سندھ کی سیکولر ثقافتی مزاحمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ میں سیاسی تحرک کی تاریخ تو برِصغیر کی سیاسی تاریخ میں 19ویں صدی سے نمایاں رہی ہے۔ انگریزوں نے 1843ء میں سندھ پر قبضہ کیا۔ 1847ء میں سندھ کو بمبئی پریزیڈسی میں شامل کیا گیا تو سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک کا آغاز ہوا۔ پاکستان کے قیام کے بعد ملک میں حقیقی وفاقی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بھی سندھ سیاسی جدوجہد کے میدان میں بہت آگے رہا۔ ون یونٹ کے خلاف سندھ کے ادیبوں٬ شاعروں٬ دانشوروں٬ نوجوانوں اور سیاسی کارکنان کی جدوجہد ماضی قریب کی سیاسی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ سندھ میں گذشتہ ایک دہائی سے ایک مرتبہ پھر ثقافتی اور ادبی تحرک اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سندھ کو ادبی٬ فکری اور ثقافتی تحرک اور ڈسکورس میں ملک کے دیگر صوبوں اور گروہوں یا قومیتوں میں سبقت حاصل ہے۔ جس نے نئی نسل کو بڑی حد تک نہ صرف متاثر کیا ہے بلکہ ان کو سیکولر سرگرمیوں میں مصروفِ بھی رکھا ہے۔

اس حوالے سے کراچی میں سندھ لٹریچر فیسٹیول دوئم کی کامیابی پورے سندھ کے لیے ایک انتہائی حوصلہ بخش واقعہ ہے۔ یہ ایک انتہائی کامیاب٬ خوش آئند اور سندھ اور سندھیوں کے لئے ایک نئی شناخت کی حامل سرگرمی تھی٬ جس میں مصنفین٬ شعراء اور کارکنان کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ اس سرگرمی میں وہ سب کچھ تھا٬ جو کہ ہم اپنے معاشرے میں دیکھنا چاہتے ہیں٬ یعنی روشن خیالی٬ سیکولر سوچ٬ زبان سے محبت کا تخلیقی اظہار٬ ادب٬ سیاست اور سماج کے بارے میں تنقیدی اور تجزیاتی بحث مباحثے٬ موسیقی٬ رقص٬ مصوری اور فنونِ لطیفہ کے تمام رنگ اور سب سے اہم بات کہ نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ کر کے انہیں تخلیقی اور مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کا ایک شاندار موقع۔ سندھ لٹریچر فیسٹیول روشن خیال٬ سیکولر اور انسان دوست سندھ کے خواب کا ایک چھوٹا سا عکس ہے۔ اس کی ایک کامیابی یہ بھی تھی کہ یہ فیسٹیول لسانی یا قومیتی تنگ نظری سے پاک تھا۔ مختلف زبانیں بولنے والے اور دیگر قومیتوں یا لسانی گروہوں سے منسلک ادیب٬ صحافی٬ سیاستدان اور دانشور بھی بحث مباحثے کا اہم حصہ رہے۔ سندھ کا یہ ظرف اور روشن خیالی ہر فورم پر قائم  رہنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر قسم کی تنگ نظری ہمیں تنہائی اور منفیت کی دلدل میں دھکیل دے گی۔ روشن خیالی اور انسان دوست سیکولر سوچ ہمیں ترقی کے وسیع میدان فراہم کرے گی۔

سندھ میں عام تاثر ہے کہ سندھی سماج میں اب مزاحمتی جوہر باقی نہیں رہا۔ میں اس خیال سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ معاشرہ حالات کی نسبت سے اپنی مزاحمتی صورتیں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ آمریتوں میں مزاحمت کی جو شکل ہوتی ہے ان کا آئینی اور سیاسی ادوار پر اطلاق یکساں نہیں ہو سکتا۔ میں سندھ کے اندر پروان چڑھتے ہوئے ثقافتی٬ ادبی اور فکری تحرک کو بھی موجودہ حالات میں سندھیوں کی مضبوط پرامن مزاحمت کی ایک شکل سمجھتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ سندھ کے سماج کو بیک وقت پرامن سیاسی اور سماجی مزاحمت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پرامن ہمہ گیر مزاحمت کے حوالے سے میری نظر میں پاکستان کی تاریخ میں بنگالیوں کے علاوہ کوئی اور قومیت یا صوبہ سندھ کا مدمقابل نہیں۔ بلوچستان میں مزاحمت کی شکل زیادہ تر پرامن نہیں٬ اس کا احترام تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے سندھ کی مزاحمت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ دونوں کے محرکات٬ میدان اور شکلیں مختلف ہیں۔

موجودہ حالات میں سندھ کے مختلف مثبت مظاہر کو سمجھنا ضروری ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ ہر چیز میں منفی پہلو تلاش کرنا٬ ہر چیز کو رد کرنا٬ ہر کام میں سے عیب نکالنا اور چوبیسوں گھنٹے خود مذمتی کے رویے ہمارے سماج کے اندر حوصلہ افزائی کے لیے دو دہائیوں سے انتہائی مہلک ثابت ہوئے ہیں ۔اب اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام اندرونی کمزوریوں اور جزوی یا بڑی ناکامیوں کے باوجود مجموعی طور پر سندھی سماج کا دامن کامیابیوں سے خالی نہیں۔ ضرورت صرف انہیں دیکھنے٬ سمجھنے اور ان میں سے سماج کے لیے مزید حوصلہ افزائی حاصل کرنے کی ہے۔ اس حوالے سے سندھیوں کی بہت بڑی مگر نظر نہ آنے والی درج ذیل کامیابیوں پر غور کرنا چاہیے۔

  • 1955ء میں ون یونٹ کے قیام اور ملک کے تمام دساتیر میں قومیتوں کے وجود سے انکار کے باوجود سندھی اپنےقومی تشخص اور وجود کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں اب سندھیوں کے قومیتی اور تاریخی وجود کی بقا کو اتنا خطرہ لاحق نہیں۔ بہت زیادہ خطرہ تو ہمارے اداروں٬ وسائل٬ انفرادی آزادیوں٬ انسانی حقوق٬ صنفی مساوات٬ معاشی وسائل اور محنت کش طبقات کے لیے سماجی انصاف کے تقاضوں کو ہے۔ سندھی مجموعی طور پر وجود کے خطرے یعنی Existential Threat سے باہر آ چکے ہیں۔ اب اکیسویں صدی میں اتنے بڑے متحرک سماج کے قومیتی وجود کو کوئی کیونکر مٹا سکتا ہے؟ ایسا بھی نہیں کہ سندھیوں نے اپنے وجود کی جنگ صرف ون یونٹ کی ڈ یڑھ دہائی کے دوران لڑی بلکہ سندھیوں نے یہ جنگ لاتعداد نظر آنے والی اور بظاہر نظروں سے اوجھل میدانوں پر روزانہ اور ہر لمحے لڑی ہے اور بدستور لڑ رہے ہیں۔ اب قومیتوں کے وجود کے منکر ریاستی نقطہ نظر اور دساتیر کے باوجود سندھیوں کا قومی اور تاریخی وجود ایک ایسی حقیقت بن گیا ہے جس کا انکار کرنے کی جرات اب کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ سندھ کی بظاہر کمزور قومی جدوجہد اور مجموعی طور پر معاشرے کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
  • پاکستان کی ریاست نے ہمیشہ سندھی زبان کا انکار کرتے ہوئے اس کا راستہ روکنے اور اسے دھتکارنے کی کوشش کی ہے۔ سندھی زبان کے ساتھ اس ریاستی جبر کے باوجود سندھی زبان اکیسویں صدی میں قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب شاید سندھی زبان ریاست کی محتاج نہیں رہی۔ کیوں کہ جس زبان کو اتنا وسیع٬ زندہ اور متحرک سماج حاصل ہو اور وہ جدید ڈیجٹل اور سائبر دور میں داخل ہو چکی ہو٬ اسے مٹانا ناممکن ہے۔ ہم جب سندھی زبان سمیت پنجابی٬ بلوچی٬ سرائیکی٬ پشتو اور دیگر زبانوں کی قومی حیثیت کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سندھی زبان کی قومی حیثیت کو کوئی خطرہ لاحق ہے بلکہ یہ مطالبہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ ملک کے اندر واحد زبان کی لسانی اور ثقافتی اجارہ داری ختم ہو سکے اور ملک حقیقتاً وفاقی حیثیت اور کردار کا حامل ہو سکے۔ جب کہ اردو کو بدستور ملک میں تمام صوبوں اور آبادیوں کے درمیان رابطے کی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔
  • سندھیوں کے شہر تقسیمِ ہند کے بعد گویا عملی طور پر چھین لیے گئے تھے اور سندھی عوام ہمیشہ اس خوف کا شکار رہے کہ کیا ان کی اپنے تاریخی شہر وں میں واپسی ممکن ہوگی؟ ظاہر سی بات ہے کہ سندھ کے بڑے شہروں کو 1947ء سے پہلے والے دور میں تو داخل نہیں کیا جا سکتا اور پوری دنیا میں کراچی جیسے بڑے شہر قومی٬ لسانی اور ثقافتی حوالے سے ہمہ گیر نوعیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن آج کراچی اور حیدرآباد میں سندھیوں کی اہم ترین حیثیت تسلیم ہو چکی ہے۔ جہاں پر نہ صرف سندھی کثیر تعداد میں رہتے ہیں بلکہ ان کا شہر کے سماجی٬ ثقافتی اور معاشی امور میں اہم کردار ہے۔ بالخصوص کراچی میں سندھیوں کا ہمہ گیر تحرک جتنا زیادہ وسیع اور تیز ہوگا اس کا مجموعی طور پر سندھیوں کی قومیتی اور تاریخی حیثیت اور شہروں کی مالکی کے عمل کو فائدہ ہوگا۔
  • سندھیوں کے لیے کئی دہائیوں سے کہا جا رہا تھا کہ کہ وہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں٬ ماضی کی نسبت سے یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی٬ کیونکہ زرعی سماج کے سفید پوش سندھیوں کو صدیوں سے ہجرت یا نقل مکانی کی عادت نہیں تھی لیکن گذشتہ تین دہائیوں سے سندھیوں نے اس تاثر کو عملی طور پر برعکس ثابت کر دیا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں سے کم از کم ایک کروڑ سندھیوں نے اپنے روایاتی دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے نقل مکانی کی ہے۔ جو دیہاتوں میں تھے وہ ایک حد تک چھوٹے شہروں میں آ گئے اور جو چھوٹے شہروں میں تھے ان کی اچھی خاصی تعداد بڑے شہروں میں مقیم ہے۔ سندھیوں کی خاصی تعداد امریکہ٬ یورپ٬ برطانیہ٬ دبئی٬ سعودی عرب٬ اسلام آباد٬ لاہور اور دیگر شہروں میں آباد ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ہی ماضی کی نسبت بیرونِ ممالک خواہ اسلام آباد اور لاہور میں سندھیوں کا متحرک کردار وسیع ہوا ہے۔ کراچی میں سندھی ثقافتی اور ادبی لحاظ سے شاید اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ اسلام آبادمیں ہر سال بڑے ادبی اور ثقافتی اجتماع ہوتے ہیں۔ امریکہ٬ یورپ٬ متحدہ عرب امارات ٬ ہندوستان اور دیگر بین الاقوامی شہروں میں سندھیوں کے سالانہ ادبی٬ ثقافتی اور سماجی اجتماع اب بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہو چکے ہیں٬ جن میں سانا٬ ورلڈ سندھی کانگریس اور سندھی ایسوسی ایشن آف یورپ خاص طور پر اہم ہیں۔ اب شاید سندھیوں کی عالمگیریت کے عمل کو کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ ایک تاریخی عمل ہے۔ میں اس مظہر کو سندھیوں کی تاریخ کے بے رحم حقائق کے خلاف پرامن مزاحمت کی ایک مضبوط شکل سمجھتا ہوں۔
  • قیام پاکستان کے بعد سندھیوں کے پاس اظہارِ آزادی کی راہیں محدود اور زیادہ تر بند یا تنگ تھیں۔ ون یونٹ کے دور اور اس کے بعد مسلسل سندھیوں نے اس ملک میں جتنے اظہار کی آزادی کے میدان حاصل کیے ہیں اس کی مثال پاکستان میں تو بالکل کم ہے۔ سندھیوں کے پاس آج مضبوط سندھی میڈیا ہے٬ جو کہ پیشہ ورانہ کمزوریوں کے باوجود اپنے مجموعی جوہر میں سندھ دوست٬ عوام دوست٬ روشن خیال اور سیکولر سوچ کا حامل ہے۔ سندھیوں کا سماجی میڈیا میں بھی اپنے تمام منفی رویوں کے باوجود انتہائی موثر کردار ہے٬ جس کا اب سیاسی٬ سماجی٬ ثقافتی٬ طبقاتی اور قومی استعمال بھی سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ سندھ کے ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی گروہ چاہے کوئی بڑی عوامی تنظیمی صورت اختیار نہ سکے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھیوں کے نقطہ نظر کو ملکی سطح پر پیش کرنے اور سندھیوں کے قومی حقوق کی حفاظت میں ان کا موثر کردار ہے۔ مجموعی طور پر سندھ ایک بولتا ہوا سماج ہے٬ جس کی اواز کی اہمیت اب ملکی اورایک حد تک بین الاقوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے۔
  • سندھیوں کے لیے بڑے عرصے تک یہ ایک اہم چیلنج رہا کہ ملکی سطح تو دور، سندھ کی سطح پر بھی بالخصوص کراچی میں انہیں مطلوبہ اسپیس نہیں ملتا تھا یا جان بوجھ کر نہیں دیا جاتا تھا۔ تنگ نظر اور تعصب میں ڈوبے حلقوں نے سندھیوں٬ سندھی زبان٬ ان کے ادیبوں٬ مصنفین٬ شعراء٬ سیاستدانوں یا نوجوانوں کو کبھی بھی وسیع تر دھاروں میں شامل نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول جیسے شاندار پروگرام میں بھی سندھیوں کو شکایت رہی کہ سندھی زبان اور مصنفین کو مطلوبہ سطح کی نمائندگی نہیں دی جاتی۔ گویا قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کی شہری زندگی نے سندھیوں کو مطلوبہ اہمیت کبھی نہیں دی۔ گذشتہ چند برس سے کراچی میں سندھیوں کا معیاری سیاسی٬ ثقافتی٬ ادبی اور فکری تحرک اتنی بڑی قوت کے ساتھ سامنے آیا ہے اور اس کا اتنا اثر ہوا ہے کہ اب سندھی کراچی میں اسپیس نہ ملنے کے احساس سے باہر نکل آئے ہیں۔ کراچی آرٹس کاؤنسل میں ہونے والے سندھیوں کے بڑے اجتماع اور ایس ایل ایف جیسے پروگرام اس کا ثبوت ہیں۔ سندھیوں کی یہ کامیابی کوئی معمولی نہیں۔
  • زرعی سماج سے وابستہ ہونے اور بے حد محدود اور کمزور ملازمت پیشہ متوسط طبقہ ہونے کے باعث سندھی طویل عرصے سے حصولِ روزگار کے لیے مخصوص شعبہ جات تک محدود رہے٬ اس لیے ان کا انسانی سرمایہ بھی محدود رہا۔ گذشتہ تین دہائیوں سے اس ضمن میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ سندھی عوام اور بالخصوص موجودہ دور کے نوجوان ہر شعبے میں موجود ہیں اور بدستور شامل ہو رہے ہیں۔ کراچی میں پہلے مواقع محدود ہونے کے باعث سندھی صرف ملازمتوں کے لیے محدود سطح پر جاتے تھے لیکن اب سندھی محنت کش بلکہ کاروباری طبقہ بھی بڑے پیمانے پر کراچی جاتا ہے اور مسلسل جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کراچی میں سندھیوں کی مجموعی قوت٬ حیثیت اور کردار میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے٬ جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ سندھی سماج کا پیشہ ورانہ شعبوں میں اور ہر سطح پر داخل ہونا زرعی سماج سے شہری سماج کی طرف بہت بڑی پیش رفت ہے۔
  • سندھی سماج میں خواتین سے تعصب ٬ نفرت٬ ظلم٬ تعصب اور ناانصافی کی جاہلانہ روایات کے ساتھ ساتھ گذشتہ چند دہائیوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ تعلیم کا نظام تباہ حال ہونے کے باوجود سندھی لڑکیوں کی بڑی تعداد تعلیم میں آگے آئی ہے۔ سندھی ورکنگ وومین کی تعداد بھی کافی حد تک بڑھی ہے۔ اس حوالے سے سندھی لڑکیوں اور خواتین کو اب بھی رکاوٹوں اور سماجی زنجیروں کا سامنا ہے لیکن ہمیں اس طرف زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ کیوں کہ ایک متوازن٬ روشن خیال اور جدید سندھ کے لیے پہلی شرط ہی ہمارا لڑکیوں اور خواتین کی طرف رویہ ہے۔ ایک بات طے شدہ ہے کہ یہ روایتی رکاوٹیں ان کے آگے زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکیں گی٬ اگر روایتی تنگ نظری کے پاس پسماندہ سماج کی باقیات ہے تو سندھ کی خواتین کے پاس اکیسویں صدی ہے٬ جو کہ ان تمام دیواروں کو گرانے کی صدی ہے اور سندھی خواتین ان دیواروں کو گرانے کی پوری قوت رکھتی ہیں۔
  • دیہات ہماری قوت ہیں اور دیہاتوں سے وابستہ ہونا کوئی کمتری نہیں لیکن متعصب گروہ ہمیشہ سندھیوں کو پسماندہ٬ تنگ نظر٬ کارو کاری کے نام پر خواتین کا قتل کرنے والے اور دیہاتی ثابت کرنے میں پیش پیش رہے۔ جس سندھ کے شہر شکارپور کا ذکر کارل مارکس نے انیسویں صدی میں کیا تھا٬ اسے محض دیہاتوں کا مجموعہ ہونے تک محدود کردیا گیا٬ جس کا مطلب یہ تھا کہ سندھی نہ تو شہری ہیں اور نہ ان کے لیے شہروں میں کوئی جگہ ہے۔ مجھے کراچی میں رونما ہونے والے ہمہ گیر تحرک کا ایک انتہائی حوصلہ بخش پہلو یہ بھی نظر آتا ہے کہ ان سے سندھیوں کا ایک جدید٬ روشن خیال٬ سیکولر٬ انسان دوست٬ ادب دوست٬ فن دوست اور دوسروں کواپنے ساتھ لے کر چلنے والے ایک مہذب سماج کا تاثر پختہ ہوتا ہے۔ جب ایسے پروگراموں میں رضا ربانی٬ اعتزاز احسن٬ عاصمہ جہانگیر٬ حامد میر٬ وسعت اللہ خان٬ نازش بروہی٬ اطہر عباس٬ محمد حنیف اور پرویز ہودبھائی جیسے لوگ آکر سندھ کا روشن خیال چہرا دیکھتے ہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ایک طرف یہ جاگیردارانہ سندھ کو روشن خیال سندھ کا جواب ہے تو دوسری جانب سندھیوں کے بارے میں غلط مفروضات پھیلانے والی بدنیت قوتوں کو بھی سندھ کا جدید اور روشن خیال چہرہ پیش کیا جاتا ہے۔ سندھ کی دانشور اور منفرد تخلیق کار نورالہدیٰ شاہ سے میرا اس حوالے سے اکثر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے اور وہ بھی سندھیوں کے اس ہمہ گیر تحرک کو وسیع تناظر میں دیکھتی ہیں۔ سندھیوں کو اکیسویں صدی میں اس کے عالمی٬ سماجی٬ فکری٬ سیاسی اور شہری تقاضوں کے مطابق اپنی نئی شاخت پیدا کرنا ہوگی اور سندھیوں کا یہ تحرک اس ضمن میں بڑی پیش رفت فراہم کرتا ہے٬ جس کا دائرہ مزید وسیع ہونا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اوپر بیان کی گئیں تبدیلیاں آسمان سے ازخود نہیں ٹپکیں بلکہ سندھی سماج کی ہمہ گیر روشن خیال٬ ترقی پسند٬ وطن دوست٬ عوام دوست اور انسان دوست جدوجہد اور مسلسل مزاحمت ہی کا ثمر ہیں، جن پر ہمیں نہ صرف بجا طور پر فخر کرنا چاہیے بلکہ ان کے دائرے اور اثر کو مزید وسعت بخشنی چاہیے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سندھیوں کی اس روشن خیالی٬ تنوع کے احترام اور وسیع تر سیکولر جمہوری جدوجہد نے ملک میں حقیقی وفاقی نظام اور فلاحی ریاست کے تصور کو استحکام بخشا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ [email protected] [email protected]

jami-chandio has 8 posts and counting.See all posts by jami-chandio