ذیابیطس کے مریضوں میں دانتوں کی دیکھ بھال


لکھاری: ڈاکٹر خدیجہ امان اللہ اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا

شارک مچھلی کے ساری عمر نئے دانت نکلتے رہتے ہیں اور پرانے گر جانے والے دانتوں کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بلا فکر شکار میں اپنے جبڑے استعمال کر سکتی ہیں لیکن انسان شارک مچھلی کی طرح تمام عمر نئے دانت نہیں بناتے۔ انسان میں دانتوں کے صرف دو سیٹ ہوتے ہیں۔ دودھ کے دانت گر جانے کے بعد جو ہمارے دانت ہیں وہ ہی تمام زندگی چلانے ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دانتوں کا علاج ایک ایسا دائرہ ہے جس میں تعلیم، شعور اور بہتر معالجے پر کام کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

بچوں کے جیسے ہی دانت نکلیں اسی وقت سے ان کی دیکھ بھال اور صفائی انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین بچوں کے دانت نکلنے سے پہلے بھی ان کے مسوڑے صاف رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ سال کی عمر کے بعد بچوں کو کپ سے دودھ پلانا چاہیے کیونکہ بوتل سے دودھ پینے سے ان کے دانت خراب ہوتے ہیں۔ بوتل دے کر ان بچوں کو خاموش رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر یہ بچے راحت محسوس کرنے کی ضرورت میں ہوں تو ان کو کھلونے یا چسنی دے کر بہلا نا زیادہ مناسب ہے۔ بچپن سے ہی اگر ٹافی اور چاکلیٹ کے بجائے پھلوں کا استعمال کیا جائے تو یہ صحت مند عادتیں تمام زندگی فائدہ پہنچاتی ہیں۔

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم یا تو انسولین پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے (ٹائپ 1 ذیابیطس) یا انسولین تیار ہوتی ہے مگر وہ زیادہ موثر نہیں رہتی ہے (ٹائپ 2 ذیابیطس) ۔ ذیابیطس کا منہ کی صحت اور معیار زندگی دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دانتوں کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ذیابیطس سے دانتوں کے مسائل اور ممکنہ پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے اس کے جامع اور مکمل علاج کے طریقہ کار اور اس کی بہتر تفہیم کی ضرورت ہے۔

ذیابیطس ایک بہت عام بیماری ہے جس کا سامنا دندان ساز روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دانتوں کی بیماری وہ پہلی علامت تھی جس کی وجہ سے کچھ مریضوں میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔ دانتوں کے تمام نئے مریضوں سے ان کے ذیابیطس کے کنٹرول اور علاج کے بارے میں پوچھ گچھ کی جانی چاہیے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں مسوڑھوں کی بیماری کا امکان ان افراد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے جو ذیابیطس میں مبتلا نہیں ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کے تمام مریضوں کے لیے دانتوں کے مکمل چیک اپ کو معمول کے صحت کے معائنے کا حصہ بنا نا چاہیے۔ یہ مریض زیادہ شدت کے ساتھ پیریڈونٹل یعنی دانتوں کے ارد گرد مسوڑھوں کی بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اگر خون میں شوگر کی مقدار نارمل سے زیادہ ہو تو اس کی وجہ سے مختلف بیماری پھلانے والے بیکٹیریا اور فنگس پھلتے پھولتے ہیں اور اگر جسم میں کہیں بھی انفلامیشن کے ساتھ سوجن اور تکلیف موجود ہو تو اس کی وجہ سے شوگر کا کنٹرول بگڑ جاتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ مسائل ایک دوسرے پر نظر انداز ہوتے ہیں۔ پیریڈونٹل بیماری کے مریضوں کے علاج کے ذریعے بہتر شوگر کا کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سال میں دو مرتبہ ڈینٹسٹ سے دانتوں کی صفائی اور چیک اپ کروانا ہر شخص کے کیلنڈر پر ہونا چاہیے۔

ہمارے منہ میں اور آنتوں میں بیکٹیریا موجود ہیں جن کو نارمل فلورا کہتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا کھانے کو ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اگر ہم کچھ کھائیں اور دانت اچھی طرح صاف نہ کریں تو اس بچے ہوئے کھانے کے ذرات پر یہ بیکٹیریا دو سے چار اور چار سے آٹھ بنتے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کھانے کے بعد پان کھانے سے منہ اور دانت صاف ہو جاتے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ پان اور چھالیہ کے استعمال سے دانتوں کی بیماری مزید بگڑتی ہے اور منہ میں کینسر کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔

یہ حقائق ذیابیطس کے مریضوں کے لیے جاننا اور بھی اہم ہیں۔ ذیابیطس منہ میں کئی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے جن کی فہرست بہت لمبی ہے۔ مثال کے طور پر ناقص کنٹرول شدہ ذیابیطس کی خصوصیات میں منہ میں زیروسٹومیا کی بیماری، منہ میں جلن کا احساس (جس کا ممکنہ طور پر نیورپتی سے تعلق ہو سکتا ہے ) ، زخم کی خرابی اور اسکا تاخیر سے بھرنا، انفیکشن کے واقعات اور کینڈیڈیسیس فنگس کی بیماری شامل ہیں۔ مسوڑھوں کی بیماری، مسوڑھوں سے خون بہنے، منہ کے زخموں، دانتوں کے گرنے اور بلڈ شوگر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ہائی بلڈ شوگر پھر ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے جو جسم کے لیے مسوڑھوں کی بیماری سے لڑنا مشکل بنا دیتا ہے۔ ہائی بلڈ شوگر کا تعلق دل کی بیماری اور فالج سے بھی ہے۔

مسوڑھوں کی بیماری کھانے کے چھوٹے ٹکڑوں اور بیکٹیریا سے شروع ہوتی ہے جس سے دانتوں پر پلاک بن جاتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ کا ٹوتھ برش یا فلاس آپ کے دانتوں کے درمیان یا آپ کے دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان مخصوص جگہوں تک نہیں پہنچتا ہے۔ اس پلاک کو دیکھنا مشکل ہو تا ہے کیونکہ اس کی رنگت آپ کے دانتوں کی طرح ہی ہو تی ہے۔ پلاک کے نتیجے میں مسوڑھوں میں سوجن ہوجاتی ہے جس سے بعض اوقات خون بھی نکل سکتا ہے۔

مسوڑھوں کی اس قسم کی بیماری کو مسوڑھوں کی سوزش کہا جاتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ دانتوں کی اچھی صفائی کو برقرار رکھنے سے مسوڑھوں کی سوزش دور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر دانتوں کی صفائی برقرار نہ رکھی جائے تو مسوڑھوں کی سوزش ایک شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے جسے پیریڈونٹائٹس کہتے ہیں جو گھر پر دیکھ بھال سے کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ اسے دانتوں کے ڈاکٹر کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسوڑھوں کی سوزش اس وقت پیریڈونٹائٹس بن جاتی ہے جب مسوڑے دانتوں سے ہٹ جاتے ہیں اور دانتوں اور مسوڑھوں کے در میان جیبیں بن جاتی ہیں۔

یہ جیبیں انفیکشن کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہمارا مدافعتی نظام اس بیکٹیریا سے لڑنے اور انفیکشن کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ جبڑے کی ہڈیوں اور دانتوں کے گرد نرم مسوڑھوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ دانتوں کے ڈاکٹر سے اس کا علاج نہیں کروائیں تو وقت کے ساتھ دانت گرنے کی نوبت تک آ سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں مسوڑھوں کی بیماری دانتوں کی سب سے عام بیماری ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور وہ اپنے منہ میں حملہ کرنے والے یا قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا سے لڑنے کے قابل نہیں ہوتے۔ مسوڑھوں کی سوزش اور پیریڈونٹائٹس سمیت تمام انفیکشنز بلڈ شوگر کے بڑھنے کا سبب بنتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کا علاج بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے اور اسے خراب ہونے سے روکتا ہے۔

دانتوں کے چیک اپ کے وقت ذیابیطس کے مریض سے کچھ سوالات پوچھے جانے چاہیے۔ آیا ان کی ذیابیطس اچھی طرح سے کنٹرول میں ہے؟ ان کا ہیموگلوبن اے ون سی کیا ہے؟ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی دانتوں، مسوڑھوں اور منہ کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز رکھ کر بہت سی سنجیدہ بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے جن میں کینسر سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ چائے، کافی اور سرخ شراب سے دانتوں پر دھبے بھی پڑتے ہیں۔ اسی لیے صحت مند کھانے اہم ہیں اور پانی سب سے بہترین مشروب ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے دن میں کم از کم دو بار اپنے دانتوں کو اچھی طرح صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ ان مریضوں کو دانتوں کی صفائی کے لیے خصوصی ڈینٹل برش استعمال کرنا چاہیے۔ برش کو دانتوں کے درمیان سے گزارا جاتا ہے اور نرمی سے 10 سے 15 بار اندر اور باہر کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے زیادہ تر مریض یہ نہیں جانتے کہ ان کے مسوڑھوں کی بیماری اور ذیابیطس کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ مسوڑھوں کی بیماری اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید جاننے کے لیے باقاعدگی سے اپنے دانتوں کے ڈاکٹر سے ملیں۔

انہیں اپنے دانتوں کی صفائی کے لیے ٹوتھ برش کے صحیح استعمال کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے۔ دانتوں کا برش دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان رکھنا چاہیے اور اسے آگے اور پیچھے کی سمتوں میں مختصر، تیز حرکتوں میں منتقل کرنا چاہیے اور پھر دانتوں کے بیرونی کنارے کو برش کرنا چاہیے۔ روزانہ صبح و شام فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ سے برش کرنا چاہیے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان جہاں ٹوتھ برش نہیں پہنچ سکتا وہاں پوشیدہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کو دور کرنے کے لیے روزانہ فلاس کرنا ضروری ہے۔

مریضوں کو آگاہ کیا جانا چاہیے کہ دانتوں کی کاٹنے والی سطحوں کو برش کرنا بہت ضروری ہے۔ آخر میں، یہ ضروری ہے کہ اپنی زبان کو باہر نکالیں اور اس کی سطح پر برش کریں، خاص طور پر جہاں دانت مسوڑھوں سے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ منہ کی چھت کو بھی صاف کرنا ضروری ہے کیونکہ اس پر بھی بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو سوتے میں دانت چبانے کا مسئلہ ہوتو ان کو پلاسٹ کا بنا ہوا ماؤتھ گارڈ پہن کر سونا چاہیے۔

اگر آپ نقلی دانت پہنتی ہیں تو انہیں ہر روز صاف کریں۔ صحت مند دانتوں کو برقرار رکھنے کے لیے تازہ پھل اور سبزیاں جیسی غذاؤں کا انتخاب کریں۔ فلورایڈ پانی پئیں۔ دانتوں کا باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں تاکہ آپ کے دانتوں کے ڈاکٹر مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی علامات کو دیکھ سکیں۔ ہر چھ ماہ بعد اپنے دانتوں کے ڈاکٹر سے ملیں۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ذیابیطس اور آپ کے دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی انتباہی علامات جیسے سانس کی بو، منہ میں بد ذائقہ اور مسوڑھوں سے خون بہنے سے آگاہ ہونا آپ کو علاج کروانے اور ذیابیطس کی سنگین پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ اقدامات کریں اور آپ اپنے دانتوں کی بہتر صحت کی طرف گامزن ہو جائیں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments