سلسلہ سالاریہ اور اس کے ذیلی سلاسل


سلسلہ سالاریہ یوں تو براہ راست اپنے فیوض و برکات سے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کو مستفیض کرتا رہاہے۔ سلسلہ سالاریہ کے تین سپوتوں ایوبیہ، ضیاعیہ اور پرویزیہ نے طویل مدت تک قوم کی خدمات کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کی ہے، جس کے اثرات شدت کے ساتھ اب تک محسوس کیے جارہے ہیں۔ سلسلہ سالاریہ وطن عزیز میں رونق ا فروز ہونے کے لیے ا پنے ذیلی سلاسل کی طریقت کا سہارا بھی لیتی ہے، سلسلہ عظمیہ اس کی روشن مثال ہے۔ سلسلہ سالاریہ کے مشہور و مقبول ذیلی سلاسل میں جہاں عظمیہ سر فہرست ہے، وہیں امریکیہ، جماعتیہ و جہادیہ، شریفیہ، پیپلزیہ، الطافیہ کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ اور فی زمانہ عمرانیہ و کمالیہ بھی اپنے عروج پر ہیں اور کمال مہار ت سے اپنے کمالات کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

سلسلہ سالاریہ کے سپوت اپنے ذوق و شوق اور طبعی رجحان کے تابع ہوکر اپنے ذیلی سلاسل اور طریقت کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ سلسلہ سالاریہ کے ایک نامور سپوت اول ایوبیہ، ذیلی سلسلہ امریکیہ کی طریقت پر عمل پیرا رہے اور تا آخرا سی کادم بھرتے رہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ذیلی سلسلہ جمہوریہ کی طریقت نے عوام میں کچھ جڑیں پکڑنے کا آغاز ہی کیا تھا، جو سلسلہ سالاریہ کے ایک اور سپوت ضیاعیہ کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ذیلی سلاسل امریکیہ اور جماعتیہ کی طریقت اپناتے ہوئے، جہاں جمہوریہ کو نکال باہر کیا، وہیں عظیم و پر وقار سلسلہ عظمیہ کی طریقت سے جمہوریہ کے منتخب پیر صاحب کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اور اس کے بعد ڈٹ کر ذیلی سلاسل امریکیہ، جماعتیہ و جہادیہ کی طریقت کو اپنایا اور اس طریقت کادائرہ پڑوسی و بے بس ملک افغانستان تک وسیع کرنے کی کوشش کی، ان کی اس کوشش کا خمیازہ قوم اب تک بھگت رہی ہے۔

سلسلہ ضیاعیہ کے پیر و مرشد قوم کا قیمتی وقت اچھی طریقے سے ضائع کرنے اور وطن عزیز میں افراتفری اور بدترین پیمانے پر ہر طرح کی ابتری کی بنیاد ڈال کر، ذیلی سلسلے امریکیہ کی سازش کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے ایسے غائب ہوئے کہ روئے زمین پر، ا ن کو ڈھونڈنا اچھے اچھوں کے بس میں نہ رہا۔ ضیاعیہ دور میں، سلسلہ جماعتیہ کی فرمائش پر غیر جماعتی انتخابات منعقد کرکے وطن عزیز میں عوام پر وہ افراد مسلط کردیے گئے، جن سے پیچھا چھڑانے کی فی الوقت و فی الحال کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ضیاعیہ دور کے خاتمے کے بعد سلسلہ سالاریہ کے سپوت اول نے فیصلہ کیاکہ ذیلی سلسلے جمہوریہ کو بھی موقع دینا چاہیے۔ اگر جمہوریہ نے آنکھیں دکھائیں تو سلسلہ سالاریہ کے کمانڈر۔ ان۔ چیف کو اختیار حاصل ہے کہ جب چاہے، جمہوریہ کا ڈبہ گول کردے۔ تین دفعہ چند قباحتوں کے ساتھ، اس اختیار کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ لیکن سلسلہ شریفیہ کے پیر و مرشد نے اپنے مریدوں کی مدد سے کمانڈر۔ ان۔ چیف کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے اس حق سے دست بردار ہوجائیں۔

نتیجے میں سلسلہ سالاریہ کے سپوت اول پرویزیہ کو براہ راست مداخلت کرنا پڑی اورجمہوریہ و شریفیہ کو پابند سلاسل کردیا گیا۔ جمہوریہ کو تو تین سال بعد مشروط رہائی مل گئی لیکن شریفیہ کے پیر و مرشدکو خادم الحرمین و شریفین کے پاس ٹھکانہ ملا۔ سلسلہ پرویزیہ کے دور میں بھی طریقت امریکیہ پر عمل کیا جاتا رہا اور سلسلہ امریکیہ کے پیر و مرشد نے تو ایک طرح میں پرویزیہ کو لنگوٹیا یار بھی قرار دے دیا۔ لیکن سلسلہ پیپلزیہ، جس کی پیرانی صاحبہ کے بیرونی مراسم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے، پرویزیہ کو مجبور کردیا کہ مغضوب حقیقی جمہوریہ کو بحال کیا جائے۔ گو کہ حقیقی جمہوریہ بحال کرانے کی پاداش میں قبل از وقت اس جہان فانی سے کوچ کرنا پڑا۔

سلسلہ پیپلزیہ نے جیسے تیسے اپنا دور بھگتایا اور بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی میں اپنی عافیت جانی اور زمام اقتدار شریفیہ کے حوالے کرکے جنوب کی راہ اختیار کی۔ سلسلہ شریفیہ کے پیر و مرشد پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی طریقت نافذ کرنے میں مصروف تھے اور کسی سلسلے کو خاطر میں نہیں لارہے تھے۔ جس کا سلسلہ سالاریہ کو دکھ تھا، اس لیے اپنے ذیلی، لیکن ذرا نئے سلسلے عمرانیہ کی طرف دست شفقت بڑھایا اور کمال شفقت سے پیٹھ ٹھونک کر میدان میں آنے کا مشورہ دیا۔ سلسلہ عمرانیہ کے پیر و مرشد کمر میں درد کے باوجود کمرکس کر میدان میں آگئے اورسلسلہ شریفیہ کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سلسلہ عمرانیہ نے سلسلہ عظمیہ میں سلسلہ شریفیہ کے پیر مرشد کی ایسی شکایت لگائی کہ سلسلہ شریفیہ تو قائم ہے لیکن پیر و مرشد خانقاہ میں قدم رکھنے سے محروم کر دیے گئے۔ دوسری طرف سلسلہ سالاریہ نے ذیلی سلسلہ الطافیہ کا ناطقہ بند کرکے سلسلہ کمالیہ کی بنیاد رکھی۔ اب دور یہ چل رہا ہے کہ سالکین جوق در جوق اپنے سلسلوں سے نکل کر سلاسل عمرانیہ اور کمالیہ میں شامل ہوکر بدنامی کے داغ دھو رہے ہیں۔

اسی لیے سلسلہ الطافیہ سے اعلانیہ منحرف خلیفہ فاروق ستار نے سلسلہ شریفیہ کے پیر و مرشد نواز شریف کو کمال مشورے سے نوازاہے کہ آپ کے پاپ صرف سلسلہ کمالیہ میں شمولیت کے بعد دھل سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ سلاسل کیا گل کھلاتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ یہ سلسلے کبھی ختم بھی ہوں گے کہ نہیں یا یونہی عوام کے مصائب کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Facebook Comments HS