فلموں میں فحاشی اور معصوم پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاید آپ نے نوٹ کیا ہو کہ فلموں میں بے تحاشا فحاشی ہے۔ غضب یہ کہ چھوٹے بچوں کی فلموں میں ایسے لباس والی خواتین دکھائی جاتی ہیں جن کو دیکھ کر بڑے بھی شرما جائیں۔ بچوں کو تو خیر زیادہ پتہ نہیں چلتا کیونکہ وہ خود یا ان کے چھوٹے بہن بھائی ایک چھوٹی سی چڈی اور بغیر بازؤں کی شرٹ پہنے دن بھر گھومتے ہیں، مگر ان کی نفسیات پر اس وقت کیا اثر پڑتا ہو گا جب وہ ایک پلی بڑھی خاتون کو ایسا لباس پہنے دیکھ کر ونڈر وومن یا ہیرا کا روپ دھارے دشمنوں کی صفیں الٹتے دیکھتے ہوں گے؟ یا ایسے سپر ہیرو کو دیکھتے ہوں گے جو پاجامے کے اوپر چڈی پہنتا ہے؟ بہرحال ان بچوں کے بزرگ ان کو یہ فلمیں دکھانے خود لے کر جاتے ہیں۔

بچوں کا تو پتہ نہیں مگر ان بزرگوں پر ایسے لباس کا نہایت برا اثر پڑتا ہے۔ بہرحال وہ سینما میں یہ سوچ کر دیکھ لیتے ہیں کہ ساری انگریزنیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، کیونکہ پاکستانی سینما میں لگنے والی تمام انگریزی فلموں میں ہیروئنیں ایسا لباس پہنتی ہیں جس میں ان کی ٹانگیں اور بازو عریاں دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ ایسی کسی فحاشی کی وجہ سے کسی مشتعل ہجوم نے سینما پر حملہ کیا ہو اور اسے جلانے کے علاوہ اس پر لگے تمام پوسٹر لوٹ کر گھر لے گیا ہو۔ الٹا پاکستان بھر کے ہر شہر میں تو ایسے سینما بھی مشہور ہو جاتے ہیں جہاں کچھ دیر کے لئے وہ مناظر چل جاتے ہیں جو ہمارے غیرت مند عوام کسی قیمت پر برداشت نہیں کرتے۔ علاقے کے غیرت مند لوگ اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں کہ ادھر اچھی فلم نہیں چل رہی ہے اور وہ دوست عین الیقین کی خاطر بلیک میں ٹکٹ خرید کر برائی دیکھتے ہیں تاکہ اس کی مذمت کر سکیں۔

یاد پڑتا ہے کہ 1956 میں لاہور میں ہی رسوائے زمانہ فلم بھوانی جنکشن بنی تھی جس میں ایو گارڈنر نامی ادکارہ نے نیم عریاں حلیے میں فلم بندی کرائی تھی۔ نہ جانے اس زمانے میں پاکستان میں غیرت کی کمی تھی یا انگریز کا رعب ابھی باقی تھا، کہ کسی نے اس پر حملہ نہ کیا، محض بری نظر ہی ڈالی۔ یا ممکن ہے کہ مہمان سمجھ کر برداشت کر لیا ہو۔ آخر ہماری مہمان نوازی کی روایات بھی تو زمانے میں مثال ٹھہری ہیں۔

ہندوستانی فلموں میں بھِی ہم شاید یہ سوچ کر ہیروئن کا ہر طرح کا لباس قبول کر لیتے ہیں کہ چلو کفار ہیں، ان کا کیا ہے۔ جیسا چاہیں پہنے۔ قابو آ گئیں تو لونڈیاں ہی بنیں گی اور لونڈی کے ستر کے احکامات ویسے ہرگز بھی نہیں ہیں جیسے ایک آزاد عورت کے ہیں۔ وہ آزاد ہیں، جو چاہیں پہنیں یا نہ پہنیں۔ ہم سینما میں صرف اس لئے ان کی فلمیں دیکھنے جاتے ہیں تاکہ ممبئی پر ہم پاکستانی مجاہدین کے قبضے کے وقت ہر فرد کو پہلے ہی پتہ ہو کہ اس کے حصے میں کیسی لونڈی آئے گی۔

پنجابی فلموں کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ پوسٹروں پر یقین کیا جائے تو نہایت اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ ہماری پنجابی ہیروئن کسی طرح بھی انگریزی فلموں کی ہیروئن سے کم نہیں ہے۔ وزن کے علاوہ کپڑوں میں بھی ان دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ گوریاں تو منی سکرٹ اور مائکرو بلاؤز پہن کر بھی اتنا ہیجان پیدا نہیں کر سکتیں جتنا پنجابی فلم کی ہیروئن اپنی ہاٹ پینٹس سے پیدا کر دیتی ہیں۔ لیکن پنجابی سینما پر بھی آپ نے کسی ثقہ شخص کو اعتراض کرتے نہیں دیکھا ہو گا کہ لباس ایسا کیوں ہے اور ویسا کیوں نہیں ہے۔ شاید مولا جٹ کے ڈر سے برداشت کر کے چپ چاپ دیکھ لیتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم مختصر لباس کو فحش نہیں سنبھلتے۔ صنم بھٹو کی بیٹی آزادے حسین اگر ایک آرٹ فلم میں کام کرتے ہوئے ایسا مغربی لباس پہن لے جو بچوں کی فلموں میں سپر ہیرو لڑکیاں پہنتی ہیں، یا 1956 میں لاہور میں فلمبندی کروانے والی ایوا گارڈنر نے پہنا تھا تو وہ فحاشی کی مجرم ہے۔ حالانکہ آزادے کا لباس اس سے کہیں مہذب ہوتا ہے جو ہمیں پنجابی فلموں میں خواتین کے بدن پر دکھائی دیتا ہے یا جو بھارتی فلموں کے آئٹم نمبر یا عام مناظر میں لڑکیاں پہنتی ہیں۔

کچھ عرصے پہلے فحاشی بند کرنے کے خلاف مہم چلی تھی تو چند افراد نے یہ کہا تھا کہ روک تو دیتے ہیں، مگر پہلے فحاشی کی تعریف تو کر دو کہ کیا ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ ہمیں لباس نہیں بلکہ مشہور پاکستانی خاتون میں فحاشی دکھائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے نہ تو کرینہ میں فحاشی ہے اور نہ کترینہ میں، نہ ونڈر وومن میں نہ ہیرا میں۔ فحاشی صرف جینز جیکٹ اور دوپٹہ پہنے ملالہ میں ہے۔ فحاشی صرف آزادے بھٹو میں ہے۔ خواہ وہ مغرب میں رہتی ہو اور مغربی فلموں میں کام کرتی ہو، پاکستان کی شہری بھی نہ ہو، نہ ادھر آتی جاتی ہو، مگر ہمیں صرف اسی کے لباس میں فحاشی دکھائی دے گی، ویسا ہی لباس پہنے ہالی ووڈ کی دوسری ہیرئنوں میں نہیں۔ فلم اس کی ولایت میں بننی ہے، فلم اس کی ولایت میں چلنی ہے، مگر ہمیں اس پر اعتراض ہے، ان فلموں پر نہیں جو ہمارے سینما گھروں میں چل رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar