ایک مرتبہ پھر ون یونٹ بنانا ایک سانحہ ہو گا
پاکستان کے کسی بھی گوشہ سے اٹھتی پاکستان مخالف آوازیں جو حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں موجود بھی ہیں اور المیہ بھی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسی آوازیں اٹھنے کے محرکات کیا ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ماضی کی ورق گردانی کرنی پڑے گی۔ قیام پاکستان برطانوی ہند میں یونین جیک کے لپٹنے کی صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ وطن عزیز کے قیام کے وقت اس حوالے سے مختلف آراء موجود تھیں۔ غفار خان، عبدالصمد اچکزئی، جی ایم سید اور بہت سارے دیگر سیاسی زعماء کی رائے مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ ایک صفحے پر موجود نہیں تھی۔ خیال رہے کہ زعماء کی رائے آپس میں بھی مکمل طور پر ایک نہیں تھی۔
وطن عزیز بالکل درست وجوہات کی بناء پر دنیا کے نقشے پر ابھر آیا اور سیاست کی جہات میں بھی بنیادی تبدیلی آ گئی۔ اب یہ مسئلہ درپیش نہیں تھا کہ انگریز کو کیسے نکالا جائے بلکہ معاملہ یہ سامنے تھا کہ پاکستان کو کن خطوط پر چلایا جائے۔ پاکستان کے قیام سے قبل نئی مملکت کی جغرافیائی حد بندی کا علم نہیں تھا اس لئے آئین پر اس وقت کوئی کام ہونا نا ممکن تھا۔ اس دوران پاکستان کی مخالفت کرنے والے مذہبی نوعیت کے سیاست دان مذہب کے نام پر پاکستان کے مامے بن گئے۔ جبکہ پھولوں کی طاقت کے ذریعے ان دیکھی حکومت قائم کرنے کی خواہش رکھنے والے چاچے کا روپ دھار گئے۔ اور پاکستان میں وحدت مغربی پاکستان یعنی ون یونٹ کا شوشہ چھڑوا دیا گیا۔ کیونکہ ان کی نظر میں پاکستان کے انتظام کے لئے یہ بہترین طریقہ کار تھا اور یہی وہ وقت تھا جب قوم پرستی کے نام پر سیاست کرنے والے سیاسی زعماء کے ہاتھ میں اس سوچ کی مخالفت کا نعرہ ہاتھ آ گیا۔
خیال رہے کہ میں یہ ہرگز دعویٰ نہیں کر رہا کہ یہ سیاسی زعماء کوئی پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس کی مخالفت کر رہے تھے بلکہ میرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر وطن عزیز کے قیام کے فوراً بعد یہاں بسنے والی مختلف اقوام کی نفسیات اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے آئین سازی کی طرف بڑھا جاتا تو قوم پرستی کی بنیاد پر سیاست کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ غفار خان، عبدالصمد اچکزئی، جی ایم سید وغیرہ اس وقت پاکستان کی مخالفت کی بجائے پاکستان میں وحدانی طرز حکومت قائم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کر رہے تھے۔ ون یونٹ کو نافذ کرنے کی طرف بڑھتے قدموں کو روک رہے تھے۔
بیان کرتا چلوں کہ وحدانی طرز حکومت سے مراد یہ ہے کہ تمام اختیارات مرکزیت کا شکار ہو اور اگر کسی نوعیت کے یونٹ موجود بھی ہیں تو از خود کسی اختیار کے مالک نہ ہوں۔ ایسی صورت میں یہ حقیقت تھی اور آج بھی ہے کہ پاکستان میں موجود مختلف صوبوں کی اپنی اپنی زبانیں، حق ملکیت اور حکومت تہذیبی روایات، تاریخ اور مختلف مفادات کے ملیا میٹ ہونے کا خدشہ بجا طور پر موجود تھا۔ ورنہ یہ اصحاب پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا ببانگ دھل اعلان کر رہے تھے۔
پاکستان کے قیام کے چند ماہ بعد نارتھ ویسٹرن ہوٹل میں غفار خان نے اپنے چند ہم خیالوں کو اکٹھا کیا۔ ایک اعلامیہ جاری کیا اور قوم پرستوں اور سوشلسٹوں پر مشتمل حزب اختلاف ” پیپلز پارٹی“ بھی قائم کی۔ اس اکٹھ میں جہاں غفار خاں، عبدالصمد خان، شیخ عبدالمجید اور جی ایم سید شامل تھے وہیں پر پنجاب سے شیخ ظہیر الدین اور منشی احمد الدین بھی اس کے روح رواں تھے۔ اس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ”سب سے پہلے ہم اس بات کا واضح اظہار کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کی حفاظت اور ترقی کے حامی ہیں اور اس بات کو اپنی آئندہ نسل کے لئے پاک ورثہ اور امانت تصور کرتے ہیں۔ اور اس کو شاندار بنانے کے لئے ہم خدمت کرنے اور قربانی دینے میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کرینگے“۔ 23
مارچ 1940ء کی قرار داد کی بنیاد پر پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کی بات کی جا رہی تھی۔ 8 مئی 1948ء کو مسلم کالونی کی جامع مسجد میں غفار خان کی زیر صدارت ”پیپلز پارٹی ” کا پہلا سالانہ کنونشن ہوا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے غفار خان نے کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے تقسیم سے پہلے حالانکہ خدائی خدمتگار اس کو نقصان دہ سمجھ رہے تھے لیکن اب ہم پاکستان کو اسی طرح اپنا ملک سمجھتے ہیں جس طرح ہر ایک محب وطن کو سمجھنا چاہیے۔
لیکن مقتدر قوتوں کے ذہن میں ون یونٹ کی افادیت رچ بس گئی تھی اور واحدانی طرز حکومت کی جانب مغربی پاکستان میں سفر کو تیز کیا جا رہا تھا۔ پاکستان میں واحدانی طرز حکومت قوم پرستی میں جان ڈالنے کے مترادف تھی اور آج بھی ہے۔ لہٰذا جب ون یونٹ کا قیام عمل میں آ گیا تو قوم پرستی میں بھی شدت آتی چلی گئی۔ اور قوم پرست رہنمائی طاقتور ہتھیار سے لیس ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد ہی دیگر سیاستدان بھی اس نظریے پر پہنچ گئے کہ ون یونٹ کے مستقل قائم رہنے سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لیکن اس دوران علاقائیت کے بیج اچھی طرح بوئے جا چکے تھے۔
بہرحال مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے قاضی محمد عیسیٰ کے دستخطوں سے بیان تیار کیا کہ انتہائی غوروفکر اور مغربی پاکستان کے سیاسی ماحول کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ کمیٹی تسلیم کرتی ہے کہ مغربی پاکستان کے ون یونٹ کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔ اس لئے مسلم لیگ ون یونٹ کی مزید حمایت نہیں کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے سیاست دانوں میں بتدریج شعور بڑھ رہا تھا مگر یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان کی باگ دوڑ سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل کر اسٹیبشلمنٹ کے ہاتھوں میں آ چکی تھی۔ اور ون یونٹ کو وہ برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کو یقین تھا کہ اگر عام انتخابات منعقد ہو گئے تو کھیل ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ کیونکہ نیشنل عوامی پارٹی جس میں قوم پرست اور سوشلسٹ تھے وہ مسلم لیگ اور ریپبلیکن پارٹی ون یونٹ کے خاطمے پر اتفاق کرتے نظر آ رہے تھے۔
لیکن مقتدر قوتوں کو اپنی سوچ کو عوامی امنگوں پر بالا دست رکھنا تھا۔ ون یونٹ کو بچانا تھا۔ لہٰذا جمہوریت کو سرخ جھنڈی دکھا دی گئی اور مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ یعنی آمریت کے ذریعے مغربی پاکستان میں وحدانی طرز حکومت کو دوام بخش دیا گیا۔ اور اس رویے کے سبب سے جو ہوا سو ہوا۔ وفاق پاکستان کو صرف سابقہ مشرقی پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مغربی پاکستان میں بھی گہرے گھاؤ لگے۔
خدا خدا کر کے باقی ماندہ پاکستان میں وفاقی پارلیمانی نظام اور آئین تشکیل دیا گیا۔ ماضی کی غلط حکمت عملیوں کے اثرات ابھی واضح تھے۔ ابھی پاکستان میں بسنے والی مختلف قومیتوں کو آئین کی موجودگی کے سبب سے یہ احساس شروع ہو سکتا ہی تھا کہ ان کی ثقافت، تہذیب تمدن اور وسائل کسی تحریری دستاویز کی طاقت کی بدولت محفوظ رکھے جا سکتے ہیں مگر پھر جنرل ضیاء الحق آوارد ہوئے اور انہوں نے آمریت نافذ کی۔ پاکستان میں آمریت کی حکومت قائم اسی واحدانی نظام پر ہو سکتی ہے لہٰذا واحدانی طرز حکومت بمع امریت کے پھر مسلط ہو گیا۔ اور آئین کے تقدس اور اس میں دی گئی یقین دہانیوں کے پرزے اڑا دیے گئے۔
یہی کچھ پرویز مشرف کی آمریت کے لازمی نتائج کے طور پر پاکستان کو بھگتنا پڑا اور سابق فوجی آمر خود تسلیم کر گیا کہ وفاق کمزور ہوا ہے۔ اس ساری تمہیدی گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ بار بار کبھی ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہونے کی خبروں کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو کبھی مارشل لاء کی آمد آمد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یعنی طاقت کے زور پر عملاً ون یونٹ کا دوبارہ نفاذ۔ اگر خدانخواستہ اس نوعیت کا سانحہ ہو گیا تو پھر براہمداغ ہو یا کوئی دوسرا ان کی آواز مزید توانا ہو جائے گی کہ یہ صرف اقتدار چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی یقین دہانی لکھ کر بھی دے دے تو۔ جب چاہیں گے اس معاہدہے کو اٹھا کر ردی میں پھینک دیں گے۔ مسائل ہزار موجود۔ لہٰذا نوجوان نسل کے متاثر ہونے کا امکان بہت۔ فوجی ترجمان نے بہت اچھا کیا کہ مارشل لاء کے امکان کی یکسر نفی کر دی مگر اگر وہ اس نفی کے ساتھ ساتھ ان سیاسی شعبدہ بازوں اور اینکڑوں کو بھی شٹ اپ کال دے دیتے جو خود ساختہ فوجی ترجمان بن کر غیر آئینی نظام آنے کی روز ہوائی اڑا رہے ہوتے ہیں تو آئین کی حاکمیت کا تصور مضبوط ہو جاتا۔ ہاں اگر ان بیانات سے کہی مزہ لیا جا رہا ہے تو المیہ ہے۔

