مقام اقبال اور اقبال فراموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کلام نہیں کہ علامہ اقبال ہمارے عہد کی ایک نابغہ روزگار شخصیت ہیں ۔ ان کی شاعری، ادب ، علم کلام، اجتہاد ات اور سیاسی تصورات ہماری علمی و سیاسی زندگی کا عظیم الشان سرمایہ ہیں۔ اقبال کا غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تصورات و خیالات کے اظہار کے لیے بنیادی طور پر ادب اورشاعری کی زبان استعمال کی جس میں پیغام دینا ، شعری محاسن کو قائم رکھنا اور شعریت کو نبھا لے جانا آسان نہیں ہوتا ہے ۔، انہوں نے اپنے پیغام اور فکر کے اظہار کے لیے جس طرح شاعری کے محاسن کو قائم رکھا اور شعریت کے تقاضوں کو نبھایا ہے، یہ مشکل کام ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بلا شبہ اقبال دنیا کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو اس صنف اور طرز میں آخری درجے تک کامیاب رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں شعریت کے محاسن اور مقصد کے ساتھ سوز، حسن، سرور ، نغمگی اور آہنگ کے ساتھ تخلیق کا اعلیٰ معیار بھی موجود ہے اور یہ میعار انہوں نے فارسی اور اردو کلام دونوں میں برقرار رکھا ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف شعری لحاظ سے یہ ایک بلند پایہ کلام ہے جسے ہم دنیا کے بہترین ادب میں پیش کرسکتے ہیںبلکہ فن اور شعریت کے لحاظ سے بھی اگردنیا میں چند لوگوں کا انتخاب کیا جائے توبھی اقبال کو اس سے الگ رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اقبال نے اپنے کلام میں جس طرح الفاظ کا انتخاب کیا ہے، جس طرح جملہ سازی کی ہے اور جس طرح اپنے خیالات کو ایک خاص تخیل پر جا کر بیان کیا ہے وہ ان کی علمی و فنی عظمت کی دلیل ہے ۔ ان کی شاعری کے مختلف ادوار ہیں، بانگ ِدرا وہ دور ہے جس میں انہوں نے مناظر فطرت کی تصویر کشی کی ہے۔ اس کے بعد وہ بال جبریل اور دیگر کلام میں جس میعار اور فکر کی دعائیہ نظمیں موجود ہیں وہ جو اپنی طرز کی منفرد چیز ہیں۔

جاوید نامہ ان کا ایک شاہکار ہے جسے عالمی ادب میں نہایت فخر کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں انہوں نے اپنے افکار و خیالات کی پوری دنیا تمثیل کے انداز میں بیاں کی ہے۔ جاوید نامہ دراصل ایک جدید معراج نامہ ہے جس کی ابتداءمناجات سے ہوتی ہے جس میں اقبال خدا سے مختلف نوع کی استدائیں کرتے ہیں اور اس دعا پر ختم کرتے ہیں کہ میں بوڑھوں سے مایوس ہوں، میرا تخاطب آنے والے کل سے ہے اس لیے خداوند! جوانوں کے لیے میرا کلام سمجھنا آسان کردے۔وہ بحیثیت زندہ رو آسمانوں کا سفر کرتے ہیں اور رومی کے ساتھ وہ مختلف افلاک پر جاتے ہیں ہیں اور مختلف شخصیات سے ملتے ہیں ۔ بقول سید نذیر نیازی اقبال ” جاوید نامہ “ میں مزید ارواح سے ملاقاتوں کا اضافہ کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ جاوید نامہ کے اختتام پر وہ نئی نسل کے جوانوں سے خطاب کرتے ہیں اور روئے سخن اپنے فرزند جاوید کی طرف ہے۔ خطاب کے ابتداءمیں وہ لا الہ کی قوت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سورج و چاند کی گردش ، نماز ، روزہ اور دیگر عبادات میں سوز و نور لا الہ ہی کے سبب ہے۔ وہ مومن کی خصوصیات بیان کرتے ہیں کہ ایک مومن غلام، غدار اور بھکاری نہیں ہوسکتا ۔ قرآن کی قربت اور خودی کا حامل مسلمان کبھی دیدہ دانستہ گم کردہ راہ نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک عظیم شاعر کے ساتھ ساتھ اقبال ایک بلند پایہ مفکر بھی ہیں جو مسلمانوں کے مسائل کو ایک خاص نظر سے دیکھتے ہیں ، مسلمانوں کے علم میں ایک خاص قسم کی تبدیلی و تجدید (Reformation) کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں ، اجتہاد کو مسلمانوں کی زندگی میں جاری و ساری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک تصور تو یہ تھا کہ بر صغیر میں مسلمانوں کی کوئی ریاست قائم ہو ۔دوسرا یہ کہ وہ پورے عالم اسلام کو زندہ و بیدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہماری پرانی عظمت کی بازیافت کے لیے ان کے دل میں بے پناہ تڑپ ہے۔ جس کے لیے وہ ترکِ دنیا کی بجائے ترک فرنگ کی نصیحت کرتے ہیں۔ اقبال اقوام مشرق کو مغربی استعمار کی قید سے رہائی کی جو تدابیر بتاتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اقوام مشرق کو مغرب کی نو استعماری سازشوں سے خبردار رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے کھدر کو اغیار کے ریشم پر ترجیح دینا اور اپنے خام مال و وسائل کی حفاظت کرنا ہے۔دین کے ساتھ ان کی محبت بڑی غیر معمولی ہے۔ ان کی زندگی ، کلام اور خطوط کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری درجے کے مخلص انسان ہیں کہ جس کا ظاہر و باطن ایک ہے، وہ اندر سے جو کچھ سوچتے ہیں وہی ان کی زبان پر آجاتا ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں بھی وہ اظہار خیال کرتے ہیں وہ ان کے حلق سے اوپر سے نہیں نکلتی بلکہ ان کی روح کے اندر سے اور دل و دماغ کے آماق سے نکلتی ہے اور ان کی پوری شخصیت دوسروں کو منتقل ہوتی ہے۔

 اقتصادیات اور سرمایہ دار و مزدور اور جاگیر دار اور کسان کا تعلق اور مختلف معاشی نظاموں کا تقابل بھی اقبال کا اہم موضوع رہا ہے ۔ ان کی پہلی تصنیف شعر و ادب اور فلسفہ و تصوف کی بجائے ” علم الاقتصاد“ کے نام سے تھی جو ۳۰۹۱ءمیں شائع ہوئی تھی۔

اقبال نے سرمایہ دار اور مزدور کے تعلق کو اپنی نظم ” قسمت نامئہ سرمایہ دار و مزدور“ کو جس طرح بیان کیا ہے دنیائے ادب میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اسی طرح اشتراکیت کو انہو ں نے اپنی نظم ” لینن خدا کے حضور “ ، ”فرشتوں کا گیت “ اور ” فرمان خدا، فرشتوںسے“ میں جس طرح بیان کیا وہ بھی خاصے کی چیز ہے۔ اقبال نے کسان و مزدور کو جاگیر دار اور سرمایہ دار کے ظلم سے آزاد کرانے کی خاطرشعر و حکمت اور سیاست و معیشت سے خوب کام لیا ۔ یہاں تک کہ وہ برصغیر میں اسلام کے مستقبل کو مسلم کسان کی آزادی سے مشروط کرتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے اپنی شاعری میں کسان اور مزدور کی مظلومیت اور غلامی کا درد ناک نقشہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کسان اور مزدور کو خواب غفلت سے جگا کر جاگیردار اور سرمایہ دار سے بغاوت کا درس دیا ہے۔

موجود دور میں ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے ایسے میں ہمارے ارباب اختیار کو چاہیے کہ اقبال فراموشی کا رویہ ترک کریں اور ان کی کتاب ”علم اقتصاد “ اور ”پس چہ باید کرد“ کے حکمت و فلسفہ پر غور کرنا چاہیے۔ تاکہ پاکستان میں ایک عادلانہ معاشی و سماجی نظام کے قیام کی سنجیدہ کوشش ہوسکے۔ اقبال نے قرآنی تعلیمات کے عمیق مطالعے کے بعد جو فکری اثاثہ رقم کیا ہے اس کی موجودگی میں زوال اور پسماندگی کا ہونا ناقابل فہم ہے۔ کاش جس طرح اقبال کا ریاست کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اسی طرح ان کی یہ دعا بھی قبولیت کا شرف پا سکے:

خدایا! آرزو میری یہی ہے

میرا نورِ بصیرت عام کردے

)کالم کے لیئے جناب جاوید احمدغامدی صاحب کی گفتگو اور جناب فتح محمد ملک صاحب کی کتاب ”اقبال فراموشی“ سے استفادہ کیا گیا ہے۔(


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).