800 الفاظ تک لے آنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے آپ کے مضمون کا اثر بھی بڑھے گا اور اسے زیادہ لوگ بھی پڑھیں گے۔ آپ اخبارات میں لکھاری کے طور پر کیرئیر بنانا چاہتے ہیں تو پھر بھی آپ کو الفاظ کی کسی مقرر کردہ حد کے اندر رہ کر ہی بات کرنی ہو گی۔ ورنہ ایڈیٹر آپ کے مضمون کو کاٹ پیٹ کر خود اس حد کے اندر لے آئے گا۔ اور اگر ایڈیٹر کے پاس کاٹنے پیٹنے کا وقت نہ ہوا تو آپ کی تحریر اٹھا کے ایک طرف رکھ دے گا۔ مائیکرو سافٹ ورڈ میں ریویو ٹیب میں جا کر ورڈ کاؤنٹ کا فیچر استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔ یہ ورڈ کاؤنٹ آپ کو ورڈ کی سٹیٹس بار میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

کسی آئندہ مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ متن کو کیسے واضح کیا جائے، کنفیوژن سے کیسے بچا جائے اور کس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے، جملوں کی کاٹ چھانٹ کر کے مختصر کرنے کی مثالیں دی جائیں گی۔
Published on: Nov 1, 2017


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1493 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar